قاضی حسین احمد کی ہمہ جہت شخصیت اور زندگی کے چند دل نواز اور تابناک پہلو(7)

قاضی حسین احمد کی ہمہ جہت شخصیت اور زندگی کے چند دل نواز اور تابناک پہلو(7)
قاضی حسین احمد کی ہمہ جہت شخصیت اور زندگی کے چند دل نواز اور تابناک پہلو(7)

  



جہاد کشمیر کے پیغام کو عالم اسلام کی سطح تک اجاگر کرنے لئے مظفر آبادمیں اعلیٰ سطحی عالمی اسلامی کانفرنس کا انعقاد:یوم یکجہتی کشمیر کے ذریعے تحریک آزادی کشمیر کے پیغام کو آزاد کشمیر اور پاکستان کے ایک ایک فرد تک پہنچانے کے بعد اب اگلا مرحلہ تحریک آزادی کشمیر کے پیغام کو امت مسلمہ کے ایک ایک فرد تک عام کرنے کا تھا۔ اس مقصد کے لئے مرکزی جہاد کشمیر کمیٹی کی میٹنگ میں یہ طے پایا تھا کہ یہ کام دو مرحلوں میں انجام دیا جائے گا، پہلے مرحلے میں آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ایک اعلیٰ سطحی عالمی اسلامی کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں عالم اسلا م کی تمام اسلامی تحریکوں کی قیادت کو مدعوکیا جائے گا ، جبکہ دوسرے مرحلے میں قاضی حسین احمد کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد تمام مسلم ممالک کا دورہ کر کے وہاں کی حکومتوں اور عوام کو مسئلہ کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کی اہمیت، تقاضوں اورعالم اسلام کے خلاف بھارتی عزائم سے آگاہ کرے گا ۔

مرکزی جہاد کشمیر کمیٹی کے اس فیصلے کے مطابق مئی 1990ءکے اوائل میں مظفر آباد میں قاضی حسین احمد کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی عالمی اسلامی کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں تمام عالمی اسلامی تحریکوں کے قائدین اور نمائندے شریک ہوئے۔عالمی اسلامی تحریکوں کے ان قائدین میں کویت کی اسلامی تحریک جمعیة الاصلاح الاجتماعی کے رہنما ڈاکٹر جاسم المہلہل اور عالم اسلام کے ممتاز خطیب شیخ احمد القطان ،متحدہ عرب امارات کی اسلامی تحریک کے رہنما عمرالمدفع اور احمد رستمانی بطور خاص قابل ذکر ہیں، جبکہ مصر سے اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد حامدابو النصر اوردوسرے قائدین کو اس کانفرنس میں شرکت کی اجازت نہیں ملی، لہٰذاان کی نمائندگی پاکستان میں اخوان المسلمون کے نمائندے احمد منصور کاتب نے کی، اس کانفرنس میں تمام عالمی اسلامی تحریکوں کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ دنیا کی تمام عالمی اسلامی تحریکیں آزادی اور حق خود ارادیت کی جدوجہد میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔جہاد کشمیر کے پیغام کو عالم اسلام کی سطح تک اجاگر کرنے لئے قاضی حسین احمد کی قیادت میں اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کا مسلم ممالک کا دورہ: جیسا کہ جہاد کشمیر کی مرکزی کمیٹی میں طے پایا تھا کہ آزاد کشمیرکے دارالحکومت مظفر آباد میں عالمی اسلامی کانفرنس کے انعقاد کے بعد عالم اسلام کو تحریک آزادی کشمیر اور مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور تقاضوں سے آگاہ کرنے کے لئے قاضی حسین احمد کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد مسلمان ممالک کا دورہ کر کے وہاں کی حکومتوں اور اسلامی تحریکوں کو مسئلہ کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کی نوعیت اور اہمیت سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں بھارت کے گمراہ کن پروپیگنڈے کا توڑ بھی کرے گا، چنانچہ اس سلسلے میں جو اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد تشکیل پایا، اس میں حکمران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی بھی شامل تھے۔ پروگرام کے مطابق قاضی حسین احمد کی قیادت میں اس وفدنے ترکی، مصر ، سوڈان ،کویت اور متحدہ عرب امارات وغیرہ کا دورہ کیا ۔

اس پارلیمانی وفد کے حوالے سے پاکستان کی وزارت خارجہ نے تمام متعلقہ ملکوں میں اپنے سفارت خانوں کو مطلع کر دیاتھا کہ وہ اس پارلیمانی وفد کی متعلقہ حکومتوں کے ذمہ داروں سے میٹنگوں کا شیڈول پہلے سے طے کر لیں۔ یوں اس پارلیمانی وفد کی حکومتوں کے اعلیٰ سطحی ذمہ داروں سے قاضی صاحب اور دوسرے ارکان پارلیمانی وفد کی میٹنگیں طے ہو چکی تھیں۔اس کے ساتھ ساتھ مرکز جماعت اسلامی پاکستان کی طرف سے بھی ان ممالک کی اسلامی تحریکوں کو اس پارلیمانی وفد کے دورے کا شیڈول بھیجا جا چکا تھا اور ان کے قائدین سے قاضی حسین احمد اور دوسرے اراکین پارلیمانی وفد کی ملاقاتیں طے ہو چکی تھیں، یوں یہ پارلیمانی وفد جس ملک میں بھی پہنچا، وہاں کی حکومت اور وہاں کی تحریک اسلامی کے ذمہ داران سے اس کی ملاقاتوں کے شیڈول پہلے سے طے پا چکے تھے، چنانچہ اس شیڈول کے مطابق وفد نے ان ممالک کی حکومتوں اور اسلامی تحریکوں کے ذمہ داران سے ملاقاتیں کر کے ان کو مسئلہ کشمیر کی نوعیت و اہمیت سے بھی آگاہ کیا اور بھارت کے اسلام اور عالم اسلام کے خلاف عزائم سے بھی آگاہ کیا، اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیرمیں آٹھ لاکھ سے زیادہ بھارتی قابض فوجوں کے ہاتھوں وہاں کے نہتے مردوں ، عورتوں اور بچوں پر ڈھائے جائے جانے والے مظالم کا ذکر بھی کیا اور یہ بھی بتایا کہ کس طرح بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں کشمیر کی جنت نظیروادی اب موت کی وادی میں تبدیل ہو چکی ہے ۔

قاضی حسین احمد ؒ علامہ اقبال کی فکر کے ترجمان اور علمبردار کی حیثیت سے علامہ اقبال ؒ کا شمار بیسویں صدی کے احیائے اسلام کی عالمی تحریک کے عظیم رہنما¶ں میں ہوتا ہے، انہوں نے اپنے اردو اور فارسی کلام کے ذریعے اس وقت کے جدید تعلیم یافتہ طبقے کی مغربی تہذیب سے مرعوبیت پر مدلل انداز میں تنقید کر کے ان کے اسلام پر اعتماد کو بحال کیا اور اسلام کے ایک روشن مستقبل کا پیغام دے کر اس مایوسی کا خاتمہ کیا جو اس وقت مغربی قوتوں کی سیاسی اور تہذیبی یلغار کے نتیجے میں دنیائے اسلام پر طاری تھی ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے برصغیر میں مسلمانوں کے لئے ایک جداگانہ ریاست کا تصور بھی پیش کیا ۔ قاضی حسین احمد چونکہ خود بھی احیائے اسلام کی ایک عظیم تحریک سے وابستہ تھے۔ علاوہ ازیں انہیں فارسی زبان پر بھی پوری طرح سے قدرت حاصل تھی،اس لئے وہ تحریک احیائے اسلام کے سلسلے میں علامہ اقبال ؒ کے پیغام اور کلام کا پوری طرح ادراک رکھتے تھے۔ وہ ان لوگوں سے مختلف تھے جو بالعموم علامہ اقبال ؒ کے یوم وفات یا یوم پیدائش کے موقع پر ایک آدھ تقریر کر کے یا ایک آدھ مضمون لکھ کر علامہ اقبال ؒ کو خراج تحسین پیش کرنے کو کافی سمجھتے ہیں بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ فکر اقبال ؒ قاضی حسین احمد کے خمیر میں پوری طرح رچی بسی ہوئی تھی۔ کوئی بھی موقع ہوتا، وہ اپنی گفتگو¶ں، تقریروں اور خطابات میں قرآن و سنت کے حوالوں کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال ؒ کے اشعار کو بھی باقاعدگی سے پیش کرتے، بلکہ اکثر اوقات علامہ اقبال ؒ کے اشعار کو قرآن و حدیث کے حوالوں کی مزید تشریح کے لئے پیش کرنے کا اہتمام کرتے اور قاضی حسین احمد کے علامہ اقبال ؒ کے اُردو ،فارسی اشعار کے مختلف مواقع پر استعمال کی شہادت وہ سب لوگ دیں گے، جنہیں قاضی حسین احمد کے ساتھ ملاقاتوں اور گفتگو کی سعادت حاصل رہی ہے یا جنہوں نے ان کے خطابات سنے ہوں گے ۔ (جاری ہے) ٭

  قاضی حسین احمد اتحاد اُمت کے نقیب کی حیثیت سے: قاضی حسین احمد نے بحیثیت امیر جماعت ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد جہاں دوسری دینی جماعتوں کے ساتھ روابط پیدا کر کے جماعت اسلامی اور ان جماعتوں میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دُور کیا، وہاں پاکستان کے مختلف مکاتب فکر، خصوصاً شیعہ، سنی کے درمیان محاذ آرائی کو ختم کرنے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔ اِس سلسلے میں قاضی حسین احمد نے مختلف دینی و مذہبی جماعتوں اور مسالک کے قائدین سے ذاتی تعلقات پیدا کر کے انہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد اور منظم کرنے کی کوشش کی۔ اِس سلسلے میں قاضی حسین احمد نے جس حکمت عملی کو اپنے مقصد زندگی کے طور پر اپنایا، وہ اتحاد الامہ علی الکتاب والسنہ کا شعار ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کے سلسلے میں قاضی حسین احمد نے مختلف مکاتب فکر کے جن قائد ین سے ربط و تعلق استوار کیا، ان میں بریلوی مکتب فکر کے قائد مولانا شاہ احمد نورانی، دیوبندی مکتب فکر کے قائدین مولانا فضل الرحمن صاحب اور حافظ حسین احمد صاحب اور جماعت اہل حدیث کے صدر پروفیسر ساجد میر صاحب اور شیعہ راہنما علامہ ساجد نقوی بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ چنانچہ قاضی صاحب ؒکی انہی مساعی کے نتیجے میں پہلے ملی یکجہتی کونسل وجودمیں آئی، جس کے نتیجے میں شیعہ، سنی اور دیوبندی، بریلوی مکتب فکر کے درمیان جاری محاذ آرائی اور قتل و غارت کا بڑھتا ہوا سلسلہ مکمل طور پر رک گیا ۔ اگرچہ درمیان میں کچھ عرصے کے لئے ملی یکجہتی کونسل بوجوہ فعال نہ رہ سکی، لیکن اپنی وفات سے کچھ پہلے انہوں نے اس مقصد کے لئے ملی یکجہتی کونسل کو فعال کر کے اس کے زیر اہتمام اسلام آباد میں پوری دُنیائے اسلام کے علما ئے ، مشائخ اور قائدین کی ایک عظیم کانفرنس منعقد کی، جس میں ملائشیا ، ترکی ، تاجکستان ، افغانستان ، ایران اور دنیا کے دیگر مسلمان ممالک سے سینکڑوں کی تعداد میں علماءو مشائخ اور اسلامی تحریکوں کے قائدین نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس اتحاد عالم ا سلامی کی طرف ایک اہم قدم کی حیثیت رکھتی ہے ۔ امید ہے کہ قاضی حسین احمد کی وفات کے بعد اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کا سلسلہ جاری رہے گا، انشا اللہ ۔متحدہ مجلس عمل کا قیام :دینی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد اور منظم کرنے کے لئے قاضی حسین احمد نے ملی یکجہتی کونسل کے علاوہ متحدہ مجلس عمل کے نام سے ایک انتخابی اتحاد بھی تشکیل دیا، اس اتحاد کے نتیجے میں 2002ءکے انتخابات کے دوران متحدہ مجلس عمل پاکستان ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں برسر اقتدار آئی اور وہاں اس نے اپنے منشور کے مطابق صوبے کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے سلسلے میں جو اقدامات کئے ، دُنیا کے کئی بین الاقوامی اداروں نے انہیں مثالی قرار دیا ۔ بعد میں بدقسمتی سے بوجوہ یہ انتخابی اتحاد قائم نہ رہ سکا۔عالمی اسلامی تحریکوں کے ممتاز قائد کی حیثیت سےقاضی حسین احمد کی عظیم دینی اور ملی خدمات کا یہ تذکرہ نامکمل رہے گا ،اگر ہم اس میں قاضی حسین احمد کے عالمی اسلامی تحریکوں میں مقام اور اس حوالے سے ان کے کردار کا تذکرہ نہیں کریں گے۔ قاضی حسین احمد نہ صرف اسلام کی ایک عظیم تحریک جماعت اسلامی کے سربراہ کی حیثیت سے عالمی اسلامی تحریکوں کے قائدین میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے، بلکہ ذاتی حیثیت میں بھی ان کا ان تحریکوں کے قائدین میں ایک ممتاز مقام تھا، جس کا اندازہ صرف اسی شخص کو ہو سکتا ہے، جسے قاضی حسین احمد کے ہمراہ عالمی اسلامی تحریکوں کے زیراہتمام مختلف عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی سعادت حاصل رہی ہو۔ ان عالمی اسلامی کانفرنسوں میں قاضی حسین احمد کو ہمیشہ مہمان خصوصی کی حیثیت حاصل ہوتی تھی۔ قاضی حسین احمد القدس فا¶نڈیشن کے بانی ممبران آف ٹرسٹیز میں سے تھے۔ اس فا¶نڈیشن کے سربراہ عالم اسلامی کے ممتاز مفکر اور سکالر علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی ہیں ۔ مجھے بھی اس فا¶نڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا رکن ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ مجھے با رہا قاضی حسین احمد کے ہمراہ القدس فا¶نڈیشن کے اجلاسوں میں شرکت کی سعادت حاصل رہی ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ان اجلاسوں میں قاضی حسین احمد کو ایسی خصوصی حیثیت حاصل ہوتی تھی جو ان کے علاوہ کسی دوسرے عالمی رہنما کو حاصل نہیں ہوتی تھی۔ اسی طرح قاضی حسین احمد انٹرنیشنل یونین آف مسلم سکالرز کی مجلس اساسی کے ممبربھی تھے۔ اس مجلس کے سربراہ بھی ڈاکٹر علامہ یوسف القرضاوی ہیں، مجھے اس مجلس کی جنرل کونسل کا رکن ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ۔ مَیں نے اس عالمی تنظیم کے اجلاسوں میں بھی ہمیشہ قاضی حسین احمد کے خصوصی احترام و مقام کا مشاہدہ کیا ہے۔ اسی طرح مجھے ایک بار سوڈان میں بھی قاضی حسین احمد کے ہمراہ ایک عالمی اسلامی کانفرنس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ۔ اس کانفرنس میں سوڈان اسلامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر حسن ترابی اور سوڈانی صدر عمر بشیر کی طرح قاضی حسین احمد کو بھی خصوصی پروٹوکول حاصل تھا۔ مزید برآںاسی طرح مجھے قاضی حسین احمد کے ہمراہ ترکی کی سعادت پارٹی کے زیر اہتمام سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں استنبول کی فتح کے سلسلے میں منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کی سعادت بھی حاصل رہی ہے۔ وہاں مَیں نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ قاضی صاحب رحمہ اللہ کو اس کانفرنس میں مہمان خصوصی کی حیثیت حاصل تھی۔ عالمی اسلامی تحریکوں کے قائدین میں قاضی حسین احمد کے مقام و مرتبے کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب کہیں دُنیا میں مختلف عالمی اسلامی تحریکوں کے درمیان کوئی اختلاف پیدا ہوتا تو اس سلسلے میں ثالثی کے لئے ہمیشہ قاضی حسین احمد کی طرف رجوع کیا جاتا رہا۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ آج سے کچھ عرصہ پہلے جب سوڈان میں وہاں کی اسلامی تحریک کے دو رہنماﺅں ڈاکٹر حسن ترابی اور صدر عمر بشیر کے درمیان اختلاف پیدا ہوا تو اس وقت ثالثی کے لئے قاضی حسین احمد کو دعوت دی گئی۔ اسی طرح جب ترکی میں ملی سلامت پارٹی کے بانی سربراہ پروفیسر نجم الدین اربکان مرحوم اور موجودہ وزیراعظم رجب طیب اردگان کے درمیان اختلاف پیدا ہوا تو اس سلسلے میں بھی ثالثی کے لئے قاضی حسین احمد کو تکلیف دی گئی۔ اسی طرح جب افغانستان میں جناب گلبدین حکمت یار اور پروفیسر برہان الدین ربانی کے درمیان اختلاف رائے پیدا ہوا تو اس موقع پر بھی قاضی حسین احمد کو دونوں کے درمیان ثالثی کے لئے تکلیف دی گئی۔ 

مزید : کالم