سیاسی انتشار کیوں بڑھ رہا ہے؟

سیاسی انتشار کیوں بڑھ رہا ہے؟
سیاسی انتشار کیوں بڑھ رہا ہے؟

  

کیا یہ مقام حیرت نہیں کہ چیئرمین نیب سپریم کورٹ کو احتساب کی راہ میں رکاوٹ قرار دے رہے ہیں،حالانکہ انہیں احتساب کو یقینی بنانے کے لئے قدم قدم پر قانون اور سپریم کورٹ کی ضرورت ہے۔ہمیں تو کوئی ایک بھی ایسا کیس یاد نہیں، جس میں سپریم کورٹ نے کسی شخص کو چھورنے کے لئے نیب یا چیئرمین نیب پر دباﺅ ڈالا ہو،البتہ کرپٹ افراد کو پکڑنے کے لئے ہدایات ضرور جاری کی ہیں۔اب یہ بات تو نیب کے لئے تقویت کا باعث ہونی چاہیے، جسے نیب کے چیئرمین اپنی کمزوری بنا کر پیش کررہے ہیں۔اس حوالے سے انہوں نے صدر مملکت کو جو خط لکھا ہے،وہ دلیل سے عاری ہے۔حالت تو یہ ہے کہ سٹیل ملز کیس سے لے کر رینٹل پاور کیس تک نیب نے کچھوے کی رفتار سے تفتیش کی ہے،بلکہ تفتیش کو بگاڑا ہے۔ ایسے میں یہ کیونکرکہا جا سکتا ہے کہ سپریم کورٹ عجلت میں تفتیش کرنے پر مجبور کرتی ہے،جس کی وجہ سے افسران دباﺅکاشکار ہوجاتے ہیں اور تفتیش بھی غلط کر بیٹھتے ہیں۔دباﺅ کے تحت غلط تفتیش کرنے کی بات شاید انہوں نے کامران فیصل کی موت کو خودکشی ثابت کرنے اور اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لئے کی ہے، کیونکہ چیئرمین اس تفتیش کو سپریم کورٹ میں خلاف حقائق قرار دے کر وزیراعظم اور دیگر بااثر شخصیات کی گرفتاری سے انکار کر چکے ہیں۔بات صرف چیئرمین نیب تک محدود نہیں، دلائل اور حقائق کے برعکس بات کرنے کی روایت ہمارے سیاسی و سماجی کلچر میں جڑ پکڑ چکی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے مطالبے ہوں یا حکومت کے جوابی موقف، سب ہٹ دھرمی کا منہ بولتا ثبوت نظر آتے ہیں۔ملک میں انتخابات کی آمد آمد ہے، اس حوالے سے ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ماحول کو خوشگوار اور نارمل رکھا جائے، تاکہ یہ مرحلہ آسانی سے طے ہو جائے، کسی نکتے پر اختلاف کرنا بھی ہے تو دلیل سے کیا جائے، صرف الزامات در الزامات کے سلسلوں سے ماحول کو کشیدہ اور انتشار زدہ نہ بنایا جائے،مگر اس کے برعکس سب دیکھ رہے ہیں کہ درجہ حرارت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔کہیں دھرنے، کہیں ریلیاں، کہیں عدالتی چارہ جوئی اور کہیں اسمبلیوں میں توتکار معمول بن چکی ہے۔اس انتشار کو بڑھانے میں ”بہاولپور جنوبی پنجاب“ صوبے کے اعلان نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ پیپلزپارٹی اس صوبے کے لئے عجلت تو ایسے دکھا رہی ہے ،جیسے انتخابات سے پہلے اسے عملی جامہ پہنانا ہو، حالانکہ یہ کسی بھی طرح ممکن نہیں، کیونکہ صوبہ بنا تو آئین کے تحت ملک کی اکائیاں بھی بدل جائیں گی، الیکشن کمیشن کے ممبران کی تعداد بھی بڑھے گی، صوبے کا انتظامی انفراسٹرکچر بنانے میں وقت بھی لگے گا اور بہت سی دوسری الجھنیں بھی پیش آئیں گی،جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ انتخابات مقررہ وقت پر نہیں ہو سکیں گے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انتخابات کا التواءکوئی بھی نہیں چاہتا،حتیٰ کہ پیپلزپارٹی بھی مسلسل یہ عزم ظاہر کررہی ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں گے۔جب سب کچھ واضح ہے تو دلیل اور منطق کے بغیر بے پر کی اڑاکر ملکی حالات میں بگاڑ اور انتشار کیوں پیدا کیا جارہا ہے۔رضا ربانی جس غیر آئینی حکومتی سیٹ اپ کے آنے سے ڈر رہے ہیں، آخر اسے روکنے کے لئے اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کی کوششیں کیوں نہیں کی جارہیں؟ جمہوریت کے بلند بانگ دعوﺅں کے باوجود تلخ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں قائدین نے اپنی آمریت قائم کررکھی ہے۔ان کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ، ایک زبان، ایک حکم اور ایک فیصلے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مشاورت اور دلیل سے عاری ان فیصلوں اور رویوں کی وجہ سے ہم سیاسی استحکام سے محروم ہیں۔اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آج ہمیں چاروں طرف ایک ہڑبونگ، نفسانفسی اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس،کی کیفیت نظر آتی ہے۔ ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ پرانے زمانے میں بادشاہ تو دلیل کو مان لیتے تھے، لیکن ہمارے حکمران اور سیاسی قائدین دلیل کو ماننا کسرِ شان سمجھتے ہیں۔اکبر جیسے بادشاہ کی کامیابی کا ایک راز یہ بھی تھا کہ وہ دلیل ملنے پر اپنے فیصلوں کو واپس لینے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتا، نہ اسے انا کا مسئلہ بناتا تھا۔ایک بار اس کے دربار میں آکر ایک شخص نے دہاٹی وی کہ دو کوس کے فاصلے پر جلنے والے ایک امیر آدمی کے چراغ سے اس کی جھونپڑی جل گئی ہے، جس کی وجہ سے اس کا سارا سامان جل کر راکھ ہوگیا ہے۔ اکبر بادشاہ نے یہ سنتے ہی سرسری سماعت کے بعد حکم دیا کہ اس امیر شخص کو گرفتار کیا جائے اور اس سے اس جھونپڑی والے کے نقصان کی تلافی بھی کرائی جائے۔بادشاہ کے کسی وزیریا مشیر کو یہ جرات نہ ہوئی کہ مداخلت کرکے یہ کہے کہ دوکوس دور جلنے والے چراغ سے جھونپڑی کیونکر جل سکتی ہے؟بیربل یعنی اکبر بادشاہ کا مشیرخاص، اس فیصلے پر بہت تلملایا۔ اس نے سوچا کہ بادشاہ کو کسی دلیل کے بغیر غلط ثابت کرنا اسے ناراض کردے گا۔اس نے ایک منصوبے کے تحت بادشاہ کو اپنے ہاں کھانے کی دعوت دی۔اکبر بادشاہ وقت مقررہ پر پہنچ گیا۔کھانے کا کوئی اہتمام اسے نظر نہ آیا۔اس نے بیربل سے سوال کیا تو اس نے کہا سرکار ہنڈیا پک رہی ہے،جلد ہی کھانا آپ کی خدمت میں پیش کردیا جائے گا۔جب کافی دیر گزر گئی اور کھانا نہ آیا تو بادشاہ نے بیربل سے دوبارہ پوچھا، اسے پھر وہی جواب دیا گیا۔اس پر اکبر غصے میں آ گیا اور اس ہنڈیا کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی،بیربل اسی بات کا منتظر تھا۔وہ اکبر بادشاہ کو باہر لے آیا۔جہاں ایک بانس کے اوپر ہنڈیا رکھی تھی اور نیچے ایک دیا جل رہا تھا۔اکبر بادشاہ یہ دیکھ کر غصے میں آ گیا ، اس نے بیربل کو ڈانٹتے ہوئے پوچھا:”یہ کیا مذاق ہے؟کیا دیے سے اور وہ بھی اتنی دور رکھ کر ہنڈیا پک سکتی ہے“؟”حضور!جب دوکوس دور جلنے والا دیا جھونپڑی جلا سکتا ہے، تو بانس پر رکھی ہوئی ہنڈیا کیوں نہیں پکا سکتا“؟.... بیربل نے نہایت تحمل سے جواب دیا۔اکبر کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔اس نے امیر آدمی کو رہا کرنے کا حکم دیا اور اس کے نقصان کی تلافی کے لئے خصوصی احکامات جاری کئے۔کیا ہماری 65سالہ قومی تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسا حکمران آیا جو دلیل کی بنیاد پر اپنے غلط فیصلے واپس لینے پر آمادہ ہوا ہو؟اس سوال کا جواب بلاتردد نفی میں دیا جا سکتا ہے۔ہمارا اندازِ حکمرانی ہو یا اندازِ سیاست، وہ انا پرستی اور ہٹ دھرمی کے گرد گھومتا ہے،حتیٰ کہ اس ہٹ دھرمی اور ذاتی انا کی تسکین کے باعث ہم ملک کا آدھا حصہ بھی گنوا چکے ہیں۔ گزرے برسوں میں آنے والے ہر بحران کے پیچھے یہی دلیل سے عاری رویے کارفرما رہے.... قائداعظمؒ کی وفات اور بعدازاں لیاقت علی خان کی شہادت سے قیادت اور نظام حکومت کے معاملے میں ہم جن بحرانوں کا شکار رہے، ان پر نظر ڈالیں تو یہ تلخ حقیقت ہی سامنے آتی ہے کہ ملک کی قسمت کے فیصلے ہمیشہ ذاتی اور مفاداتی حوالے سے کئے گئے، ان میں زمینی حقائق، قومی تقاضوں اور دلیل و صداقت کو کبھی مدنظر نہیں رکھا گیا۔ایک عام پاکستانی تو یہ سوچ کر حیران رہ جاتا ہے کہ جب تمام سیاسی قوتوں کا مقصد ایک ہے تو پھر ان میں چند بنیادی معاملات پر اتفاق رائے کیوں پیدا نہیں ہوتا۔اس وقت قومی منظرنامے پر نگاہ ڈالیں تو مرغوں کی لڑائی جیسا سماں نظر آتا ہے۔اسی قسم کی ہٹ دھرمی ا ور دلیل سے عاری سوچ کی وجہ سے ملک میں بار بار مارشل لاءآیا اور غیر آئینی تبدیلیوں کی راہ ہموار ہوئی۔ اسی رویے کے باعث ملک میں صحت مندسیاسی کلچر پروان چڑھنے کی بجائے نسلی و لسانی کشیدگی نے جنم لیا، سیاست مشن سے ہٹ کر تجارت بنی، اسمبلیاں قانون سازی کی بجائے ذاتی مفادات کے فیصلوں کی فیکٹریاں اور قومی ادارے کرپشن کی منڈیاں بن کر رہ گئے۔اب جبکہ اسمبلیاں ٹوٹنے میں چند ہفتے رہ گئے ہیں اور قوم نئے انتخابات کے ذریعے تبدیلی کی امید لگائے بیٹھی ہے ، ایک خاص انداز سے انتشار اور بے یقینی کو بڑھایا جارہا ہے۔حیرت اس بات پر ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت اس بے یقینی کو ختم کرنے کے لئے انتخابی روڈ میپ کا اعلان تک نہیں کررہی۔ڈاکٹر طاہر القادری سے مذاکرات کے ذریعے انتخابات اور اسمبلیوں کے حوالے جو اعلانات کئے گئے ہیں ،ان کی وجہ سے بھی سیاسی حلقوں میں بے یقینی بڑھی ہے ۔کیا وجہ ہے کہ حکومت ملک کی بڑی جماعتوں کو چھوڑ کر ڈاکٹر طاہر القادری سے انتخابی روڈمیپ پر مشاورت کررہی ہے؟....کیا یہ بات تعجب خیز نہیں کہ رضا ربانی جیسے پارلیمنٹیرین اور آئینی ماہر، جو حکومت کا حصہ بھی ہیں، غیر آئینی تبدیلیوں کے بارے میں خدشات کااظہار کررہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں مشاورت کا فقدان ہے اور پارٹی کے بڑے رہنماﺅں کو بھی ”اندر“ کی بات معلوم نہیں ہوتی۔ سیاسی منظر پر انتشار کے بلندہوتے شعلوں سے آج ہر پاکستان کوئی ایسی دلیل ڈھونڈنے کا آرزو مند ہے کہ جو اس جنگ کو، جس نے سیاست ہی نہیں،مملکت کے اداروں کی بھی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں، یہ ثابت کرے کہ یہ کوئی ذاتی یا مفاداتی جنگ نہیں، بلکہ اصولوں، جمہوریت کی مضبوطی اور قومی استحکام کے لئے لڑی جانے والی لڑائی ہے، مگر قومی منظرنامے پر اسے ایسی کوئی دلیل نظر نہیں آتی۔خدا کرے ہمارے سیاسی کلچر میں دلیل کے شگوفے پھوٹیں اور انا کے گنبد بے در میں رہ کر قوم کی قسمت کے فیصلے کرنے والی دلیل کی طاقت کو تسلیم کرنے کی مثبت روایت کا آغاز کریں، کیونکہ جس معاشرے سے دلیل کی طاقت رخصت ہو جائے ، اس کی حالت اس قافلے جیسی ہوجاتی ہے،جس پر شب خون مار کر اسے لاشوں اور جلے ہوئے خیموں میں تبدیل کردیا گیا ہو۔  ٭

مزید :

کالم -