پاکستان میں اسرائیلی ایجنٹوں کی سرگرمیاں!

پاکستان میں اسرائیلی ایجنٹوں کی سرگرمیاں!
پاکستان میں اسرائیلی ایجنٹوں کی سرگرمیاں!

  

اس حقیقت سے تو انکار ممکن نہیں کہ چوری اسی گھر میں ممکن ہوتی ہے، جہاں مکین سو رہے ہوں یا مکین جاگ رہے ہوں اور دروازے کھلے ہوں یا پھر دروازے بھی بند ہوں، مکین بھی جاگ رہے ہوں، لیکن گھر کا بھیدی ہی لنکا ڈھانے کی ٹھان لے، لیکن اس گھر کا کیا ہوگا، جہاں یہ سارے محرکا ت بیک وقت کارفرما ہوں ۔ وطن عزیز پاکستان کے اندرونی حالات کچھ ایسی ہی کہانی سنا رہے ہیں ۔ سرحدوں سے لے کر ایوانوں تک اور شاہراﺅں سے لے کر مکانوں تک ،ہر دیوار معصوم بے گناہ شہریوں کے لہو سے سرخ ہے۔ قاتل چوروں کی طرح آتے ہیں ۔ اعلان کرکے ستم ڈھاتے ہیں اور ستم رسیدہ جسموں سے الوداعی سلام لے کر لوٹ جاتے ہیں ، جس کی ایک مثال بلیک واٹر ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس ہے، جس نے لاہور میںدو سیکیورٹی اہلکاروں اور شہری کو نشانہ بنایا تھا۔چند روز قبل لاہورہی میں سیکیورٹی اداروں نے ڈیفنس ہاﺅسنگ سوسائٹی سے ایک اسرائیلی ایجنٹ کو گرفتا رکیا ہے ۔پاکستانی نژاداسرائیلی ایجنٹ کی عمر38 سال اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ماسٹر ڈگری ہولڈرہے،اس کے قبضے سے پاکستان کی حساس تنصیبات کے نقشے ، جدید ہتھیار، خفیہ کیمرے و رابطے کے آلات، سیٹلائٹ نیٹ ورک جدید ڈیوائسز، لیپ ٹاپ ، تکنیکی ماہرین کی تفصیلات برآمد ہوئی ہیں ۔ لیپ ٹاپ سے حاصل شدہ ڈیٹا کے مطابق یہ ایجنٹ یروشلم بیس کمپنی کا ملازم ہے جو بظاہر تعمیر و ترقی کے لئے کام کرتی ہے ۔ ای میل کے وسیع ذخیرے سے یہ ثابت بھی ہوا کہ پاکستان میں سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی حساس نوعیت کی تنصیبات ، وہاں ملازمین و ماہرین کی معلومات اسرائیلی اداروں کو اشتراک کی گئی ہیں۔ان شواہد کے بعد اسرائیلی ایجنٹ کو جب تفتیش کے مراحل سے گزارا گیا تو کئی حیران کن انکشافات سامنے آئے ۔اس نے تسلیم کیا کہ وہ کئی سال سے بدنام زمانہ اسرائیلی ایجنسی موساد کے لئے کام کر رہا ہے ۔ موساد کا پاکستان میں ایک وسیع نیٹ ورک قائم ہے، جسے افغانستان سے کنٹرول کیا جاتا ہے ۔ مزید حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق پاکستانی نژاد یہ اسرائیلی ایجنٹ دہشت گردی کے الزام میں تقریباً اڑھائی سال گوانتانا موبے جیل میں گزار چکا ہے، جہاں اس کی برین واشنگ کی گئی ، بعد ازاں ٹریننگ کی غرض سے افغانستان بھیجا گیا ، گوانتانا موبے سے افغانستان میں سپن بولدک کے سرحدی شہررازک بھیجا گیا، جہاں پر اسے ایک طویل ٹریننگ سے گزارا گیا ۔ حاصل شدہ معلومات کے مطابق اس علاقے میںجدید ترین تحقیقاتی اور تربیتی مراکز قائم ہیں، جہاں خاص طور پر ان عسکریت پسندوں کو تربیت دی جاتی ہے جو پاکستا ن میں کارروائیاں کرتے ہیں ۔ قندھار میں موجود بھارتی قونصل خانہ ان مراکز کی براہ راست نگرانی کرتا ہے ۔ اسرائیلی ایجنٹ نے تسلیم کیا کہ اس تربیتی کیمپ میں اس کے ساتھ تقریباً250پاکستانی موجود تھے، جن میں زیادہ تعداد بلوچستان سے تعلق رکھتی ہے ۔ دوران تفتیش ملزم نے تقریباً200سیکیورٹی اہلکاروں کو قتل کرنے کا اقبال جرم کیا۔ جس میں گجرات میں فوجی کیمپ پر حملہ، خیبر پختونخواپولیس حملہ ودیگر شامل ہیں ۔ ملزم کے قبضے سے کثیر مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی بھی برآمد ہو چکی ہے۔اسرائیلی ایجنٹ نے جو انکشافات کئے ہیں، یقینا وہ کسی بھی محب وطن پاکستانی کے لئے نہایت تشویش ناک ہیں، لیکن جو انکشافات یہ اسرائیلی ایجنٹ آج کر رہا ہے، آج سے تقریباً دوسال قبل سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اپنے ایک تحقیقی مقالے میںپہلے ہی کر چکے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ”کابل کے نزدیک سروبی کے مقام پر جاسوسی کابڑا وسیع نیٹ ورک ہے ،جس کی ذیلی چوکیاں غزنی ، خوست، گردیز ،جلال آباد، اسد آباد اور فیض آباد کے مقامات پر قائم ہیں۔ واخان کے مقام پر درجنوں جدید الیکڑانکس تنصیابات ہیں ،جہاں سے پاکستان ،چین،ازبکستان،ایران،تاجکستان پر نظر رکھی جاتی ہے۔ بلوچستان کے مخالفین کو لشکر گاہ کے مقام پر تربیت دے کر بی ایل اے کے تعاون سے بلوچستان بھیجا جاتا ہی۔ پاکستان کے ساحلی علاقے جیوانی ،کوٹ کلمات کے مقام پر متعین امریکی اہلکار بی ایل اے اور جنداللہ کے تعاون سے دہشت گردی کے منصوبوں کو حتمی شکل دیتے ہیں۔ مند کے مقام سے ایران کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔بحیرئہ عرب میں امریکی جنگی بیڑا اور مسقط میں قائم امریکی جاسوسی مراکز ان کارروائیوں کے لئے ہر قسم کی مدد فراہم کرتے ہیں....جیوانی اور کوٹ کلمات کی چوکیاں پاکستان نے امریکہ کو افغان جنگ کے لئے فراہم کی تھیں، مگر اب یہی چوکیاں بلوچستان اور ایران کے خلاف اعلیٰ پیمانے پر استعمال ہورہی ہیں “۔اس سے قبل ایک اسرائیلی خاتون جو موساد کے لئے باقاعدہ کام کرتی تھی، نہ صرف پاکستان کا خفیہ دورہ کرکے واپس جاچکی ہے، بلکہ اسلام آباد میں اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں ، کئی سفاتخانوں کی تقریبات میں شرکت اور ایبٹ آباد میں اسامہ کمپاﺅنڈ سمیت ان مقامات کی، جہاں جلی حروف میں تصویر لینا منع ہے کے بورڈ آویزاں ہوتے ہیں ،تصویریں اور نقشے و دیگر معلومات انتہائی آسانی سے حاصل کرچکی ہے ۔ اس صحافی خاتون نے اپنی حالیہ کتاب میں اپنے ان احباب کا بھی تعارف شامل کیا ہے، جن کی مدد سے اس نے یہ کام سرانجام دیا۔دہشت گردی سے نبرد آزما پاکستانی عوام اور سیکیورٹی اہلکاروں کے لئے اب یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ تمام تر شواہد اورثبوت ہونے کے باوجود پاکستان کے اندر ہونے والی بیرونی مداخلت کے بارے میں عالمی سطح پر یہ معاملہ کیوں نہیںاٹھایا جار ہا؟ پاکستان کے عوام اور جوان امریکی جنگ کا اس طرح حصہ بنے کہ اب وہی امریکی جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ بن کر رہ گئی ہے ۔ نان نیٹو اتحادی ڈیکلیئر کرنے والے امریکہ کے سامنے یہ سوال تو اٹھانا چاہیے کہ آپ کی ناک کے نیچے جو دہشت گردی کے وسیع انسٹی ٹیوٹ کام کررہے ہیں پہلے ان کا سدباب کریں ،مگر افسوس یہاںصاحبان اختیار و اقتدار ذاتی مفادات کو ملکی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ پاکستان میں موساد کے ایجنٹوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں کسی نئے اور ان دیکھے بحران کی پیش گوئی بھی ثابت ہوسکتی ہیں، کیونکہ اس بدنام زمانہ گروہ کے قدم جہاں جہاں پہنچے، وہاں وہاں مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور تصادم کو خوفناک حد تک فروغ ملا۔ اس کے ساتھ ساتھ موساد نے پوری اسلامی دنیا میں ریاست کے اندر ریاست کے قیام کے فارمولے کوپوری طرح آزمانے کی کوشش کی ، جس کی مثال شام کی حالیہ صورت حال اور بلوچستان کے موجودہ حالات ہیں ۔ اس کے علاوہ نام نہاد طالبان کی جانب سے ہونے والی غیرانسانی و غیر اسلامی کارروائیاںاور دہشت گردوں کے جسموں پر ملنے والے ٹیٹو ز بھی اشارے دیتے ہیں کہ معاملہ صرف ڈرون حملوں کے ردعمل کا نہیں ،بلکہ پس پردہ کچھ اور ہی کھیل کھیلاجارہا ہے ۔ یہ بھی مقام حیرت ہے کہ آئے روز پاکستان کے سرحدی علاقوں اور افغانستان میں نام نہاد طالبان جاسوسی کے الزام میں اپنے ہی بے گناہ شہریوں اور مسلمان بھائیوں کے گلے کاٹتے ہیں، لیکن آج تک کسی بھی اسرائیلی یا امریکی ایجنٹ کو اس ظلم و جبر کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ پاکستانی فورسز کے اہلکاروں کو اغوا کے بعد ہمیشہ دردناک طریقے سے قتل کرتے ہیں ،لیکن یہود و نصاریٰ کے ٹریننگ کیمپوں کی خود ہی حفاظت بھی کرتے ہیں ۔ اب کفر ویہود و نصاریٰ کے ٹریننگ کیمپوں سے برآمد ہونے والا فساد اگر جہاد کا مقدس نام اختیار کرے تو کیا اس کی حقیقت بدل جائے گی ؟ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ امریکی سی آئی اے کے نمایاں نیٹ ورک جو قطر ،یو اے ای،مسقط میں کام کر رہے ہیں، ان جنگجوﺅں کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوچکے ہیں کہ آپ حقیقی اسلام کی خدمت کررہے ہیں۔ اسی طرح افغانستان میں موجودسی آئی اے کے ٹریننگ کیمپ پر بھی دکھاوے کے لئے اسلامی پرچم نصب ہیں۔ یہ بھی قابل غور بات ہے کہ پاکستان کے ایک بڑے عالم دین، جو پاکستان کے دفاع کی قسمیں کھاتے نظر آتے ہیں، وہ بھی اس ٹریننگ کیمپ کا بالواسطہ حصہ ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں پر ہونیوالے تشدد اور غیر انسانی سلوک پر غور کریں تو یہ جیلیں گوانتاناموبے کی برانچیں دکھائی دیتی ہیں ۔ حال ہی میں اسرائیل کی ایک جیل میں قیدیوں سے ہونے والے غیر انسانی سلوک کی تصاویر سامنے آئی ہیں ۔ جیلوں میں قیدیوں کے جسموں کودہکتے ہوئے لوہے سے داغ کر ان پر نمبر لگائے جاتے ہیں ۔ کئی کئی برہنہ قیدیوں کو گلے میں زنجیر ڈال کر جانوروں کی طرح کھونٹے سے باندھ کر رکھا جاتا ہے۔خونخوار کتوں کے سامنے زندہ انسانوں کو بطور خوراک پیش کیا جاتاہے ۔گندگی سے بھرے تھیلے قیدیوں کے چہروں پر چڑھا دیئے جاتے ہیں ۔ گوانتانا موبے کے بعد اسرائیلی جیلوں میں ہونے والا یہ سلوک انسانیت کے خلاف امریکہ و اسرائیل کے خوفناک چہروں کو بے نقاب کرتا ہے ۔ ایک ایسی غیر قانونی اور ناجائز ریاست کو ہر طرح کے عالمی اور انسانی جرائم میں ملوث ہو ۔ اس سے دنیا کا کوئی بھی ملک کیسے خیر کی توقع کر سکتا ہے۔ اسرائیل دنیا بھر کو بالعموم اور اسلامی دنیا کو بالخصوص ہر میدان میں نشانہ بنائے ہوئے ہے ۔ حال ہی میں میڈیا کے ایک معتبر ادارے نے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی پالیسی ساز ایران سمیت کسی بھی اسلامی پر جنگ مسلط کرنے سے پہلے عالمی ذرائع ابلاغ میں بالعموم اور اسلامی دنیاکے میڈیا میں بالخصوص اپنے ہمدرد تیار کرنا چاہتے ہیں ۔ اسرائیلی وزارت اطلاعات کے ایک اجلاس میں پاکستانی میڈیا سے ہونے والی اسرائیلی مخالفت پر بھی کافی غور وفکر کیا گیا،مگر شائد ان کی مشکل پاکستان میں تعینات سابقہ امریکی سفیر نے حل کی ہوگی، جن کا خیال تھا کہ پاکستانی صحافی کم قیمت ہیں۔ وزارت اطلاعات کے اس اجلاس میں بالآخر یہی طے پایا کہ پاکستانی عوام میں اسرائیلی مخالفت ختم کرنے اوراسرائیلی پالیسیوں کی تائید کرنے کے لئے اسرائیلی و پاکستانی میڈیا کے درمیان رابطہ قائم کیا جائے اور اسرائیلی میڈیا میں کام کرنے کے لیے پاکستانی صحافیوں کو ہائیر کیا جائے ۔تعلقات قائم ہوجانے کے بعد میڈیا کے ذریعے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم چلائی جائے ۔میڈیا اشتراک سے موساد کے ایجنٹوں کے لئے پاکستان کا سفر بھی نہایت آسان ہوجائے گا۔ موساد نے اپنے اس غلیظ ایجنڈے پرکام کا آغاز کینیڈا سے کیااور تاز پٹ نیوز ایجنسی ،جو موساد کے انفارمیشن نیٹ ورک کا حصہ ہے اور برصغیر خطے میں را کے زیر نگرانی کام کرنے والی ایک انڈین نیوز ایجنسی سے منسلک ہے، کے ذریعے پاکستانی صحافیو ں سے رابطے اور ہائرنگ کے کام کا آغاز کیا۔ بین الاقوامی میڈیا کو اس مہم کا حصہ بنانے اور مسلمان صحافیوں کو راغب کرنے کے لئے موساد نے اپنے مقاصد انٹرفیتھ ہارمنی، ہولوکاسٹ سے بچاﺅ بیان کئے ۔ اسرائیلی شہر یروشلم میں قائم تازپٹ نیوز ایجنسی نے کینیڈا میں مقیم مختلف پاکستانی صحافیوں سے رابطے کئے ،مگران میں سے اکثر نے اس مذموم ایجنڈے کا حصہ بننے سے انکار کیا۔ کینیڈا میں ہی موجود طارق خان نامی صحافی نے اسرائیلی میڈیا اور پاکستان میں بھی موساد کے ایجنٹوں کو تعاون فراہم کرنے کی حامی بھری ۔ بعد ازاں ویکلی پاکستان کے نام سے موساد نے ایک ویب گروپ تشکیل دے کر اپنا مواد پاکستانی صحافیوں سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات کو بھیجنے کا کام شروع کیا ۔ بعد ازاں اسی گروپ کے نام کے کارڈز پر بھی کینیڈا کے ذریعے پاکستان میں ملکی و غیر ملکی متنازعہ و مشکوک افراد کی آمدورفت کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ گرچہ تاز پٹ کی سرکاری حیثیت سے انکار کرتی ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس نیوز ایجنسی کے تقریباً آفیشل اسرائیل کے سابق اور حاضر سروس سرکاری عہدیدار ہیں ۔ تازپٹ نیوز ایجنسی کے ڈائریکٹر ایموٹز ایال بذات خود بھی سرکاری عہدے پر کام کر چکے ہیں ۔ مسلمانوں کی لاشوں اور مسمار شدہ گھروں پر تعمیر کی گئی ناجائز ریاست اسرائیل، جس کو پاکستان تسلیم ہی نہیں کرتا ،اس کی انٹیلی جنس کی شاخ تازپٹ کے ساتھ پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے تعاون کو ریاست کا قانون کس نظر سے دیکھتاہے ؟ اگر صحافتی روپ میں بیرونی ایجنٹ یونہی پاکستان میں دندناتے پھریںاور ملک کے شہری ہی ان کے تعاون میں پیش پیش ہوں تو ملک میں امن وامان کی ذمہ داری کون سا ادارہ قبول کرے گا؟ صحافتی حلقوں کو بھی از خود اس چیز کا نوٹس لینا چاہیے اورایسے چہروں سے نقاب اتارنے چاہئیں جو صحافت کے نام پر ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جانب سے پاکستان میں میڈیا کے لئے مختص کی جانے والی کثیر رقم بھی پاکستان کے آزاد میڈیا کے خلاف ایک گالی ہے۔  اسرائیل صرف پاکستان یا فلسطین کے مسلمانوں کا مجرم نہیں، بلکہ عالم اسلام کا تاریخی مجرم ہے ، جس کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کی اجازت ،نہ قرآن دیتا ہے ۔ نہ اللہ کا پاک نبی ، نہ سیرت شاہ خین ، نہ ہی کردار ایوبی ۔ اگر کوئی مسلمان اسرائیل کے ساتھ تعاون کرتا ہے تو وہ غزہ ، فلسطین، لبنان ، شام ، ایران ، بحرین کے مسلمانوں کا مجرم ہے،۔ وہ عالم اسلام کا مجرم ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے حقیقی دشمن کو شناخت کرکے اس سے چوکنا رہا جائے اور ایسی کالی بھیڑوں کوقرار واقعی سزائیں دی جائیں جو کسی بھی حوالے سے اسرائیلی اداروں کی معاونت کررہی ہیں ۔ اگر عالم اسلام اپنے اس مشترکہ دشمن کے وجود کے خلاف ایک متفقہ قراداد لاکر اس پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ کرلے تو اسرائیل اپنی موت آپ مر جائے گااور فلسطین کے مسلمان اپنے آزاد وطن کی فضاﺅں میں آزادی کا سانس لے سکیں گے، انشاءاللہ   

مزید :

کالم -