غیر آئینی سیٹ اپ لانے کی سازش؟

غیر آئینی سیٹ اپ لانے کی سازش؟

  

قومی سلامتی کے بارے میں خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ آئندہ دو سے تین سال کے لئے غیر آئینی سیٹ اپ لانے کی سازش ہو رہی ہے، اور پورے جمہوری نظام پر تلوار لٹک رہی ہے، نئی اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب تک غیر جمہوری قوتوں کی سازشیں جاری رہیں گی، الیکشن کمیشن کی تحلیل کا مطالبہ سراسر غیر آئینی ہے۔ اور اس کی تحلیل بھی غیر آئینی اقدام ہوگا چیف الیکشن کمشنر یا کسی بھی رکن کو ہٹانے کے لئے صرف آرٹیکل 209 کا راستہ ہے جو سپریم جوڈیشل کونسل کا راستہ بتاتا ہے قوم مل کر جمہوریت کے خلاف منفی سازشوں کو ناکام بنائے۔ انہوں نے کہا ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کچھ عناصر اور قوتیں الیکشن کمیشن کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہی ہیں، کہ کسی بھی طرح انتخابی عمل کو یا تو ملتوی کردیا جائے، یا ایک عبوری حکومت لائی جائے جس کا آئین میں کوئی ذکر نہیں۔میاں رضا ربانی نے یہ تو نہیں بتایا کہ دو تین سال کے لئے غیر آئینی سیٹ اپ لانے کی کوشش کون کر رہا ہے اور وہ کون سی قوتیں ہیں جو الیکشن کمیشن کو متنازع بنانا اور انتخابات ملتوی کرانا چاہتی ہیں لیکن اس طرح کی باتیں طویل عرصے سے سننے میں آ رہی ہیں، بلکہ ایسی باتیں اتنی ہی پرانی ہیں جتنی یہ حکومت، سازشی تھیوریاں طویل عرصے سے گڑھی جا رہی ہیں اور مسلسل یہ کہا جاتا رہا ہے کہ یہ حکومت اب گئی کہ گئی، لیکن اس سارے عرصے میں اطمینان کا پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ حکومت مشکلات کے باوجود چلتی رہی یہاں تک کہ اب وہ اپنی مدت پوری کرنے کے لئے ڈیڑھ ماہ سے بھی کم کے فاصلے پر ہے اس وقت اگر میاں رضا ربانی کو یہ سازش اور خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ کوئی ایسا عبوری سیٹ اپ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے جس کا آئین میں کوئی ذکر نہیں تو انہیں کھل کر بتانا چاہئے کہ یہ کھیل کون کھیل رہا ہے اور کھیل کھیلنے والوں کو کن کن عناصر کی حمایت حاصل ہے؟اور کون سے پریشر گروپ اس میں شامل ہیں۔پاکستان کی سیاسی زندگی کا یہ المیہ ہے، کہ غیر جمہوری قوتیں حیلوں بہانوں سے جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹتی رہی ہیں، لیکن جب وہ ایسا اقدام کر چکتی ہیں، اور انہیں اپنی حکومت کے لئے جواز کی تلاش ہوتی ہے تو یہ سیاستدان ہی ہوتے ہیں، جو لپک کر ان کی مدد کو پہنچتے ہیں،سیاستدانوں کی صفوں میں سے ہی غیر جمہوری قوتوں کو ایسے ایسے حامی مل جاتے ہیں اور غیر جمہوری حکمرانوں کی حمایت میں ایسے ایسے بیانات آتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ زیادہ دور نہیں جاتے جب جنرل پرویز مشرف نے صدارتی عہدے پر متمکن رہتے ہوئے وردی سمیت ایک ایسی اسمبلی سے دوبارہ صدر منتخب ہونے کی ٹھانی جس کی اپنی مدت ختم ہو رہی تھی تو انہیں سیاستدانوں میں سے نہ صرف ایسے حامی مل گئے جو بھرے پبلک جلسوں میں بار بار یہ اعلان کرتے رہے کہ ہم صدر مشرف کو دس بار وردی سمیت صدر منتخب کرائیں گے، یہ اعلان کرنے والے مملکت کے سرکاری عہدوں پر براجمان تھے، طویل عرصے سے سیاست کر رہے تھے، جمہوریت کا نام لیتے تھے، لیکن یہ کہتے ہوئے ذرا بھی حجاب محسوس نہیں کرتے تھے کہ وہ ایک ایسے صدر کو جس کا پہلے ریفرنڈم کے ذریعے صدر بننا ہی خلاف آئین تھا دس بار باوردی صدر منتخب کرائیں گے بہرحال ایسی بوالعجبیوں اور سیاستدانوں کی حماقتوں کے نتیجے میں پرویز مشرف دوبارہ پانچ سال کے لئے صدر منتخب ہو گئے، وردی سمیت صدر بننے کی ان کی یہ خواہش تو پوری ہو گئی لیکن وہ پانچ سال تک صدر رہنے کی حسرت دل میں لئے ہی اس عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور ہو گئے جو انہوں نے بڑے جتنوں سے حاصل کیا تھا۔ اب اگر ایک جمہوری حکومت اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہے، اور نئے الیکشن کا اعلان ہونے والا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدان چاہے ان کا تعلق حکومت سے ہویا مخالف جماعتوں سے ، وہ آئین پر عمل درآمد کو حرز جاں بنا لیں، ہماری سیاسی بدقسمتیوں کا آغاز ہی دراصل آئین سے منہ موڑنے کے نتیجے میں ہی ہوا۔ اول تو حصول آزادی کے تقریباً ایک عشرے بعد تک آئین نہ بنا کر ہم نے تساہل کا مظاہرہ کیا، اس سارے عرصے میں محلاتی سازشیں عروج پر رہیں، بیورو کریٹ، سیاستدان اور جرنیل اپنے اپنے انداز میں سیاسی کھیل کھیلتے رہے، سیاستدانوں کو پہلے بیورو کریسی اور پھر فوج نے انگلیوں پر نچایا حتیٰ کہ سیاستدانوں کی حکومت میں باوردی کمانڈر انچیف کو وزیر دفاع بنا کر کابینہ کا حصہ بنا دیا گیا، جو حکومت اور کابینہ میں بیٹھ کر سیاستدانوں کی کمزوریوں سے آشنا ہوتے گئے اور بالآخر انہوں نے 58ءمیں براہ راست حکومت ہی سنبھال لی۔جرنیل تو آئین کو چنداں اہمیت نہیں دیتے کہ چند صفحات کی یہ کتاب انہیں قدم قدم پر من مانی سے ر وکتی ہے، وہ چاہتے ہیں آئین موم کی ایسی ناک ہو، جسے وہ جدھر چاہیں موڑ سکیں، لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ہم جمہوریت کے دعویدار سیاستدانوں کے منہ سے بھی ایسے الفاظ سنتے ہیں کہ آئین کوئی چپلی کباب نہیں ہے جس سے بھوک مٹائی جا سکے، لیکن آئین کے بارے میں ہمارا یہی رویہ اور آئین سے ایسا انحراف ہی ہماری تمام سیاسی خرابیوں کی جڑ ہے، آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ جب کوئی حکومت اپنی مدت ختم کر لے گی ،تو اس کی جگہ نگران سیٹ اپ کس طرح قائم ہو گا، ظاہر ہے آئین میں یہ شق پوری سوچ بچار کے بعد درج کی گئی تھی، اور اس میں اگر کوئی سقم موجود ہے یا مشاورت کا دائرہ وسیع تر کرنے کی ضرورت محسوس ہونا شروع ہو گئی ہے تو اس کا طریقہ کار بھی آئین میں درج ہے لیکن اگر کوئی شخص جو غیر ملکی شہریت بھی حاصل کر چکا ہو، اچانک ملک میں وارد ہو کر بے تحاشا دولت خرچ کرکے اور سیاسی طور پر بے بصیرت عقیدت مندوں کو جمع کرکے یہ مطالبہ کر دے کہ آئین میں لکھی ہوئی شقوں کو الگ رکھ کر اس کی بات اس لئے سنی جائے کہ وہ لانگ مارچ کرتا ہوا اسلام آباد پہنچ گیا ہے تو اسے کیا نام دیا جائے گا؟ عجیب بات ہے کہ آئین میں درج شق کو تو ”مک مکا“ کا نام دیا جا رہا ہے اور ماورائے آئین مطالبات کرکے آئین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ میاں رضا ربانی کو یہ خدشہ ہے کہ کہیں غیر آئینی نگران سیٹ اپ نہ آ جائے تو براہ کرم وہ پہلے اپنی پارٹی کی حکومت کے ذمہ داروں سے یہ تو معلوم کریں کہ انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ ایک لانگ مارچ اور دھرنے سے مرعوب ہو کر غیر آئینی مطالبات تسلیم کرنے کی راہ پر چل نکلیں؟ انہیں تو یہ چاہئے کہ وہ آئین کا راستہ اختیار کریں اور ناک کی سیدھ پر چلتے ہوئے جمہوری طرز عمل اپنائیں۔ اگر یہ آئین جو اس وقت نافذ ہے کسی کو ناپسند ہے، یا اس کی کچھ شقیں کسی کے بلند آہنگ دعووں کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ یا یہ آئین اگر کسی غیر ملکی کو پارلیمنٹ کا رکن بننے سے روکتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ ایسے لوگ خود کو بدلیں، یا پھر آئین میں تبدیلی کے لئے بتائے گئے راستے پر عمل کریں۔ طاقت کا مظاہرہ کرکے اگر آئین کی خلاف ورزی کاراستہ اختیار کیا گیا تو کل کو کوئی اور اس سے زیادہ طاقت کے ساتھ دھرنا دے کر کچھ نئے مطالبات لے کر سامنے آ جائے گا۔ آئین میں انتخابات کے ذریعہ حکومت بدلنے کا طریق کار موجود ہے تو کیا اسے بدل کر دھرنوں اور لانگ مارچوں کا راستہ اختیار کیا جائے گا؟میاں رضا ربانی اپنی حکومت کو آئینی راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیں۔ آئین پر چل کر جمہوریت کے لئے کوئی خطرہ نہیں، یہ خطرہ تب پیدا ہوتا ہے جب آئین کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور من مانی کی جاتی ہے۔ سیاست دان خود جمہوریت پسندبنیں اور غیر جمہوری قوتوں کو آگے آنے کا موقع نہ دیں تو نظام کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔

مزید :

اداریہ -