سیاستدا ن پاکستان کے خطرناک دور میں ہوش کے ناخن لیں : بیرسٹرشازیہ انجم

سیاستدا ن پاکستان کے خطرناک دور میں ہوش کے ناخن لیں : بیرسٹرشازیہ انجم
سیاستدا ن پاکستان کے خطرناک دور میں ہوش کے ناخن لیں : بیرسٹرشازیہ انجم

  

مانچسٹر(مرزانعیم الرحمان)پاکستان خطرناک ترین دور سے گزر رہا ہے اگر پاکستانی سیاستدانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو جمہوریت اور ملک کیلئے نیک شگون نہیں ہوگا ان خیالات کا اظہار برطانیہ کی معروف بیرسٹر مسلم لیگ ق وویمن ونگ کی صدر سینٹرل ایگزیکٹو اور منشور کمیٹی کی رکن شازیہ انجم نے روزنامہ پاکستان فورم میں کیا انہو ں نے کہا کہ ملکی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں افغانستان سے امریکہ اور اسکے اتحادی ایک طویل مگر ناکام بے سود جنگ کے بعد رخصت ہو رہے ہیں پاکستان کے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات اسقدر خوشگوار ہیں کہ ان پر فخر کیا جا سکے معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار اس ملک کے عوام لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے دوچار ہیں دوسرا پاکستا ن کی بعض سیاسی جماعتیں دھرنے کا کھیل کھیل رہی ہیں مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین جن کے تدبر کی وجہ سے منہاج القران کے دھرنے میں کوئی ناخشگوار واقع رونما نہیں ہوا اب دوسری سیاسی قوت بھی اس راہ پر گامزن ہے جسکی مذمت وہ خود کرتے رہے ہیں لوگوں کے گھروں میں دو وقت کی روٹی نہیں ‘ انہیں سنہرے خواب دیکھا کر کب تک بے وقوف بنایا جائے گا انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتیں پہلے ملک کا سوچیں ‘ پھر تخت وتاج کا ‘ بلوچستان کے حالات انتہائی سنگین ہیں تو کراچی میں روزانہ ٹاگٹ کلنگ نے عوام کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے ‘ پنجاب میں قتل وغارت گردی ‘ ڈکیتی ‘ اغوا برائے تاوان کی خوفناک وارداتوں نے امن تباہ کر رکھا ہے ‘ پختونستان میں بم دھماکے بے گناہ افراد کی ہلاکتوں کا باعث بن رہے ہیں پاکستان ‘ اندرونی طور پر انتہائی عدم استحکام کا شکار ہے تو بیرونی قوتیں ان حالات سے بھر پور فائدہ اٹھا رہی ہیں کل کے گیدڑ شیر کی آوازیں نکال رہے ہیں ان حالات میں پاکستان کی معاشی صورتحال کو مضبوط کرنا اشد ضروری ہے یہ اسی صورت ممکن ہے جب ملک میں انرجی بحران فوری طور پر ختم ہو گا ‘ لوگوں کے لیے روزگارفراہم ہو گا ‘ غیر ترقیاتی سکیموں پر رقم ضائع کرنے کی بجائے بجٹ کا کضیر حصہ انرجی بحران سے نمٹنے کے لیے مختص کر دیا جائے اور دوسرے نمبر پر تعلیم اور صحت پر رقم خرچ کی جائے ‘ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جس کی کرنسی کی وقعت دن بدن کم تر ہوتی جا رہی ہو ‘ کرنسی میں عدم استحکام ملکی معیشت کی عکاسی کرتی ہے ‘ انہوںنے کہا کہ حکومت پاکستان پاکستانی طلبا ءکو صرف ماسٹر اور پی ایچ ڈی کیلئے بیرون ملک تعلیم کی اجازت دے ‘ باقی تعلیم پاکستان میں دیگر سینکڑوں ممالک کی نسبت اعلی ہے انگلش کورسز میں داخلہ کے خواہشمند طلباءپاکستان سے ہی انگلش سیکھیں ‘ پاکستان کی کرنسی اور زر مبادلہ کا کثیر حصہ درآمدات اور غیر ممالک میں زیر تعلیم طلباءکی فیسیوں کھانے پینے پر خرچ ہو رہا ہے ‘ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک میں طالب علموں کے لیے اب کوئی کشش نہیں رہی ‘ ان ممالک نے ایسے قوانین متعارف کرا دیے ہیں جن سے کوئی بھی طالب علم خواہ وہ کتنا ہی اعلی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو ان ممالک میں مستقل سکونت اختیارنہیں کر سکتا ہاں البتہ شادی کر کے ایک طویل عرصہ مستقل ہونے کی جدوجہد کی جا سکتی ہے اس دوران اس قدر ضائع ہو چکا ہوتا ہے کہ اسکا نقصان یورپ میں پوری زندگی گزار کر بھی پورا نہیں کیا جا سکتا ‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک سمیت برطانیہ میں طالب علموں پر کام کاج کی پابندی ہے وہ سڑکوں ‘ پارکوں اور پلوں کے نیچے بدترین موسم میں رات گزارنے پر مجبور ہیں انہوں نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بیرون ملک پاکستان کے سفارتخانے اس صورتحال سے حکومت اور عوام کو کیوں آگاہ نہیں کر رہے یہ انکی ذمہ داری ہے ‘ وہ غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں یورپی اور برطانوی جیلوں میں پاکستانیوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ان ممالک میں پاکستانی تارکین وطن کی نئی نسل ‘ اسلامک کلچر‘ اور حب الوطنی کے جذبے سے محروم ہوتی جا رہی ہے ‘ اب انکا اوڑھنا ‘ بچھوڑنا یہی ممالک ہیں انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ آئند چند سالوں میں پاکستان زرمبادلہ بجھوانے کا سلسلہ اس نئی نسل کی بے راہ روی اور پاکستان کے حالات سے متنفر نوجوانوں کی وجہ سے بند ہو کر رہ جائیگا پاکستان کا تھنک ٹینک ان گھمبیر مسائل کے بارے میں کیوں نہیں سو چ رہا ‘ جبکہ مغربی ممالک آئندہ سو سال کی منصوبہ بندی کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی قوم جاگ اٹھے اگر پوری قوم نے حالات کی نزاکت کا احساس نہ کیا تو آنے والے خطرناک دور کا تصور کر کے ہی روح کانپ جاتی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر وقت اور درست فیصلے کر رہی ہے عدلہ کو کسی سے کوئی دشمنی نہیں مگر معلوم نہیں کہ سیاستدان عدلیہ کو اپنا مخالف کیوں تصور کرتے ہیں ‘ انہی قوموں نے ترقی حاصل کی ہے جہاں قانون کی بالا دستی ہوتی ہے ‘ لاقانونیت ایک بے چین معاشرے کو جنم دیتی ہے انہو ں نے سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی کے سیاسی تدبر کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ حالات کی نزاکت سے پوری طرح آگاہ ہیں ملک کو موجودہ بحران سے باشعور فہم وفراست اور محب وطن قیادت ہی نکال سکتی ہے ‘ ہٹ دھرمی کی پالیسی کے دور میں ملک نے جتنی ترقی کی ہے وہ پوری قوم کے سامنے ہے یورپی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی قدر و منزلت صفر ہو کر رہ گئی ہے جبکہ پاکستان کے مقابلے میں افغانستان ‘ عراق‘ اور افریقی ممالک کے لوگوں کی زیادہ اہمیت ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پڑوسی ملک کی جارحانہ پالیسی نے پاکستان کو بیک فٹ پر لا کر کھڑا کر رہا ہے اسلامی ممالک میں اس امر کا احساس کریں کہ اگر خدا نخواستہ پاکستان کو کچھ ہوا تو وہ مگر مچھوں کا تر نوالہ ثابت ہونگے اسلامی ممالک پاکستان کی غیر مشروط اور قرضے دیکر کر اسکی معیشت کو سنبھالا دیں ‘ یورپی بینکوں میں پڑا ہوا سرمایہ پاکستان کو دیں تاکہ پاکستان ‘ آئی ‘ ایم ‘ ایف کے چنگل سے نکل سکے کیونکہ آئی ایم ایف کی پالیسیوں نے پاکستان میں بے روزگاری ‘ اور بدحالی کو جنم دیا ہے ‘ حکمران بھی اس صورتحال سے آگاہ ہیں ‘ انہوں نے ہر وقت انتخابات کو مسائل کی کنجی قرار دیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اہل قیادت کو ہی منتخب کریں وگرنہ بعد میں پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا‘ تمام قوم چوہدری برادران کی قیادت میں اکٹھی ہو جائے اقتدار مسلم لیگ ق کی منزل نہیں ہے ۔

مزید :

قومی -