جیوے جیوے ،پنجاب جیوے

جیوے جیوے ،پنجاب جیوے
جیوے جیوے ،پنجاب جیوے
کیپشن: mudasser

  

پاکستا پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے ”مرسوں مرسوں س دھ ہ ڈیسوں “کا عرہ اس وقت سام ے آیا ،جب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسی ے س دھ کو”س دھ و اور س دھ ٹو“ میں تقسیم کر ے کی بات کی تھی۔ آج کل یہ عرہ مرسوں مرسوں پاکستا ہ ڈیسوں کے اضافے کے ساتھ ٹیلیویژ اور اخبارات کے اشتہارات میں ظر آتا ہے۔ یہ اشتہارات س دھ فیسٹول کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کا حصہ ب ے ہوئے ہیں،جو یکم فروری سے کراچی میں شروع ہو رہا ہے اور اس کے لئے پاکستا بھر کے تمام اہم تری سیاسی رہ ماﺅں اور دا شوروں کو خصوصی دعوت امے جاری کئے گئے ہیں، ا میں ہمارے پ جابی حکمرا وں میں حمزہ شہباز اور مریم واز بھی شامل ہیں، کیو کہ دو وں ہی مستقبل کی قیادت کے خواہشم د ہیں تو ادھر بلاول بھٹو بھی اس کے لئے باقاعدہ صف ب دی کر چکے ہیں۔

ہمیں یہ تسلیم کر ے میں بھی کوئی عار ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری سب کے بعد آئے ہیں، جبکہ شریف فیملی کے و ہال بہت عرصے سے سیاست میں شریک ہیں اور اپ ے بڑوں کی طرح اقتداری سیاست کی ہ ر م دی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ الگ بات کہ جب ا ہیں حالات کے جبر میں اپوزیش کی سیاست کر ا پڑے گی تو وہ کہا ںہوں گے ، ادھر پیپلز پارٹی اور بھٹو خا دا کی تاریخ ہے، جو بہت حد تک، ہ دوستا کے ہرواور گا دھی خا دا کی طرح قربا یوں سے ر گی بھی ہے اور وہ حکومت کے ساتھ اپوزیش کی داستا بھی بیا کرتی ہے۔ بلاول بھٹو کے پاس حکومت اور اپوزیش کے کردار کا ہی ہیں باپ کی جیلوں ، ماں اور ا ا کی شہادت کا اقابل فراموش ورثہ بھی ہے اور تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ہے جو ایک بڑے سیاستدا کے لئے ضروری ہوتی ہے ۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب اس تربیت کے جوہر سام ے آ ے والے ہیں ۔

ہمارے خیال میں تو یہ فرق اس طرح بھی واضح ہو گیا ہے کہ س دھ حکومت کی طرف سے س دھ کی تہذیب و ثقافت کو مایاں کر ے کے لئے س دھ فیسٹیول کا ا عقاد کیا جا رہا ہے۔ ہم اپ ے حکمرا وں کی اپ ی تہذیب و ثقافت سے عدم ش اسائی اور ظر ا دازی، بلکہ دشم ی کا رو ا تو پہلے بھی کئی بار رو چکے ہیں اور ا ہیں یہ باور کرا ے کی بھی کوشش کر چکے ہیں کہ قومیں اپ ی تہذیب و ثقافت سے محبت اور وابستگی میں ہی ارتقائی م ازل طے کرتی ہیں۔کہیں کاغذکے گھوڑے سجا کر ثقافت کی ماءدگی کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو کہیں پت گوں کی تصویریں ب ا کر ا مائشی اقدامات کے ذریعے اپ ی جڑت کو مایاں کیا جاتا ہے ،ور ہ حقیقت کیا ہے، ا ہیں کیا معلوم؟ ثقافت کی جڑیں تو زمی کی پیداوار اور بدلتے ہوئے موسموں میں فصلوں کی کٹائی میں سی ے سے اٹھ ے والے جذبات و احساسات میں ہوتی ہیں۔ہمارے حکمرا پ جاب کی تہذیبی اور ثقافتی تاریخ تو کیا سیاسی تاریخ سے بھی آش ا ہیں، ا ہیں تو پ جاب کے سورماﺅں کے بارے بھی معلوم ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ وہ تو اپ ے صوفیائے کرام اور ا کے پیغام سے بھی ش اسا ہیں، وہ اپ ی تہذیب و ثقافت سے کیسے آش ا ہو سکتے ہیں۔

 پ جاب جیسے دولت م د صوبے کی یہ بد قسمتی ہیں تو اور کیا ہے کہ ا ہیں کاروباری حکمرا ملے ہیں ۔ج ہیں تہذیب و ثقافت اور تاریخی وراثت سے ہیں، محض تجارت سے محبت ہے اور وہ اسی کو ترقی کا باعث سمجھتے ہیں ۔ کہ ا پڑتا ہے کہ جب لوگوں کی اپ ی زمی سے محبت، اپ ی تہذیب و ثقافت سے وابستگی ہی ہیں ہوگی تو پھر آ کھوں میں ترقی کے خواب کیسے چھلکیں گے؟جب حکمرا اور عوام ایک دوسرے سے دور ہوں گے تو پھر ا میں مایوسی اور بے یقی ی ہیں تو اور کیا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ پ جابی بیرو ملک بھاگ ے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ معاشی عدم مساوات بے روز گاری بھی ہے، لیک اپ ی زمی سے روز بروزکمزور ہوتی وابستگی بھی ہے۔ کاش کوئی یہاں بھی ایسا لیڈر ہو جو یہ آواز بل د کرے کہ جیوے جیوے پ جاب جیوے ، یا ، جیواں گے مراں گے پ جاب ہ دیاں گے ،لیک افسوس کہ حکومت تو کیا ،یہاں تو اپوزیش میں بھی کوئی پ جابی ہیں۔ سب مہاجر ہیں اور ا در سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔  ٭

مزید :

کالم -