پی ایچ ڈی سکالرز کی خدمات سے استفادہ کیا جائے

پی ایچ ڈی سکالرز کی خدمات سے استفادہ کیا جائے
پی ایچ ڈی سکالرز کی خدمات سے استفادہ کیا جائے

  

راقم مجبور ہے کہ موجودہ حکومت کسی بھی پروفیسر کو کسی بھی یونیورسٹی میں تعینات کرکے تحقیق وریسرچ کا کام لینے سے گریزاں ہے عرصہ دوسال سے راقم محکمہ تعلیم کو Re-employment کے لئے خطوط ٹی سی ایس کرتارہا اورگزارش کرتارہا ہے کہ اس افرادی قوت کو پاکستان کی تحقیق اورریسرچ کے لئے ان کی خدمات کا تعین کرے؟مگر افسوس کہ ہمارے حکمرانوں نے اورنہ ہی محکمہ تعلیم نے اس سمت میں توجہ دی ہے نہ ریسرچ پر توجہ دی ہے یوں ریسرچ کاکام ٹھپ ہوکر رہ گیاہے ہمارے ارباب اقتدار تعلیم اورصحت پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں اورسول بیوروکریسی پر اثر انداز ہورہے ہیں آج تک سیاست دانوں نے ان پڑھے لکھے افراد کی نہ ہی دادرسی کی اورنہ ہی ان کے مستقبل کے لئے کوئی رہنمائی کی ہے مختصریہ کہ ہماراملک بجائے ترقی کرنے کے دنیا کے کم تر ممالک کی صف میں آن کھڑاہوا ہے کسی بھی ملک کے لیٹریسی ریٹ اور اعدادوشمار سے یہ پتہ چلتاہے کہ ہم کتنے ترقی یافتہ ہیں ہم ایٹمی قوت ہونے کی باوجود ترقی پذیر ممالک میں شامل ہیں۔

امریکہ میں کوئی پی ایچ ڈی پروفیسر ریٹائر نہیں ہوتا۔ ان کو تاحیات کام کرنے دیا جاتاہے یہ ہم سب کو پتہ ہے کہ امریکہ میں پی ایچ ڈی کی کتنی قدر ہے ہمارے بہت سے وزراء ایک دوسرے پر تنقید تو کرتے ہیں اوراپنوں کو کہتے ہیں کہ کیا آپ نے سیاست میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے وغیرہ یہ ان کو نہیں پتا کہ پی ایچ ڈی پاس کرنا کوئی آسان کام نہیں اس کے لئے کئی سال درکار ہوتے ہیں اوررقم اس کے علاوہ اپنے پلے سے خرچ کرنی پڑتی ہے ہماری حکومت کے لئے کچھ گزارشات ضروری ہیں محکمہ تعلیم کی بہت زیادہ بے قدری کی جارہی ہے ہماری نوجوان نسل غربت کا شکا رہے جس کی وجہ یہ ہے کہ پڑھے لکھے افراد کو کھپانے کے لئے کوئی پالیسی نہیں ہے ہمارے حکمرانوں نے بغیر کسی مشورے سے ایڈھاک بنیادوں پر اورVisiting پر بہت سے لوگوں کو روزگار فراہم کیا ہے جس سے ان افراد میں نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔

مختلف یونیورسٹیوں میں عرصہ 10 سال سے نئی جنریشن کووزٹنگ پر رکھا ہواہے ان کو معاوضہ اس وقت ملتا ہے جب وہ اس کلاس کاResult اچھا دیں یہ اصول بے روزگاری کے زمرے میں آتاہے اورنوجوانوں کے ساتھ ناانصافی اورظلم ہے حالانکہ پرائیویٹ اداروں میں تین ماہ تک نوکری کرنے والوں کو سروس رولز کے مطابق اپنے کام پر کنفرم کردیاجاتاہے مگر ہمارے بیورکریٹس اس کے الٹ چل رہے ہیں ۔راقم کا اپنا بیٹا فلاسفی مضمون میں ایم فل ہے اوردس سال سے Visiting پروفیسر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں کام کررہاہے اسے آج تک نہ ریگولر کیاگیا نہ مستقل کیاگیا اس کی عمر اس وقت 30 سال سے زیادہ ہے ارباب اقتدار سے میری التماس ہے کہ وہ میرے بیٹے کو مستقل بنیادوں پر یونیورسٹی میں تعینات کریں کیونکہ والدین لاکھوں روپے لگاکر اوراپناپیٹ کاٹ کر بچوں کو یونیورسٹی کی تعلیم دلواتے ہیں توجب یہ طالب علم علم کی شمع کو روشن کرنے نکلتا ہے تو اس کے لئے ترقی کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں ایک بڑا مسئلہ جس کی حکومت کو درخواست کرنا چاہتاہوں کہ موجود ہ دور کے امتحان (پبلک سروس کمیشن )میں انٹرویو کے لئے لاکھوں روپے کمانے کے بعد درخواستوں کو شارٹ لسٹ کرکے یہ محکمہ باقی رقم ہضم کرجاتاہے نہ ہی انکا امتحان لیتاہے اورنہ ہی کوئی ٹیسٹ لیتاہے اورغریب لڑکے ولڑکیاں ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں ان آسامیوں پر وہ لوگ تعینات ہوجاتے ہیں جن کی تائید حکمران اورسیاست دان کرتے ہیں پچھلی حکومتوں نے انٹرنشپ کا پروگرام شروع کیا مگر وہ بھی سال دوسال کے بعد فلاپ ہوگیا اگر ہم بھارت سے موازنہ کریں تو بھارت ہرسال اپنی یونیورسٹیوں سے 3000 پی ایچ ڈی تیارکرتاہے جبکہ ہماراملک صرف سینکڑوں پی ایچ ڈی تیارکرتاہے دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک تحقیق اورریسرچ کرکے اپنی افرادی قوت کو بڑھا رہے ہیں جبکہ وہ زرمبادلہ بھی کمارہے ہیں ۔

راقم ملتمس ہے کہ ہمارے حکمران پی ایچ ڈی جیسی شخصیات سے مشاورت کریں اورایک مضبوط پاکستان کی تعمیر کریں ۔

مزید :

کالم -