نیشنل ایکشن پلان :دہشت گردی ، انتہا پسندی اور فرقہ واریت سے نمٹنے کا موثر لائحہ عمل

نیشنل ایکشن پلان :دہشت گردی ، انتہا پسندی اور فرقہ واریت سے نمٹنے کا موثر ...
نیشنل ایکشن پلان :دہشت گردی ، انتہا پسندی اور فرقہ واریت سے نمٹنے کا موثر لائحہ عمل

  

زمانے کے افق پر ابھرتے ہوئے ہر نئے سورج کو گواہی دینا ہو گی کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستانی قوم نے نہ صرف مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا بلکہ اتحاد کے اس تناور درخت کا بوٹا سینچنے والوں کو بھی فراموش نہیں کیا۔ کیونکہ ہمارا آج اور آنے والا کل‘ گزرنے والے کل ہی سے پھوٹتا ہے۔ یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ قوم کو درپیش دہشت گردی کے خوفناک چیلنج کا سامنا عزم و حوصلے اور علم کی طاقت سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ جو ذہنوں کو منورکرتا ہے۔ جس سے شہریت کا شعور اجاگر ہوتا ہے اور یہی علم ہر پاکستانی کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو روبہ عمل لا سکتا ہے۔ سانحہ پشاور کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قومی اور عسکری قیادت نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے بھرپور عزم کا اظہار کیا۔ آئین میں 21ویں ترمیم اسی کی ایک کڑی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی حکومت‘ چاروں صوبائی حکومتیں اور پاک فوج پاکستان میں پرامن معاشرے کی تشکیل پر عمل پیرا ہو چکی ہیں۔ عزم سے بھرپور عملی اقدامات سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آخری جیت پاکستان کی ہو گی۔

جب ہماری مسلح افواج خونریزی کرنے والے دہشت گردوں کی سرکوبی کرنے میں مصروف ہیں‘ پنجاب کے فعال وزیراعلیٰ نے اپنی پوری توجہ اس وحشت ناک مسئلے کے طویل المدتی حل پر مرکوز کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ملک کے سب سے بڑے صوبے کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے دہشت گردی کے عفریت کو قابو کرنے کے لئے برق رفتار عملی اقدامات کئے۔ کابینہ کمیٹی لااینڈ آرڈر کے اجلاس میں وزیراعلیٰ نے موثر اور بہترین سکیورٹی پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا حکم دیا۔ پنجاب بھر کے کمشنرز‘ آر پی اوز‘ ڈی سی اوز اور ڈی پی اوز کی سکیورٹی کانفرنس میں سرکاری مشینری کو دہشت گردی اور انتہاپسندی کے چیلنج سے نمٹنے کا لائحہ عمل دیا گیا۔ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کے اجلاس سے وزیراعلیٰ نے منبرومحراب سے دہشت گردی کے خلاف فکری اور نظریاتی جنگ میں ذمہ داری ادا کرنے کی درخواست کی۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے معاشرے کے مقتدر اور بااختیار طبقوں کو دہشت گردی کے خلاف متحرک کرنے کے لئے میڈیا سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں موثر اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب ‘ اعلیٰ سرکاری افسران اور اعلیٰ فوجی حکام نے شرکت کی۔ مذکورہ اجلاس مخصوص وقفے کے بعد باقاعدگی سے منعقد کئے جا رہے ہیں۔ جن میں صوبہ بھر میں سیکورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے کے لئے اہم اقدامات کرنے کے فیصلے کئے گئے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ صوبائی حکومت اور اعلیٰ عسکری قیادت یکسو ہو کر دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے نہ صرف متحرک ہو چکی ہے بلکہ باہمی اشتراک سے حساس تنصیبات‘ پبلک مقامات اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے اہم عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ سول‘ فوجی تعاون کا یہ سلسلہ دہشت گردی کے خاتمے پر منتج ہو گا۔ نیشنل ایکشن پلان دہشت گردی‘ انتہاپسندی اور فرقہ واریت سے نمٹنے کا متفقہ اور موثر لائحہ عمل ہے جس کے لئے حکومت پنجاب سب سے پہلے آگے بڑھ کر قابل تقلید عملی اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت پنجاب ایلیٹ کاؤنٹرٹیرررازم ٹیم تشکیل دے رہی ہے جو ملک و قوم کے دشمنوں کے خاتمے کی جنگ میں اہم کردار ادا کرے گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے آرمی پبلک سکول کے سانحے کے غم کی شدت کودل سے محسوس کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اطلاع ملتے ہی وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف‘ وزیراعظم پاکستان محمد نوزشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ہمراہ سانحہ پشاور میں زخمی ہونے والے بچوں کی عیادت کے لئے فوری طور پر ہسپتال پہنچے۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے پنجاب بھر کے مختلف پبلک سکولوں کو سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے ان بچوں کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا‘ جن کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا۔ پہلے مرحلے میں ننکانہ صاحب‘ گوجرانوالہ‘ جہلم‘ چکوال‘ سیالکوٹ‘ خوشاب اور خانیوال کے بڑے سرکاری سکولوں کو شہداء کے نام سے منسوب کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ صوبہ بھر میں سرکاری سکولوں کے بعد تاریخی حیثیت رکھنے والے بڑے کالجوں کو بھی پشاور کے شہید طلباء کی قربانی کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے نام سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ محکمہ سکولز پنجاب کے تمام اضلاع میں ایک بڑا سکول شہدائے پشاور کے نام سے منسوب کرے گا۔ تعلیمی اداروں میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کی تصاویر کے ہورڈنگز بھی لگائے جائیں گے اور سکول کو شہداء کے نام سے منسوب کرنے کے لئے خصوصی تقریب میں شہید طلباء کے والدین کو مدعو کیا جائے گا۔ قوم پشاور کے معصوم شہدا کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ منتخب سرکاری سکولوں میں سنگ مرمر کے کتبوں پر سانحہ پشاور میں جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے اساتذہ کرام اور شہید طلباء کے نام بھی لکھے جائیں گے۔ جہلم کے علاقے چکری راجگان کے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کا نام سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے مہرعلی اعظم شہید کے نام سے منسوب کر کے نیا بلاک تعمیر کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈی سی او جہلم ذوالفقار گھمن اورجی او سی جہلم میجر جنرل شیرافگن نے شہید طالب علم کے والد کوثر اعجاز کے ہمراہ خصوصی تقریب میں نئے بلاک کا سنگ بنیاد رکھا۔ حکومت پنجاب کی طرف سے تعلیمی اداروں کے نام شہداء سے منسوب کرنے کے عمل کو ہر سطح پر سراہا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مقامی تنظیم دی سٹیزن فاؤنڈیشن نے ملک بھر میں ہر شہید کے نام پر ’’مدارس امن‘‘ کے نام سے نئے سکول کھولنے کا اعلان کیا۔

دہشت گردی‘ انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے حکومت پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی ہدایت پر فوری عملی اقدامات اٹھائے ہیں جن کے تحت لاؤڈسپیکر آرڈی نینس کو حالات حاضرہ کے مطابق موثر بنا کر پنجاب بھر میں بلا امتیاز کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ صوبہ بھر میں سینکڑوں افراد لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ وال چاکنگ کی روک تھام کے قانون 2015ء کے تحت دہشت گرد فرقہ ورانہ اور کالعدم تنظیموں کی تشہیر اور شرانگیز پراپیگنڈے پر قابو پانے کے لئے قانونی اصلاحات کی گئی ہیں۔وال چاکنگ کے قابل دست اندازی پولیس اور ناقابل ضمانت جرم کے تحت چھ ماہ تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔ وال چاکنگ کرنے‘ کروانے اور جس کے حق میں وال چاکنگ کی جا رہی ہو وہ بھی مجرم تصور ہو گا۔ حساس تنصیبات کے تحفظ آرڈی نینس 2015ء کے تحت خلاف ورزی کرنے والے شخص کو 6سال قید اور ایک لاکھ تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔ ہر تحصیل میں سکیورٹی ایڈوائزری کمیٹی سہ ماہی بنیادوں پر حساس مقامات کا معائنہ کر کے سفارشات پیش کرے گی۔ پنجاب اسلحہ ترمیمی آرڈیننس 2015ء کے تحت خلاف ورزی کے مرتکب شخص کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایاجائے گا۔ کرایہ داری آرڈی نینس 2015ء کے تحت صوبہ بھر میں کارروائی شروع ہو چکی ہے اور میڈیا پر آگاہی مہم کے ذریعے پراپرٹی ڈیلروں‘ مالکان رہائش‘ ہوٹلز‘ گیسٹ ہاؤسز اور مالک مکانوں کے لئے کرائے داروں یا گیسٹ کی آمد پر پولیس کو اطلاع کا پابند بنایا گیا ہے۔ حکومت پنجاب نے مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع کے لئے فون نمبر مخصوص کرنے کے علاوہ واقعہ کو 03111888666 پر وٹس ایپ کرنے کا اہتمام بھی کیا ہے جبکہ 1717 کا نمبر بھی دہشت گردی سے متعلق اطلاعات کے لئے مخصوص ہے۔ طلبا کو محفوظ کرنے کے لئے صوبہ بھر میں سرکاری و نجی سکولوں کی چاردیواری کی تعمیر‘ خاردار تار کی تنصیب‘ سی سی ٹی وی‘ میٹل ڈیٹیکٹر اور ٹرینڈ سکیورٹی گارڈز کے علاوہ طلبا اور اساتذہ کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے تربیت بھی دی جا رہی ہے جبکہ طلبا کی ٹرانسپورٹیشن کے لئے مخصوص گاڑیوں کی سکیورٹی کلیرنس بھی کی جا رہی ہے۔

ہاں! سانحہ پشاور نے ہمارے دلوں کو دہلا دیا۔ مگر بزدل اور ناتواں دشمن نہیں جانتا تھا کہ یہ قوم اب سیسہ پلائی دیوار بن کر ظلم کے خلاف مزاحم ہو گی۔بقول شاعر

تم نے اک خوف کی بیجی تھی فصل دل پہ میرے

میں نے اس فصل کو ہاتھوں سے پھوڑ ڈالا ہے

میں نے بچپن میں فقط ایک سبق سیکھا تھا

جو ہو ظالم وہ بہادر کبھی نہیں ہوتا

مزید :

کالم -