گورنر اور وزیراعلیٰ میں پہلا اختلاف تعلیمی اداروں میں کوٹہ کی بجائے میرٹ لانے پر ہوا

گورنر اور وزیراعلیٰ میں پہلا اختلاف تعلیمی اداروں میں کوٹہ کی بجائے میرٹ ...

  

تجزیہ: مبشر میر

گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب کے درمیان پہلا اختلاف تعلیمی اداروں میں کوٹہ کی بجائے میرٹ سسٹم نافذ کرنے پر ہوا۔ گورنرپنجاب ایچی سن اسکول اینڈ کالج کے علاوہ صادق پبلک اسکول جیسے تعلیمی اداروں کے بورڈ کے چیئرمین بھی تھے، جبکہ کئی تعلیمی اداروں میں گورنر کوٹہ موجود ہے۔ سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور نے اپنے اس حق کو استعمال کرنے سے پہلے دن سے انکار کردیا اور تمام سیٹیں میرٹ پر پوری کرنے کاا علان کیا ، جس سے پنجاب حکومت ناراض ہوئی اور وزیراعلیٰ پنجاب سے پہلا اختلاف ہوا۔ پنجاب حکومت اس کوٹہ کی بنیاد پر سیٹوں کو اپنے منظور نظر افراد کو دینا چاہتی تھی۔ ان کے گورنر پنجاب کا عہدہ سنبھالنے کے تھوڑے ہی عرصہ بعد گورنر ہاؤس مری کا انتظام بھی اُن سے لے لیا گیا تھا۔ اور وہ وزیراعلیٰ پنجاب کے تصرف میں آگیا اور ان کی اجازت سے ہی وہاں کوئی ٹھہر سکتا تھا۔ اس بات کا اظہار چوہدری سرور نے اپنے کئی ذاتی دوستوں سے کیا۔ باخبر ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا کہ پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے چوہدری سرور نے متعدد بار تباہ حال علاقوں کا دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، لیکن اُن کو ہر بار منع کیا گیا کہ وہ کسی سیلاب زدہ علاقے کا دورہ نہیں کریں گے ، بلکہ اس حوالے سے صرف اور صرف وزیراعلیٰ پنجاب ہی دورہ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اُس وقت چوہدری سرور نے اپنے چند دوستوں کو صورتحال سے آگاہ کیا اور مستعفی ہونے کیلئے سنجیدگی سوچنا شروع کردیا۔ اُن کو صدر مملکت جیسا کردار ادا کرنے کا درپردہ مشورہ بھی دیا جاتا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ یورپی یونین سے ٹیکسٹائل کیلئے جی پلس کی سہولت حاصل کرنے کے لیے چوہدری سرور نے کامیاب سفارتکاری کی توا س موقع پر وفاقی وزیر ٹیکسٹائل اور کامرس اس بات کی کوشش کرتے رہے کہ اس کا کریڈٹ گورنر پنجاب کو نہ مل سکے بلکہ ان کو شاباش ملنی چاہیے۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے دھرنے کے موقع پر لندن پلان کا انکشاف چوہدری سرور اور مسلم لیگ (ن) میں مزید دوریاں پیدا کرنے کا باعث بنا۔ انہوں نے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل (اے آر وائی) کو اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ میں نے ڈیڑھ برس بہت کرب میں گزارا ہے۔ یہ کرب انہی اختلافات کا تھا جن کی وجہ سے وہ گھٹن محسوس کررہے تھے۔ چوہدری سرور نے اپنی پریس کانفرنس میں سارا ملبہ لینڈ مافیا پر ڈال کر اصل صورتحال بتانے سے گریز کیا ہے ۔ حالانکہ بحیثیت گورنر لینڈ مافیا سے جان چھڑانا ان کے فرائض میں نہیں آتا ، جبکہ لینڈ مافیا کے خلاف وزیراعلیٰ پنجاب نے بڑے کامیاب آپریشن کیے۔ یہ بات باعثِ دلچسپی ہے کہ گورنر پنجاب کے عہدے کی پیشکش سے پہلے شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ان کو اپنے دور حکومت میں وزیرخارجہ کے عہدے کی پیشکش کی تھی جبکہ گورنر پنجاب بننے کیلئے ان کو برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی حمایت بھی حاصل تھی۔ باخبر حلقے اس بات کا انکشاف کررہے ہیں کہ چوہدری سرور کا پاکستان میں کردار ابھی ختم نہیں ہوا، بلکہ کسی وقت وہ کوئی اہم ذمہ داری بھی سنبھال سکتے ہیں۔

مزید :

تجزیہ -