ایک شہزادے اور برطانوی لڑکی کی وہ پریم کہانی جس نے دنیا میں ہنگامہ برپا کردیا، 3 ممالک کے درمیان تنازعہ کھڑا کردیا، انجام کیا ہوا؟ عقل کو دنگ کردینے والی داستان

ایک شہزادے اور برطانوی لڑکی کی وہ پریم کہانی جس نے دنیا میں ہنگامہ برپا ...
ایک شہزادے اور برطانوی لڑکی کی وہ پریم کہانی جس نے دنیا میں ہنگامہ برپا کردیا، 3 ممالک کے درمیان تنازعہ کھڑا کردیا، انجام کیا ہوا؟ عقل کو دنگ کردینے والی داستان

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) افریقی ملک بوٹسوانا (Botswana) کے شہزادے سر سریٹسے خامہ کی ایک برطانوی لڑکی روتھ ویلیمزسے محبت کی شادی نے بوٹسوانا،برطانیہ اور جنوبی افریقہ کے مابین ایک بہت بڑا سفارتی تنازعہ کھڑا کر دیا تھا۔ شہزادہ سریٹسے نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور 1948ءمیں 27سال کی عمر میں مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی روتھ ویلیمز سے شادی کر لی جس کی عمر اس وقت 24سال تھی اور وہ بطور کلرک کام کرتی تھی۔ روتھ کے والد اور سرریٹسے کے شاہی خاندان دونوں طرف سے ان کی اس شادی کی سخت مخالفت کی گئی۔ سریٹسے بوٹسوانا کے قبیلے بمانگواٹو (Bamangwato) کا سردار بننے جا رہا تھا اور اسے لندن میں لاءکی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ واپس بوٹسوانا پہنچنے پر اس کی شادی اس کے قبیلے کی ایک خاتون سے ہونی تھی لیکن اسے لندن میں ہی روتھ سے محبت ہو گئی اور دونوں نے شادی کر لی۔ بات بڑھتے بڑھتے برطانیہ اور بوٹسوانا کی حکومتوں تک جا پہنچی اور دونوں حکومتوں نے متحد ہو کر سریٹسے پر دباﺅ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ روتھ سے علیحدگی اختیار کر لے یا پھر قبیلے کی سرداری سے دستبردار ہو جائے۔جنوبی افریقہ بھی اس معاملے میں کود پڑا، کیونکہ یہ ایک افریقی شہزادے کے برطانیہ کی گوری لڑکی سے شادی کرنے کا معاملہ تھا۔

مزید جانئے: وہ حکمران جو دنیا کا امیر ترین آدمی بھی ہے؟ کیا آپ نام بتاسکتے ہیں؟ جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گا

جنوبی افریقہ نے بھی برطانیہ پر سفارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے دباﺅ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ کسی بھی طرح اس شادی کو ختم کروائے۔ جنوبی افریقہ کا موقف تھا کہ یہ شادی ”نسلی قوانین“ کی خلاف ورزی ہے۔ اس وقت کے جنوبی افریقی وزیراعظم نے اس شادی کو ناقابل قبول قرار دے دیا تھا۔ ادھر جب سریٹسے اپنی گوری بیوی کے ہمراہ واپس اپنے ملک پہنچا تو اس کے چچاﺅں نے اسے روتھ سے علیحدگی اختیار کرنے کو کہا اور کہا کہ وہ اسے کسی صورت ملکہ قبول نہیں کریں گے۔ برطانیہ نے سریٹسے کو واپس لندن آنے کی دعوت دی اور کامن ویلتھ کے وزراءسے ملاقات کرنے کو کہا۔ برطانیہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ روتھ کو بوٹسویا میں ہی رہنے دیا جائے اور سریٹسے اکیلا لندن آئے۔ یہ دراصل ایک جال تھا جو انہیں الگ کرنے کے لیے پھینکا گیا۔ برطانوی حکام نے سریٹسے کو کہا کہ وہ قبیلے کی بادشاہت سے دستبردار ہو جائے۔ جب سریٹسے نے انکار کر دیا تو اسے کہا گیا کہ اسے بوٹسویا سے 5سال کے لیے ملک بدر کر دیا جائے گا۔ 1956میں بوٹسویا سے ایک ٹیلیگرام ملکہ برطانیہ کو بھیجا گیا جس میں سریٹسے کو واپس بوٹسویا بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا۔ جب سریٹسے واپس گیا تو اس نے بادشاہت سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے ملک میں جمہوریت نافذ کر دی اور پہلے الیکشن کروا دیئے جس کے نتیجے میں وہ بوٹسوانا کا صدر بن گیا۔ سخت کٹھن وقت گزارنے کے باوجود سریٹسے اور روتھ دونوں ثابت قدم رہے اور بالآخر ایک دوسرے طریقے سے ملک کی حکومت بھی حاصل کر لی اور زندگی بھر ایک دوسرے کے ساتھ بھی رہے۔ سریٹسے نے 1980ءمیں 59سال کی عمر میں اپنی بیوی روتھ ویلیمز کی بانہوں میں دم توڑا۔ روتھ کا انتقال 78سال کی عمر میں 2002ءمیں ہوا۔ اب سریٹسے اور روتھ کی زندگی پر ایک فلم بننے جا رہی ہے جس میں مرکزی کردار برطانوی اداکار ڈیوڈ اوئیلوو اور روسامنڈ پیک نبھائیں گے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس