گدا گروں کی تعداد میں اضافہ ، ٹریفک اشاروں کے ریٹمقرر ، انتظامیہ بے بس

گدا گروں کی تعداد میں اضافہ ، ٹریفک اشاروں کے ریٹمقرر ، انتظامیہ بے بس

 لاہور(جنرل رپورٹر)صوبائی دارالحکومت میں گداگروں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ،اہم شاہراؤں ،چوکوں اور گلی محلوں میں باقاعدہ ڈیرے ڈال لئے،ٹریفک اشاروں کے ریٹ مقرر کر لئے ،خواتین ،بچے اور بزرگ افراد صبح سے شام تک گداگر ی میں مصروف نظر آتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارلحکومت میں گداگروں کی تعداد میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے ،جس وجہ سے شہری بھی مشکلات میں پھنس گئے ہیں شہر کی تمام شاہراؤں ،چوکوں اور گلی محلوں میں گداگر مختلف بھیسوں میں دیکھائی دیتے ہیں ۔شاہراؤں اور ٹریفک سگنل پر خواجہ سراؤں،بوڑھوں ،بچوں اور خواتین گداگروں کی تعداد میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جس کے آگے انتظامیہ بھی بے بس ہو گئی ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ گدا گر ٹولیوں کی شکل میں مختلف جگہوں پر موجود ہوتے ہیں ،مساجد کے باہر ہوٹلوں اور سرکاری دفاتر کے باہر بھی گداگروں کی بڑی تعداد نظر آتی ہے عدالتوں اور کچہریوں اور ہسپتالوں میں بھی گداگروں کا جم غفیر ہوتا ہے جو شہریوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔معلوم ہو ا ہے کہ گداگروں کے پیچھے پوش لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے جو غریب اور نادار عورتوں ،بچوں اور بوڑھوں سے بھیک منگواتے ہیں اور ان کا ایک حصہ یہ امیر زادے لیتے ہیں اور ایک حصہ بھکاریوں کو جاتا ہے ۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھکاری ایک خاص پلاننگ کے تحت بھیک مانگتے ہیں ان کا دن بھر کا شیڈول بنایا جاتا ہے کہ صبح کہاں اور شام کو کس چوک،شاہراء،مسجد یا ہسپتال میں ہونا ہے جس کیلئے پک اینڈ ڈراپ پیچھے بیٹھے ہوئے حصہ لینے والے لوگ دیتے ہیں اور غریب بھکاریوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جاتی ہے کہ کہیں کوئی بھکاری دس ،بیس روپے اوپر نیچے نہ کر لیں۔بھکاریوں کی روک تھام کیلئے حکومت نے متعدد بار کوششیں کیں اور بھکاریوں کی پکڑ دھکڑ بھی کی لیکن بھیک مانگنے والوں کو لگام نہیں دیا گیا۔جس وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1