بوگس چیک پر سزا کے قانون کا غلط استعمال شروع ہوگیا

بوگس چیک پر سزا کے قانون کا غلط استعمال شروع ہوگیا

لاہور(نامہ نگار)بوگس چیک پر سزا کے قانون کا غلط استعمال شروع ہوگیا، فراڈیئے رقم ہتھیا کر بوگس چیک کے ذریعے شہریوں کو کیس میں الجھا دیتے ہیں۔ ایڈیشنل سیشن جج اور تینوں کچہریوں میں بوگس چیک دینے کے کیسوں میں ریکارڈ اضافہ ہو گیا ہے۔ عدالتوں میں روزانہ 5سے 10درخواستیں جعلی چیک دینے والوں کے خلاف دائر کی جا رہی ہیں۔ حکومت نے جعلی چیک دینے والوں کو سزائیں دلوانے کے لئے489-F کا قانون بنایا تاکہ جعلی چیک دینے والوں کو روکا جا سکے، لیکن ایسا ممکن نہ ہوسکا۔

دریں اثناء ایڈیشنل سیشن جج گلزاراحمد نے 45لاکھ روپے کا جعلی چیک دینے والے ملزم عثمان بٹ کو 2 سال قید اور 50ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ چیک دینے کا رجحان ختم ہونا چاہئے، کاروباری لین دین چیک کی بجائے بینک کے ذریعے کیا جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4