نیا سکیورٹی پلان جاری ، تبلیغی جماعت کے تعلیمی اداروں میں ٹھہرنے اور تبلیغ پر پابندی ؛ مساجد میں خطبے انتظامیہ کی منظوری سے دیئے جائینگے

نیا سکیورٹی پلان جاری ، تبلیغی جماعت کے تعلیمی اداروں میں ٹھہرنے اور تبلیغ ...

لاہور(نیوز رپورٹر،سپیشل رپورٹر) پنجاب حکومت نے صوبے میں تعلیمی اداروں کیلئے نئی ایڈوائزری اور سکیورٹی پلان جاری کردیا۔چیف سیکرٹری خضر حیات گوندل نے ایڈوائزری اور سکیورٹی پلان پر عمل پیرا نہ ہونے والے تعلیمی اداروں کو سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز چیف سیکرٹری پنجاب خضر حیات گوندل کی سربراہی میں صوبے میں دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر تعلیمی اداروں میں سکیورٹی اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے کابینہ سب کمیٹی برائے امن و امان کا سول سیکرٹریٹ میں اجلاس ہوا۔ صوبائی وزیر ملک ندیم کامران، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی رانا مقبول احمد، سیکرٹری داخلہ میجر (ر) اعظم سلیمان خان، آئی جی پنجاب پولیس مشتاق احمد سکھیرا، مختلف محکموں کے سیکرٹریز اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ تعلیمی اداروں میں سکیورٹی بہتر بنانے کیلئے نیا سکیورٹی پلان اور سکیورٹی ایڈوائزری جاری کئے گئے ہیں۔نئے سکیورٹی پلان کے مطابق پنجاب کے تعلیمی اداروں کی مساجد میں خطبات انتظامیہ کی منطوری سے دیئے جائیں گے ۔تبلیغی جماعت کے یونیورسٹیوں میں تبلیغ اور ٹھہرنے پر پابندی ہوگی ۔یونیورسٹی انتظامیہ دہشت گرد عناصر سے ہمدردری رکھنے والے فیکلٹی ممبران کی اطلاع فوری سیکیورٹی اداروں کو دینے کی پابند ہوگی ۔تبلیغی جماعت پر یونیورسٹیز کی حدود میں تبلیغ کرنے اور ٹھہرنے پر پابندی لگادی گئی ۔ایڈوائزری کے مطابق انتظامیہ کے تعاون سے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور ہوم ڈیپارٹمنٹ بورڈ اورسوشل میڈیا پر فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ ہاسٹلز میں غیر طلباء عناصر کے ٹھہرنے پر مکمل پابندی ہوگی ۔اسلحہ اور منشیات کو پھیلنے سے روکنے کے لئے سخت اقدامات کی بھی ہدایت کی گئی ہے ۔انتظامیہ کو اپنا انٹیلی جنس نظام بنانے کا پابند بھی کردیا گیا ہے ۔سیکیورٹی ادارے تمام اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے روزانہ چیک اینڈ بیلنس کریں گے اور ہر تعلیمی ادارہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے نشاندہی کی گئی خرابی کو15دن میں دور کرنے کا پابند ہوگا۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ نے سکیورٹی پلان کے تحت تعلیمی اداروں کو مختلف درجوں میں تقسیم کرتے ہوئے۔ انتظامیہ کو اسلحے کے لائسنس جاری کئے جائینگے۔اجلاس میں ،اے اور اے پلس کیٹگری کے سرکاری، پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو سکیورٹی کے خصوصی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق لاہور میں نجی و سرکاری سکولوں کے سربراہ ضلعی انتظامیہ سے رجوع کرینگے۔ جہاں سے انہیں اسلحے کے لائسنس جاری کئے جائینگے۔اس سلسلے میں لاہور کے 770اے پلس اور اے کیٹیگری کے 6ہزار تعلیمی اداروں کو اسلحے کے لائسنس جاری کئے جائینگے۔جبکہ لاہور کے سکولوں کو 4سو سے زائد اسلحہ لائسنس دیئے جائینگے۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں فول پروف سکیورٹی یقینی بنانے کیلئے تمام وسائل فراہم کئے جائیں گے۔اور ایڈوائرزی یا سکیورٹی پلان پر عمل پیرا نہ ہونے والے تعلیمی اداروں کو سیل کردیا جائیگا۔

نیاسکیورٹی پلان

لاہور( لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے دیگراضلاع میں سرکاری و نجی سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں سکیورٹی کے انتظامات مزید ہائی الرٹ، جس میں بالخصوص لاہور ،گوجرانوالہ، فیصل آباد، سرگودھا اور ملتان کے اضلاع میں واقع تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کو مزید فول پروف بنانے کے حوالے سے رپورٹ دی گئی ہے۔ ’’پاکستان‘‘ کو حساس اداروں کی جانب سے حکومت کو گزشتہ رات ہنگامی بنیادی پر بھجوائی جانے والی ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف سامنے آیا ہے کہ لاہور سمیت گوجرانوالہ، فیصل آباد، سرگودھا اور ملتان کے اضلاع میں واقع تعلیمی ادارے ہٹ لسٹ پر ہیں۔ جس میں سکیورٹی کو مزید ہائی الرٹ اور فول پروف بنانے لئے اہم اقدامات کی ضرورت ہے، جس میں703 ایسے اے پلس کیٹگریز اور 1702 اے کیٹگریز کے تعلیمی اداروں کی نشاندہی کی گئی ہے جس پر انتظامیہ حرکت میں آ گئی ہے اور خفیہ ادارو ں کی خدمات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔ جبکہ پولیس کی ایلیٹ فورس، ریپڈ ریسپانس فورس اور ڈولفن فورس کو بھی ہائی الرٹ کیا جا رہا ہے اور یکم فروری سے لاہور سمیت پنجاب بھر میں سکولوں کے کھلنے پر سیکیورٹی انتظامات میں تمام ذمہ داروں کو خصوصی ٹاسک سونپ دئیے گئے ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ صوبے بھر میں ناقص سیکیورٹی کے حامل سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا گیا ہے ۔ محکمہ تعلیم اور ڈی سی اوز کی ٹیموں کے ساتھ حساس ادارے کو بھی چھاپے مارنے کا اختیار ہو گا۔ جبکہ تھانوں کی سطح پر ریپڈ رسپانس فورس نے بھی سیکیورٹی کا جائزہ لینے کے لئے گشت شروع کر دیا ہے جس میں گزشتہ روز بھی لاہور میں ایس او پیز کے مطابق سیکیورٹی کے انتظامات فول پروف نہ بنانے والے 20 نجی سکولز کو شوکاز نوٹس اور 10 کو سیل کر دیا گیا ہے، جبکہ پنجاب کے اضلاع میں فیصل آباد، سرگودھا ، گوجرانوالہ ، پاکپتن ، قصور ، ساہیوال سمیت دیگر اضلاع میں گزشتہ روز بھی سرکاری و نجی سکولوں کی ایس او پیز کے مطابق سیکیورٹی کے حوالے سے اب تک کے کئے گئے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے محکمہ تعلیم ، پولیس ، ڈی سی اوز کی ٹیموں نے دورے کئے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سمیت سپیشل برانچ کی ٹیمیں بھی خفیہ طور پر سیکیورٹی کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیتی رہی ہیں۔ محکمہ تعلیم اور دیگر اداروں سے ملنے والی اب تک کی صورتحال کے مطابق گزشتہ چار دنوں میں لاہور میں سب سے زیادہ تین سو سے زائد سرکاری و نجی سکولوں کی انتظامیہ کو ناقص سیکیورٹی پر شوکاز، سکولوں کو سیل اور مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ دوسرے نمبر پر جنوبی پنجاب کے اضلاع میں ملتان ، سرگودھا، مظفر گڑھ کے اضلاع میں ساڑھے تین سو سے زائد سرکاری و نجی سکولوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ اسی طرح گوجرانوالہ، سیالکوٹ، منڈی بہاؤالدین اور پاکپتن میں الگ الگ کارروائی کے دوران 70 سے زائد نجی سکولوں کے مالکان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ جس میں سکولوں کی باؤنڈری والز مقررہ اونچائی اور ان پر خاردار تاروں کی تنصیب کو یقینی نہ بنانے، سیکیورٹی گارڈز کے کوائف کی موقع پر تصدیق نہ ہونے جیسے انتظامات ناقص پائے جانے پر کارروائی کی گئی ہے۔ اسی طرح سکولوں کی انتظامیہ کے پاس میٹل ڈی ٹیکٹر نہ ہونے پر بھی انہیں وارننگ دی گئی ہے۔ سیکرٹری تعلیم عبدالجبار شاہین کے مطابق ایس او پیز کے نکات کو بڑھا کر 20 کر دیا گیا ہے جس میں سکولوں میں سی سی کیمرے اور سکول کھلنے پر باقاعدہ سویپنگ کروائی جانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ جبکہ سکولوں کے مین گیٹوں پر مورچے بنانے کے لئے دو دن کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ اور سکولوں کے داخلی گیٹوں پر ایمرجنسی نمبرز آویزاں اور موومنٹ رجسٹر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں کسی طلباء تنظیم یا یونین کو کسی قسم کی سرگرمی یا اجلاس کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اس میں مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کے لئے سی سی کیمرے نصب کرنے اور جن سکولوں میں سی سی کیمرے نصب ہیں ان کو آپریشنل کر کے سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ای ڈی او تعلیم لاہور کے مطابق سکولوں میں حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کے لئے ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کے لئے سرکاری و نجی سکولوں کے ہنگامی دورے شروع کر دئیے گئے ہیں جس میں سات ڈی ای اوز اور 15 اے ای اوز پر مشتمل افسران اور ان کی ٹیم روزانہ کی بنیاد پر سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لئے کئے گئے انتظامات اور اقدامات کا جائزہ لے رہی ہیں جس میں سکولوں کی باؤنڈری والز کی تعمیر اور خاردار تاروں کی تنصیب جیسے اہم پوائٹس شامل ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ اے پلس کیٹگریز کے سکولوں میں میٹل ڈی ٹیکٹر رکھنے اور سیکیورٹی کیمرے نصب کروائے جا رہے ہیں۔ سکولوں کے سامنے مورچے بنوانے ، پرنسپل اور ہیڈ ماسٹرز سمیت نجی سکولوں کی انتظامیہ کے دفاتر اور کلاسوں میں ایمرجنسی ٹیلی فونز نمبرز کو آویزاں کو یقینی بنانے جیسے اہم پوائٹس کو زیادہ فوکس کیا جا رہا ہے۔ سکولوں کی کینٹینز کے حوالے سے کلیئرنس حاصل کی جائے گی۔ ای ڈی او تعلیم لاہور کے مطابق سکولوں کے کھلنے تک ایس او پیز کے مطابق سیکیورٹی کے معاملات و اقدامات کو فول پروف بنانے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ایس او پیز کو سختی سے عمل کیا جائے گا اس میں سکولوں کے پرنسپلز اور ہیڈ ماسٹرز اور نجی سکولوں کے مالکان اورانتظامیہ ذمہ دار ہو گی تاکہ کوئی بھی ایسا ممکنہ سنگین واقعہ رونما نہ ہو سکے۔

مزید : صفحہ اول