فرقہ وارانہ قتل و غارت گری سے اسلام دشمن قوتیں فائدہ اٹھارہی ہیں: حافظ سعید

فرقہ وارانہ قتل و غارت گری سے اسلام دشمن قوتیں فائدہ اٹھارہی ہیں: حافظ سعید

لاہور(اے این این)امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا کہ دنیا سے ظلم اور فساد کا خاتمہ قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر بھارت و امریکہ کی زبان بولنے والے ملک میں نفرتیں پھیلا رہے ہیں۔مسلم معاشروں میں فرقہ وارانہ قتل و غارت گری سے اسلام دشمن قوتیں فائدے اٹھا رہی ہیں۔ علماء کرام اپنی ذمہ داری ادا کریں اور قوم میں اتحادویکجہتی کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ وہ جامع مسجد القادسیہ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہاکہ حکمران و سیاستدان کہتے ہیں کہ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے‘ ہم دنیا سے الگ نہیں رہ سکتے۔اس لئے امریکہ و یورپ کی بات ماننا ہماری مجبوری ہے۔ایسی باتیں ذہنی غلامی کی انتہا ہیں۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ آپ دنیا سے الگ تھلگ ہو جائیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس زمین پر اپنا نمائندہ بنایا ہے۔انہیں اغیار کے نہیں اللہ کے احکامات کی پیروی کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کودنیا میں رہنما بنا کر کھڑ اکرنا چاہتا ہے۔وہی دنیا کے حالات بدلنے والا ہے۔ تبدیلیاں اسی کی طرف سے ہوتی ہیں‘ ہر چیز اس کے کنٹرول میں ہے۔انہوں نے کہاکہ دنیا میں اللہ کے سوا کسی اور کے بنائے ہوئے نظام چلنے لگ جائیں اور اللہ کا حق غصب کیا جانے لگے تو پھر دنیا ظلم اور فساد سے بھر جاتی ہے۔انسانوں کے حق محفوظ نہیں رہتے اور ہر شخص دوسرے پر ظلم کی کوشش کرتا ہے۔قرآن پاک میں مسلمانوں کو درپیش تمام مسائل کا حل موجود ہے۔دنیا سے ظلم کے خاتمہ کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مسلمان دین اسلام پر عمل پیر اہو جائیں۔ فلسطین، مصر اور شام جیسے ملکوں پر مغربی ممالک نے قبضے کر لئے۔مسلمان کئی صدیوں تک بدترین غلامی کا شکار رہے اور جب ملکوں کو آزادیاں ملنا شروع ہوئیں تو انگریز نے اس خطہ میں مرزا غلام قادیانی جیسے ایجنٹ کھڑے کئے جس نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ فتویٰ دیا کہ سرزمین ہند دارالکفر نہیں ہے۔آج اگرچہ غلام قادیانی موجود نہیں ہے لیکن بعض لوگوں کی سوچ اور نظریات وہی ہیں اور آج وہ بھی انہی باتوں کو دہرا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نماز، روزہ ، حج اور زکوٰۃ کی طرح مسلمانوں کا ہر عمل قرآن و سنت کے مطابق ہونا چاہیے۔ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگیوں کو اسلامی شریعت کے مطابق ڈھالے اور بچوں کی تربیت دینی بنیادوں پر کی جائے۔

مزید : صفحہ آخر