امریکی سائنسدانوں نے زکا وائرس کی ویکسین کی تیاری شروع کر دی

امریکی سائنسدانوں نے زکا وائرس کی ویکسین کی تیاری شروع کر دی

 واشنگٹن (اظہرزمان، بیوروچیف) زکاء وائرس کے دو براعظموں وسطی امریکہ اور جنوبی امریکہ میں پھیلنے کے بعد امریکی سائنس دانوں نے اس کیلئے ویکسین کی تیاری شروع کر دی ہے۔ الرجی اور متعدی امراض کیلئے نیشنل انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے گزشتہ شام یہاں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت تک اس وائرس کا کوئی علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے اور اس مرض کی تشخیص کیلئے خصوصی لیبارٹریز دو ہفتے تک وقت لیتی ہیں۔ یاد رہے یہ وائرس 1947ء میں افریقی بندروں میں دریافت ہوا تھا جس کے مریض پر بہت معمولی اثرات ہوتے تھے۔ تاہم 2013ء میں یہ وائرس نمایاں ہوا ہے۔ 2015ء میں اس نے زور پکڑا جس کا مرکز برازیل ہے جس کے سمیت وسطی امریکہ اور جنوبی امریکہ کے براعظموں کے 24 ممالک اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ جن سے 15 لاکھ افراد متاثر ہوچکے ہیں۔ یو ایس اے اس محفوظ ہے۔ سو فیصد تصدیق نہیں ہے تاہم قوی امکان ہے کہ حاملہ عورتوں میں چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش اس وائرس سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ شخص عارضی فالج کا بھی شکار ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر فاؤچی نے مزید بتایا کہ ان کا ادارہ ریسرچ کیلئے فنڈ فراہم کر رہا ہے، جس میں تفتیشی آلات، علاج اور ویکسین کی تیاری کے علاوہ اس مچھر کی حیاتیات پر بھی کام کیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ زکا وائرس کے ذریعے آنکھیں سرخ، جوڑوں میں درد اور جلد پر خارش اور بخار ہوتا ہے۔ یہ اثرات اس کے ساتھی مچھر ڈینگی کی نسبت بہت کم ہوتے ہیں جو ہڈیوں کو متاثر کرتا ہے۔ ڈاکٹر فاؤچی نے بتایا کہ خوش قسمتی سے وائرس کی پوری فیملی Flaviviruses پر 10 کروڑ ڈالر کی لاگت سے ان کا ادارہ پہلے ہی ریسرچ کر رہا ہے جس میں ڈینگ، ’’ویسٹ نائیل‘‘، پہلا بخار اور زکا بھی شامل ہے، جو یقیناً زکا وائرس کی ویکسین کی تیاری میں مددگار ثابت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ زکا کی ویکسین تیار کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ قبل ازیں ’’ویسٹ نائیل‘‘ وائرس کے لئے ایک ویکسین تیار کی گئی تھی۔ سائنس دان سب سے پہلے اسی ویکسین میں ویسٹ نائیل وائرس کے جین کو زکا وائرس کے جین میں تبدیل کرنے کی کوشش کرینگے۔ امید ہے کہ رواں سال کے آخر تک اس ویکسین کو مریضوں پر آزمایا جاسکے گا۔

مزید : صفحہ اول