قیام امن کیلئے سیاسی اور معاشی دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے ، سراج الحق

قیام امن کیلئے سیاسی اور معاشی دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے ، سراج الحق

 حیدرآباد(بیورو رپورٹ)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں امن کے قیام کے لئے اسلحہ کی دہشت گردی کے علاوہ سیاسی اور معاشی دہشت گردی کا خاتمہ بھی ضروری ہے، وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان مصنوعی لڑائی جاری ہے جس کا غریب عوام سے کوئی تعلق نہیں، جب کوئی حکومت ناکام ہو جاتی ہے تو وہ "شہید"ہونے کی کوشش کرتی ہے، تمام حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئیے تاکہ پھر عوام ان کا احتساب کر سکیں، بلدیاتی نمائندوں کو سیاست اور تعصب سے بالاتر ہو کر کام کرنا چاہئیے جن کو عوام نے مینڈیٹ دیا ہے ان کو اختیارات بھی ملنے چاہئیں لیکن ایم کیو ایم ہڑتالوں کے سلسلے میں خصوصی مہارت رکھتی ہے، کرپٹ سرمایہ داروں جاگیرداروں اور وڈیروں نے 70 ارب ڈالر قومی خزانے سے لوٹ کر مختلف ممالک میں بھیجے ہیں ان کی گردن دبوچ کر یہ دولت واپس لی جانی چاہئیے، موجودہ انتخابات پیسے کا کھیل بن گیا ہے مگر الیکشن کمیشن نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں، حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہو گئی ہے، جماعت اسلامی آئندہ مارچ سے کرپشن کے خاتمے اور قانون اور انصاف کی بالادستی کے قیام کے لئے مہم شروع کر رہی ہے وکلاء برادری اس میں ہمارا ساتھ دے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلاء سے خطاب کیا، ظہرانے پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی اور مبارک مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع کی امامت کی، دورہ حیدرآباد میں نائب امراء جماعت اسلامی پاکستان اسداللہ بھٹو ایڈوکیٹ، راشد نسیم، جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، ممتاز حسین سہتو، عبدالوحید قریشی ان کے ساتھ تھے جبکہ امیر جماعت اسلامی حیدرآباد حافظ طاہر مجید، سابق امیر جماعت اسلامی حیدرآباد مشتاق احمد خان، سیکریٹری جماعت اسلامی حیدرآباد ڈاکٹر سیف الرحمن اور دیگر نے ان کا خیرمقدم کیا۔ہائیکورٹ بار حیدرآباد میں بار کے صدر غلام اللہ چانگ، سابق ایڈوکیٹ جنرل یوسف لغاری، عبدالمعید شیخ، عبدالرحمن شیخ، سہیل ستار بروہی، طارق میمن، محمد حسین، سہیل میمن، عبدالحئی ایڈوکیٹ اور دیگر وکلاء نے بڑی تعداد میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا خیرمقدم کیا، انہیں اور اسداللہ بھٹو ایڈوکیٹ، راشد نسیم اور ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی کو سندھ کے روایتی تحفے اجرک اور ٹوپی پیش کئے گئے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے ہائیکورٹ بار میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں مجھے جو عزت دی گئی ہے میں اس پر بے حد شکرگزار ہوں جب سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں پر ملک میں تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں تو پھر بھی ان کے لئے بار روم کھلے رہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور وکلاء تنظیموں میں ایک بات مشترک ہے کہ جماعت اسلامی نے بھی ہر سطح پر مقررہ مدت پر باقاعدہ انتخابات ہوتے ہیں جماعت اسلامی کسی کی ذاتی جاگیر نہیں اسی طرح بارز میں بھی باقاعدگی سے انتخابات ہوتے ہیں اس لئے جماعت اسلامی اور وکلاء ہی یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ حقیقی معنوں میں جمہوریت پسند ہیں، انہوں نے کہا کہ حیدرآباد آمد پر میں نے دو چیزیں خصوصاً دیکھی ہیں جگہ جگہ دیواروں پر سڑکوں پر سیاسی رہنماؤں کی بڑی بڑی تصاویر لگی ہوئی ہیں جبکہ گلیوں چوراہوں سمیت ہر طرف گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جبکہ ماضی میں حیدرآباد بہت خوبصورت شہر تھا اور باہم محبت اور مہمان نوازی اس کی پہچان تھی، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو چاہئیے کہ وہ حیدرآباد سمیت شہروں قصبات اور دیہات میں صفائی ستھرائی کے نظام کو موثر بنائیں ورنہ قوم ان پر جھاڑو پھیر دے گی، سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت ایک طرف دشمنوں کی طرف سے خطرات ہیں جنہوں نے دہشت گردی مسلط کر رکھی ہے جبکہ اندر کے دشمن بھی قوم کو نشانے پر رکھے ہوئے ہیں اور تعلیمی اداروں کو بھی خون میں نہلایا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ آج کراچی میں بھی تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے ہیں ملک میں تعلیمی ادارے بند کرنے سے خوف اور حکومت کی ناکامی کا پیغام ملا ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ میں حکومت نے امن و امان کی ذمہ داری رینجرز کو دی ہوئی ہے اور تعلیم اور صحت کو این جی اوز کے حوالے کر دیا ہے حالانکہ عوام کو امن اور تحفظ دینا اور صحت اور تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ مسلح دہشت گردوں نے چارسدہ میں نہایت سفاکی سے طلباء اور اساتذہ کو بارود کا نشانہ بنایا اسی طرح پشاور کوئٹہ اور دیگر مقامات پر دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں نیشنل ایکشن پلان کو ایک سال گزر گیا ہے مگر اب تک حالات معمول پر نہیں آئے حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ ایک سال میں امن قائم کر دیا جائے گا اس کے لئے قبائل میں آپریشن کے ساتھ اصلاحات بھی کی جائیں گی، بلوچستان میں مفاہمت کے عمل کو تیز کیا جائے گا، انصاف کا سہل اور تیزرفتار نظام قائم کیا جائے گا مگر ان تمام حوالوں سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی، حکومت نے کوئی قانون سازی نہیں کی صرف مدارس اور مساجد میں پولیس کے ذریعے خوف پھیلایا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارا بہت واضع موقف ہے کہ قانون کا نفاذ یکساں طور پر ہونا چاہئیے نہ کوئی امتیازی قانون بننا چاہئیے اور نہ ہی امتیازی طور پر اس پر عملدرآمد ہونا چاہئیے، مجرم کالج یونیورسٹی مدرسے مسجد جہاں بھی پائے جائیں ان کو ضرور گرفتار کیا جائے، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرپشن بہت سنگین مسئلہ ہے حکمران طبقہ اور اشرافیہ جس میں پوری طرح ملوث ہیں، قومی خزانے کی چوری میں کوئی غریب چوکیدار نائب قاصد گیٹ کیپر ملوث نہیں ہیں بلکہ وائٹ کارلر چور ہیں جو اپنے قلم منصب اور مرتبے کو کرپشن کے لئے استعمال کرتے آ رہے ہیں، نیب کے ایک سابق اعلیٰ افسر کے مطابق ملک میں 10 کھرب 74 کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ نیب کے اختیارات کو محدود کرنے کے بارے میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے نیب کے اختیارات کو وفاقی اداروں تک محدود کرنے کے بل کی جو منظوری دی ہے یہ قابل قبول نہیں ہے، مجرم جہاں بھی ہوں ان کو پکڑا جانا چاہئیے، افسوس ہے کہ سندھ حکومت نے تو ایسا قانون منظور کیا ہے کہ جس کے ذریعے اس نے مجرموں کو چھوڑنے کا مکمل اختیار حاصل کر لیا ہے حالانکہ حکومتوں کا کام مجرموں کو چھوڑنا نہیں مجرموں کو پکڑنا امن قائم کرنا اور کرپشن کا خاتمہ ہے، اگر چاروں صوبوں نے ایسے ہی قانون منظور کئے تو پھر تمام مجرم جیلوں سے باہر ہوں گے اور وکلاء سمیت تمام پرامن اور قانون پسند شہری جیلوں میں ہوں گے، مخصوص افراد اور پارٹی مفادات کے لئے جب قوانین بنائے جاتے ہیں تو حکومتیں ناکا ہو جاتی ہیں، انہوں نے کہا کہ غریب محنت کش ملازمت پیشہ افراد ڈسپرین کی گولی چائے سمیت ہر چیز پر 50 قسم کے ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن جاگیردار خوانین نواب وڈیرے مستثنیٰ ہیں ان کے وارے نیارے ہیں، یہ فرسودہ استحصالی نظام ہی قوم کے مسائل کا بنیادی سبب ہے، غریب اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے کچرے میں سے روزی تلاش کرنے پر مجبور ہیں، سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی اسٹیٹسکو اور استحصالی نظام مالی سیاسی اور اخلاقی کرپشن کے خلاف آئندہ مارچ سے ملک گیر تحریک شروع کر رہی ہے جس میں بنیادی مقصد قانون کی حکمرانی کا قیام ہے، موجودہ استحصالی نظام دراصل یہودی اور فرعونی نظام ہے وکلاء اور تمام مظلوم غریب طبقات کو چاہئیے کہ وہ اس تحریک میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں، انہوں نے کہا کہ سینہ زوری کے نظام میں ہمیشہ بڑے لوگوں کو ہی فائدہ ہوتا ہے اس وقت جو انتخابی نظام رائج ہے اس میں غریب تو امیدوار بننے کا بھی نہیں سوچ سکتا کیونکہ پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بعض امیدواروں نے تو ایک ارب روپے تک بھی خرچ کئے ہیں اور ووٹ سے نہیں پیسے کے زور پر کامیابی حاصل کی ہے اسی لئے تمام پارٹیاں بھی جاگیرداوں وڈیروں اور ایسے خوانین کو ہی ٹکٹ دیتی ہیں جو پارٹی فنڈ میں بھی کروڑوں روپے دے سکے اور انتخابی مہم پر بھی کروڑوں روپے خرچ کر سکے، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی قوم کے ساتھ مل کر الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالے گی کہ وہ انتخابی عمل سے پیسے کا عمل دخل ختم کرے حکومت نے وعدہ کرنے کے باوجود 9 ماہ میں انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے سلسلے میں کوئی اصلاحات نہیں کیں، انہوں نے کہا کہ تھر میں بچوں کی اموات کا ذکر کیا گیا ہے میں خود مٹھی اور دیگر علاقوں میں گیا تھا وہاں ہسپتال میں ایک ایک بستر پر چار چار بیمار بچے لیٹے دیکھے ہیں، حکمران اور مراعات یافتہ طبقات کو بھوک سے غریبوں کے مرنے پر کوئی افسوس نہیں وہ تھر میں اموات کو میڈیا کی شرارت قرار دے کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں اگر وہاں کسی حکمران کا بچہ مرتا تو پورے ملک میں زلزلہ آ جاتا لیکن غریبوں کے بچوں کو کیڑے مکوڑے سمجھا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی غریب لوگوں کی جماعت ہے لیکن اس نے اپنے کارکنوں کی مدد سے 18 کروڑ روپے تھر میں خرچ کئے ہیں اور ایک انتہائی نگہداشت یونٹ قائم کیا ہے جو اس وقت کام کر رہا ہے، سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو مجبور کریں گے کہ وہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لئے تمام اقدامات اٹھائے اور یہ پابندی لگائی جائے کہ جو سیاسی مذہبی جماعت الیکشن کمیشن کی موجودگی میں اپنے پارٹی انتخابات شفاف طور پر کرائے گی وہی آئندہ عام انتخابات میں حصہ لے سکے گی جو سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوریت برداشت نہیں کرتیں ان کو قومی انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی حق نہیں، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بنیادی طور پر متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام کے حق میں ہے اس سے سرمایہ دار جاگیردار دولت مند سیاستدانوں سے پارٹیوں کو آزادی حاصل ہو سکتی ہے اور جو لوگ اپنے سرمائے کے بلبوتے پر پارٹیوں کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں ان سے نجات ملنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں اس لئے ہم نے مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی پی ٹی آئی کی قیادت سے اس سلسلے میں بات کی ہے جنہوں نے اصولی طور پر تو ہمارے موقف کی حمایت کی ہے مگر اس پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں تمام جاگیردار سرمایہ دار ان سے الگ ہو جائیں گے، انہوں نے کہا کہ اسلحے کی دہشت گردی کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ امن و امان کے قیام کے لئے سیاسی اور معاشی دہشت گردی ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایم کیو ایم کو ووٹ ملے ہیں لیکن پھر بھی اس نے شہر کو مفلوج کر رکھا ہے ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کی لڑائی میں کراچی اور حیدرآباد کو خصوصاً نقصان پہنچ رہا ہے، ایم کیو ایم ہڑتالوں کے سلسلے میں اسپیشلائزیشن کئے ہوئے ہے، انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو مینڈیٹ ملا ہے ان کو ضرور اختیارات ملنے چاہئیں لیکن انہیں اختیارات حاصل کرکے عوام کے مسائل حل کرانے کے لئے کام کرنا چاہئیے نہ کہ احتجاج کرکے شہروں کو مفلوج کرنا چاہئیے، انہوں نے کہا کہ وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان مصنوعی لڑائی جاری ہے جس کا غریب عام لوگوں سے کوئی تعلق نہیں یہ ذاتیات اور پارٹی مفادات کے لئے قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں ہماری یہ پختہ رائے ہے کہ تمام حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئیے اور کسی بھی حکومت کو "شہید" ہونے کا موقع نہیں ملنا چاہئیے تاکہ آئندہ انتخابات کے موقع پر عوام ان کا گریبان پکڑ کر احتساب کریں، انہوں نے کہا کہ غریبوں کو بھی اپنے ووٹ کی طاقت کا احساس کرنا چاہئیے یہ ان کے ہاتھ میں ایٹم بم ہے اسے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے بیچ نہیں دینا چاہئیے بلکہ اس طاقت کو ظالموں کا احتساب کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہئیے، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کے اقتدار کا کچھ وقت باقی ہے تو انہیں وڈیروں کو خوش کرنے کے لئے افسران تعینات کرنے کے بجائے سندھ کے عوام اور ان کے بچوں کے لئے ہسپتالوں اور اسکولوں کی حالت بہتر بنانی چاہئیے اس وقت ہسپتالوں کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے اور متوسط طبقے کے لوگ بھی علاج نہ ملنے کی وجہ سے حیدرآباد اور کراچی ہی نہیں ملک کے دیگر حصوں میں جانے پر مجبور ہو رہے ہیں جبکہ دیہات اور قصبات میں غریب علاج کے بغیر ایڑیاں رگڑ کے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر سندھ حکومت کے پاس مالی وسائل کی کمی ہے تو ہمارا وفاقی حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ سندھ کو مالی وسائل فراہم کرے پاکستان کے پاس وسائل کی کمی نہیں صرف انہیں منصفانہ طور پر تقسیم کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وسائل کے سلسلے میں صرف پنجاب کو اپنا محور بنا رکھا ہے قومی خزانے میں 18 کروڑ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکسوں کی رقم جمع ہوتی ہے اس لئے اسے کسی ایک صوبے یا شہر تک محدود نہیں رہنا چاہئیے بلکہ یہ وسائل پوری قوم کے لئے استعمال ہونے چاہئیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیرخزانہ نے بیرونی قرضوں کے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے ہیں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرضے لے کر ان کا غلط استعمال کیا جاتا ہے اور اس کا بوجھ نئی نسلوں پر ڈالا جا رہا ہے یہ رویہ تبدیل ہونا چاہئیے، انہوں نے کہا برطانوی وزیراعظم کا لندن میں اپنا گھر نہیں لیکن ہمارے موجودہ اور سابق حکمران طبقات کے لندن دبئی سعودی عرب ملائیشیا میں بڑے بڑے محلات ہیں، قوم کے 70 ارب ڈالر لوٹ کر بیرون ملک رکھے گئے ہیں جبکہ دنیا کے مختلف ملکوں میں محنت مزدوری کرنے والے پاکستانی زرمبادلہ کی صورت میں یہ رقوم اپنی قوم کے لئے بھیجتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں ان لٹیروں کی گردن پر ہاتھ یا پاؤں رکھ کر انہیں مجبور کرنا ہو گا کہ وہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں، سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ میری کوئی جائیداد نہیں اس لئے میں کسی طرح کے مفادات کا اسیر نہیں ہوں میرا ایسے غریب خاندان سے تعلق ہے جو مجھے اسکول میں بستہ خرید کر بھی دینے کے قابل نہیں تھا اس لئے ہم نے ویلفیئر ایجنڈا تشکیل دیا ہے جس کے مطابق جماعت اسلامی یونیورسٹی کالجوں اور مدارس میں یکساں نظام تعلیم نافذ کرنے کرے جس میں امیر غریب کو برابر سہولتیں میسر ہوں گی، مہلک امراض کا مفت علاج حکومت کے ذمہ ہو گا، 70 سال کی عمر کے ہر عورت اور مرض کو بھڑاپا الاؤنس دیا جائے گا اور اور بیروزگاروں کو روزگار ملنے تک الائنس ملے گا، انہوں نے کہا کہ یہ چیزیں فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے جس کے لئے وسائل کی کوئی کمی نہیں صرف اس کی غیرمنصفانہ تقسیم سے مسائل پیدا ہوئے ہیں، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی الیکشن قوانین میں اصلاحات کرے گی جس کے تحت لازمی ہو گا کہ ہر امیدوار یہ سرٹیفکیٹ پیش کرے کہ اس نے اپنی بیٹی اور بہن کو جائیداد میں سے حق دے دیا ہے، جو شخص اپنی بیٹی اور بہن کو حق نہیں دینا اس کو قوم کی نمائندگی کرنے کے لئے آگے آنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے، انہوں نے کہا کہ ہندو سکھ عیسائی تمام اقلیتوں کا خون اسی طرح مقدس ہے جس طرح صدر اور وزیراعظم کا ہے کسی کی طرف سے بھی ان پر ظلم برداشت نہیں کیا جا سکتا، سراج الحق نے کہا کہ انہوں نے جماعت اسلامی کے مینار پاکستان لاہور پر ہونے والے تین روزہ پروگرام میں ان اقلیتی برادری کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا تھا اور انہیں اسٹیج پر بٹھا کر تجویز پیش کی تھی کہ ان کو اقلیتی نہ کہا جائے اس سے احساس محرومی کا احساس ہوتا بلکہ نہیں پاکستانی برادری کہا جائے، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی غریب اور مظلوم لوگوں کی پشت پناہ ہے اسلامسٹ ڈیموکریٹک اور پروگریسیو پارٹی ہے جو ملک میں اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے نظام کی بالادستی معاشرے میں جمہوریت اور ترقی پر یقین رکھتی ہے، سندھ باب الاسلام اور محبتوں کی سرزمین ہے جہاں نفرت کے بیج بونے سے باز رہنا چاہئیے۔

مزید : کراچی صفحہ اول