سائرہ تارڑ کا صحت کے شعبے سے کرپشن کے مکمل خاتمے کیلئے اقدامات کا اعلان

سائرہ تارڑ کا صحت کے شعبے سے کرپشن کے مکمل خاتمے کیلئے اقدامات کا اعلان

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وزیر مملکت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن سائرہ افضل تارڑ نے صحت کے شعبے سے کرپشن کے مکمل خاتمے کے لئے اقدامات اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک میں نئے میڈیکل کالجوں کے قیام کے لئے قواعد وضوابط پر عملدرآمد کیا جائے گا ، میڈیکل کالجزداخلوں کے عمل میں میرٹ کو یقینی بنائیں تاکہ طب کے شعبے کے تشخص کو بہتر بنایا جا سکے، پی ایم ڈی سی ایک خودمختار ادارہ ہے ،طب کے شعبے میں بہتری کے لئے اس کی سفارشات پر عملدرآمد کیا جائے اور اگر اس مقصد کے لئے ضروری ہوا تو قانون سازی بھی کی جائے گی ،پی ایم ڈی سی کو حکومت کے وژن کے مطابق موثر اور خودمختار ادارہ بنائیں گے، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے معاملات کو شفاف طریقے سے چلائے جانے کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ ملک بھر میں عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے میڈیکل کی تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے ،میڈیکل کالجز کے معیار کو بہتر بنا کر میرٹ کا پابند کیا جائے گا اس میں کرپشن اور سیاست بازی برداشت نہیں کی جائے گی ،بنائے گئے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا ئے گا۔ وہ جمعہ کو یہاں پی ایم ڈی سی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پی ایم ڈی سی کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بہتر بنانے کا عزم کر رکھا ہے اور اب ماضی کی طرح پی ایم ڈی سی میں کرپشن اور سیاست بازی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اور اب نئی تشکیل شدہ کونسل اور وزارت صحت دونوں مل جل کر کام کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل کالجز کو تسلیم کرنے ، رجسٹریشن اور امتحانات کے نظام کو قابل اعتماد بنانے کے لیے وزارت صحت اور کونسل کے مابین ایسی رابطہ کاری اور ٹھوس کوششوں کی ضرورت ہے جس سے اس ادارہ میں کرپشن بالکل ختم ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم اینڈ ڈی سی کو ماضی میں کئے گئے میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کو تسلیم کئے جانے کے حوالہ سے فیصلوں اور سفارشات کی موزونیت کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے اور اس ضمن میں کونسل کی شفارشات کواہمیت دی جائے گی تاکہ ملک بھر میں میڈیکل کی تعلیم اور طبی پیشہ کو دھارے میں لایا جا سکے۔سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ مریضوں کو فوری طبی امداد اور طبی نگہداشت جبکہ غریب طلبا کو میڈیکل کی تعلیم مفت فراہم کر کے نجی میڈیکل اداروں کو اپنی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری پوری کرنا ہو گی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کوطویل اور مختصر مدتی حکمت عملی کے ذریعے موثر اور زیادہ فعال بنایا جائے گا۔ تاکہ بین الاقوامی طورپر اہم ادارے کی اہمیت میں اضافہ کیا جاسکے اور طب کے شعبے میں رائج جدت پسندی کو بھی پروان چڑھایا جا سکے۔ ایک سوال کے جواب میں سائرہ افضل تارڑ نے توقع ظاہر کی کہ نئی کونسل کے صدر اور اراکین اداروں سے کرپش کے خاتمہ، طبی معیار میں بہتری لانے اور اداروں کی رجسٹریشن کی لیے پوری تندہی اور مستعدی سے کام کریں گے۔ پریس کانفرنس کے دوران سائرہ افضل تارڑ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پی ایم اینڈ ڈی سی میں کرپشن اور کوتاہی کسی صورت بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ یہ میرے لیے باعث مسرت ہے کہ جو وعدہ میں نے اس ملک کی عوام کے ساتھ کیا تھا وہ پورا کر دیا ہے اور آج ایک شفاف انتخابات کے بعد پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی نو منتخب باڈی نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ جس کا بنیادی مقصد ادارے کو موثر بنانا اور کرپشن کا مکمل خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی باڈی صحت کے شعبے میں دی جانے والی سہولیات کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ جب میڈیکل کا لجوں سے اچھے ڈاکٹر پیدا ہوں گے تو یہ ڈاکٹر بعد میں دکھی انسانیت کی صحیح معنوں میں خدمت کر سکیں گے۔ پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میڈیکل ڈینٹل کونسل کے نئے صدر پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد لہری اور کونسل کے نئے اراکین بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب پی ایم ڈی سی کے معاملات میں شفافیت اور پیشہ وارانہ معیار میں بہتری کے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور طبی معیار اور تعلیمی معیار میں بہتری کا سورج طلوع ہو رہا ہے۔ نئی تشکیل شدہ کونسل کے نو منتخب اراکین صدر نے میڈیا کے تمام نمائندگان کو دعوت دی کہ وہ این ی بی کے امتحانات کو آ کر دیکھ لیں کہ کس طرح غیر جانبدارانہ کمیٹی کے زیر اہتمام امتحان کا انعقاد کے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کے معاملات میں بہتری لانے کے لیے وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ نے جو کاؤشیں اور کوششیں کیں ہم ان کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پورے ملک کی ڈاکٹر برادری ان کی ممنون ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران طبی پیشہ کی مایہ ناز ماہر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ وزارت قومی صحت کو اس وقت سائرہ افضل تارڑ جیسی قابل، ایماندار قیادت میسر ہے جو تمام معاملات کو شفاف طریقے سے چلا رہی ہیں۔ جس کا اندازہ حال ہی میں پی ایم ڈی سی کی شفاف اور ایماندار طریقے سے دوبارہ تشکیل جیسے اقدامات سے بھی لگایا جا سکتا ہے اور وہ اس قسم کے کئی دیگر اقدامات کرنے پر لائق تحسین اور قابل تعریف ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر