مہمند ایجنسی پہاڑی تنازعہ ،اقوام کے مابین تصفیہ ہوگیا

مہمند ایجنسی پہاڑی تنازعہ ،اقوام کے مابین تصفیہ ہوگیا

مہمند ایجنسی ( نمائندہ پاکستان )مہمند ایجنسی، پولیٹیکل انتظامیہ جرگے کے فیصلے پر عملدرآمد کر کے غیر قانونی لیز رکوائے۔ قوم گاگیزئی اور میاں گان کے درمیان ملکیت کا تنازعہ پولیٹیکل انتظامیہ نے قومی مشران کے ذریعے فیصلہ کر کے حد بندی کی۔ جس کی توثیق کمشنر نے بھی کی ہے۔ اب سوات کے رہائشی آصف نامی شخص اثر و رسوخ اور جعلسازی کے ذریعے قبضہ جمانا چاہتا ہے۔ جس کا نوٹس لیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار تحصیل صافی گاگیزئی کے عمائدین ملک خان بہادر، حاجی رویلے، ملک محمد نبی اور دیگر نے مہمند پریس کلب میں صحافیوں کو بیان دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے قوم گاگیزئی اور خانقاہ میاں گان کے درمیان ماربل پہاڑی ذخیرے کی ملکیت کا تنازعہ پیدا ہوا تھا۔ جس کیلئے پولیٹیکل انتظامیہ کے سابقہ اے پی اے اپر مہمند ذیشان عبداللہ نے مہمند قومی مشران کا جرگہ تشکیل دیا جس نے فریقین سے 50 لاکھ روپے تک فیس لیکر دونوں اقوام کے درمیان حد بندی کا فیصلہ کر کے پہاڑیاں تقسیم کی۔ مخالف فریق نے فیصلہ چیلنج کیا تو کمشنر FCR نے فھی وہی فیصلہ مبنی بر انصاف قرار دیکر برقرار رکھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اب سوات کے رہائشی آصف ، طارق اور کامران اثر و رسوخ کی بناء پر گاگیزئی قوم کا ماربل پہاڑ میں جعلسازی کے ذریعے لیز حاسل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے پولیٹیکل انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی مشران اور کمشنر کے کے توثیق شدہ فیصلے پر عملدرآمد کر کے فوری لاگو کیا جائے۔ اور مذکورہ لیز کو مسترد کر کے بے انصافی سے بچائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر