محبوبہ کو مارنیکے بعد نوجوان کی خود کشی یا پریمی جوڑے کا منتظم قتل؟

محبوبہ کو مارنیکے بعد نوجوان کی خود کشی یا پریمی جوڑے کا منتظم قتل؟

پشاور(عمران رشید)حیات آباد کے علاقے فیز ون میں مبینہ طور پر محبوبہ کو قتل کرکے خودکشی کرنیوالے نوجوان کے ورثاء نے واقعہ کو خودکشی نہیں بلکہ پریمی جوڑے کا قتل قرار دیتے ہوئے مقتولہ کے دو بہنویوں کے خلاف دیویداری کردی، تھانہ حیات آباد میں درج ہونیوالی روزنامچہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز مقتول محمود زیب کی والدہ مسماۃ شمیم اختر بیوہ ملک اورنگزیب سکنہ پتنگ چوک نے بتایا کہ ان کا 18سالہ بیٹا جو کہ دسویں جماعت کا طالب علم تھا کی مقتولہ مسماۃ حسنہ سے تقریباً ڈیرھ سال قبل اشنائی ہوئی اور دونوں میں ملنا جلنا رہتا تھا،انکی منگنی کی بات بھی طے ہوچکی تھی اور مقتولہ کی والدہ مسماۃ فاطمہ نے چند روز کا وقت لیا کہ اس کے دو نوں داماد شہر سے باہر ہیں آجائیں تو ان کی منگنی کی تاریخ مقرر کی جائیگی وقوعہ کے روز لڑکی کے گھر سے مقتول کو فون کرکے اپنے گھر بلایا ،کچھ دیر بعدماں نے بیٹے محمود زیب کا نمبر ملایا گیا توفون مقتولہ حسنہ کی بہن نے اٹھایا اور کہا کہ آکر بیٹے کی لاش لے جاؤ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر