زمین دراصل دوسیاروں کا مجموعہ ہے ،سائنسدانوں کا دعویٰ

زمین دراصل دوسیاروں کا مجموعہ ہے ،سائنسدانوں کا دعویٰ
زمین دراصل دوسیاروں کا مجموعہ ہے ،سائنسدانوں کا دعویٰ

  

لندن(ویب ڈیسک )سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ زمین درحقیقت 2سیاروں کا مجموعہ ہے جو ایک دوسرے سے ٹکرا کر جڑ گئے تھے اور یہ ٹکراﺅ اتنا زبردست تھا کہ اس کے نتیجے میں چاند کی تشکیل بھی ہوئی۔یہ دعویٰ امریکی سائنسدانوں نے اپنی ایک تحقیق میں کیا ہے۔برطانوی جریدے ٹیلی گراف میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ابتدا میں اس بات پر یقین کیا جا تا رہا ہے کہ ‘تھیا ’(THEIA)نامی ایک چھوٹے سیارے نے زمین سے رگڑ کھائی تو بکھر گیااور اس کے ایک حصے نے ٹوٹ کر چاند کی شکل اختیار کر لی جس کو کشش ثقل نے اپنی گرفت میں لے لیا ،لیکن اگر یہ سچ ہوتا تو یقیناًچاند زمین سے منفرد قسم کے کیمیائی عوامل پر مشتمل ہوتا کیونکہ وہ تو ‘تھیا’کا حصہ تھالیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ خلا نوردوں کے اپولو مشن کے دوران لائے گئے چاند کے ٹکڑوں پر کیلی فورنیا یونیورسٹی میں تحقیق کی گئی تو یہ انکشاف ہوا کہ ان کے آکسیجن آئسوٹوپس زمین کی طرح کے ہی ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ‘تھیا’ اور زمین کی پہلی شکل کے درمیان ہونے والا تصادم اتنا شدید تھا کہ دونوں سیارے موثر طریقے سے آپس میں جڑ کر ایک نئے سیارے کی شکل اختیار کرگئے جبکہ الگ ہونے والا ایک ٹکڑا چاند کی شکل اختیار کرگیا۔یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں کاسموکیمسٹری اور جیوکیمسٹری کے پروفیسر اورنئی تحقیقات کے سربراہ ایڈورڈ ینگ کہتے ہیں کہ تحقیقات کے دوران زمین اور چاند کے آکسیجن آئسوٹوپس میں کسی قسم کا فرق نہیں پایا گیا وہ ناقابل تفریق ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘تھیا’ زمین اور چاند کے درمیان مکس ہوگیا اور ان کے درمیان ہی غائب ہوگیا۔ یہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ہمیں چاند اور زمین میں‘تھیا ’کے عوامل کیوں نہیں ملتے۔ سائنسدانوں کے خیال میں زمین کی تشکیل کے سو ملین سال بعد اور اب سے لگ بھگ ساڑھے 4 ارب سال پہلے ‘تھیا’ کا ہمارے سیارے سے ٹکراﺅ ہوا تھا۔یہ خیال کیا جارہا ہے کہ یہ ننھا سیارہ زمین سے 45 ڈگری یا اس سے زائد کے زاو یہ سے ٹکرایا ہوگا۔محققین نے اپولو مشن 12،15اور17 کے دوران چاند سے لائی جانے والی 7چٹانوں کا تجزیہ کیا اور زمین کی 6چٹانیں جن میں سے 5ہوائی جبکہ ایک ایریزونا سے لائی گئی تھی کا معائنہ کیا۔معائنہ کے دوران چٹانوں میں جو مرکزی چیز آشکار ہوئی وہ آکسیجن کے ایٹمز تھے۔زمین کا 99.9فیصد سے بھی زائد آکسیجن ایٹم O-16ہے کیونکہ ہر ایٹم 8پروٹونز جبکہ 8نیوٹرانز پرمشتمل تھا۔اس میں کچھ اضافی آکسیجن آئسوٹوپس O-17بھی پائے گئے جن میں ایک اضافی جبکہ O-18میں دواضافی نیوٹرانز تھے۔2014میں جرمن سائنسدانوں کی ایک ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ چاند کی اپنی بھی آکسیجن آئسوٹوپس کی شرح ہے جو کہ زمین سے منفرد ہے لیکن نئی تحقیق نے اس کی تردید کر دی ہے۔پروفیسر ینگ کی ٹیم نے اس تحقیق کے لیے سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی اور تکنیک کو استعمال کیا اور پھر اس کی توثیق یونیورسٹی کے نئے ماس طیف پیما کے ذریعے کی۔یہ تحقیق جریدے جرنل سائنس میں شائع ہوئی۔پروفیسر ینگ اور کچھ دوسرے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ زمین سے ٹکرانے والا سیارہ زمین ہی کے سائز کا تھا یا اس سے تھوڑا چھوٹا تھا شاید مریخ کی جسامت کا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس