خرابی دامن کی شکایت

خرابی دامن کی شکایت
 خرابی دامن کی شکایت

  

یہ شکایت پانامہ پیپر ز کی ہے . اس کے بارے میں اخبارات و جرائد میں بہت کچھ چھپ چکا ہے۔ ٹی وی چینلوں پر اس پر روزانہ بحث و تکرار ہوتی ہے . خلاصہ یہ کہ استعفا مانگنے کی ضد کے دوسرے مرحلے کانام پانامہ پیپرز ہے۔ موجودہ ایشو ملنے اور نام منصہ شہود پر آنے سے پہلے اس شکایت کانام الیکشن میں دھاندلی تھا . وہ اس طرح ہوا کہ الیکشن 2013ء میں متعدد پارٹیوں نے حصہ لیا . ایک سیاسی جماعت کو زعم تھا کہ اگلا وزیر اعظم ان کا ہوگا . یہاں تک کہ الیکشن جلسوں میں پارٹی سربراہ کو وزیر اعظم کا نام دیا جاتا . اسی کے نعرے لگتے تھے . نتائج آئے تو اس پارٹی کو قومی سطح پر اس قدر پذیرائی نہ مل سکی کہ اس کا اپنا وزیر اعظم ہوتا .خببر پختونخواہ میں اسے اس قدر سیٹیں مل گئیں کہ دوسری دو پارٹیوں کو ہم رکاب بنا کر اس نے صوبائی حکومت بنالی، لیڈرشپ کے ذہن سیاسی شعور کی روشنی سے منور ہوتے تو خیبر پختونخوا میں مثالی حکومت بناتے . عوام اور کاروباری مفاد میں بہترین اصلاحات کرتے.کاروبار، کار خانے اور فیکٹریاں دن رات چلتے . روزگار کے وافر مواقع ملتے۔ عوام کو ریلیف میسر آتا۔پنجاب سمیت دوسرے صوبوں کے لئے خیبر پختونخوا ترغیب و تقلید کا باعث بنتا . اس طرح ہو سکتا ہے کہ 2018ء کے الیکشن میں اسے ملکی سطح پر زیادہ پذیرائی حاصل ہو جاتی۔ لیڈرشپ نے اناڑی پن کا ثبوت دیا . شنید ہے کہ کسی کی انگیخت پر انہوں نے احتجاجوں اور دھرنوں کا پروگرام شروع کیا .اسلام آباد میں طویل دورانیہ کا دھرنا دیا .ہر شام کنٹینر پر کھڑے ہوتے اور ٹہلتے ہوئے تقریر فرماتے .قومی اسمبلی کو جعلی قرار دیتے .ممبران کو چور کہتے . اس کے علاوہ جو دل میں آتا کہتے . زبان درازی کے جوہر کھلتے اور آشکارا ہوتے چلے گئے ۔

اسلام آباد کے تاجروں کو بھی دھائی دینا پڑی کہ کاروبار پر مندے کا گہرا سایہ پڑ چکا ہے اس لئے بس کریں . سی پیک منصوبے کے لئے سرمایہ کاری کے معاہدہ پر دستخط کرنے میں اسی دھرنے کی وجہ سے تاخیر ہوئی .کنٹینر پر کھڑے ہو کر کسی امپائر کی انگلی اٹھنے کا اشارہ ہوتا رہا . انگلی اٹھی اور نہ وزیر اعظم پاکستان کا استعفا آیا، البتہ جوش خطابت و سیاست میں اپنے منتخب ممبران کے استعفے دلا دیئے۔ دھرنا ختم کرنے کے سوا چارہ نہ رہا۔ وزیر اعظم کے گھر کے سامنے دھرنا دے کردیکھ لیا . کوئی شنوائی نہ ہو ئی، غیر ملکی اخبار نے کسی حوالے سے پانامہ پیپرز کی خبر شائع کردی . لیڈرشپ کو استعفے کے لئے ضد کا اگلا مرحلہ ہاتھ آ گیا، اسلام آباد کو یرغمال بنانے کا پروگرام بن گیا۔ یہ نہ سوچا کہ دنیا کیا کہے گی کہ اپنے ہی ملک کے دارلحکومت کو یرغمال بنایا جا رہا ہے .دشمن کا کام گھر کے افراد کر رہے ہیں . کم دلچسپی کی وجہ سے پروگرام فلاپ ہو گیا .اب کیس سپریم کورٹ میں ہے .عدلیہ کا پانچ رکنی بنچ ایک ایک نکتے پر پوچھ گچھ کر رہا ہے . وزیر اعظم پاکستان کا پورا خاندان حاضر ہے اور عدالت کو مطلوبہ ثبوت فراہم کر رہا ہے، لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بعض افراد کا عدلیہ پر ایمان و ایقان کمزور ہے، اس لئے جلسے جلوس بھی کئے جا رہے ہیں . عدالت چاہے تو سماعت کے دوران جلسے جلوسوں سے روک سکتی ہے . ہر روز تین عدالتیں لگ رہی ہیں۔ صبح کے وقت حقیقی اور سچی عدالت کیس کی سماعت کرتی ہے ۔ سماعت کا وقت ختم ہوتے ہی عدالت سے باہر دو نمبری عدالت لگتی ہے . پارٹی لیڈرشپ اور ان کے وکلا کے لئے سٹیج تیار ہوتا ہے، جہاں وہ اس روز کی سماعت بارے اپنی تشریحات و توجیحات بیان فرماتے اور اپنی کامیابی کا نتیجہ نکالتے ہیں ۔ اسی روز شام کے وقت حکومتی پارٹی کے افراد پریس کانفرنس میں اپنا نقطہ نظر بیان کرتے اور مخالفوں کو لتاڑتے ہیں . قابل احترام جج صاحبان نے ایک دو بار توجہ دلائی ہے کہ ان کے اٹھائے گئے کسی نکتے پر اپنی مرضی کا فیصلہ سنانا بند کیا جائے . اب تک کسی نے توجہ نہیں دی یا شاید اظہار کی آزادی کا مطلب یہی ہے کہ زیر سماعت مقدمات بارے متعلقہ پارٹیاں جو جی چاہے کہتی رہیں ۔

ہر روز شام کے وقت ٹی وی چینلوں پر ایک تیسری عدالت لگتی ہے . اپنی پسند کے آدمی بلوا لئے جاتے ہیں . پاکستان کے منتخب وزیر اعظم .برادر مسلمان ملکوں کے سربراہ خاندانوں کے افرادکے بارے میں جو دل میں آئے اپنی مشہوری کے لئے کہے چلے جاتے ہیں . سمجھتے ہیں کہ کچھ ہو نہ ہو، ان کی مشہوری تو ہو رہی ہے . ماضی میں اگر کوئی کیس عدالت میں زیر سماعت ہوتا تو اخباری رپورٹر یا دانشور اس پر زیادہ بات نہیں کرتے تھے .اب تو اینکر پرسن خود ہی عدلیہ کے احترام اور وقار کی چادر اتار پھینکنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا . اخبار یا ٹی وی چینل کی انتظامیہ میں اگر عدلیہ کے احترام اور قانون کی پاسدار کا رتی برابر احساس ہو تو وہ اپنے متعلقہ سٹاف کو پابند کر سکتے ہیں کہ ان حدود سے باہر نہیں جانا . لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ مفادات کی دنیا ہے . مفادات کی پٹیاں اس قدر گہرے رنگوں کی ہوتی ہیں کہ کسی میں قانون پڑھنے، قانون سننے اور قانون کی پاسدار کرنے کی سکت باقی نہیں رہتی۔ ٹی وی چینلوں پر باقاعدہ کہا جاتا ہے کہ پانامہ ہنگامہ .گویا پانامہ ایک ہنگامہ اور لڑائی جھگڑا سے زیادہ کچھ نہیں . اگر اس بارے میں ان سے کسی نے پوچھنا ہے تو عدلیہ پوچھے . اگر عدلیہ اس بارے میں خاموش ہے تو اور کون پوچھے گا ۔

پانامہ ہنگامہ کا افسوسناک منظر اگلے دن عوام نے قومی اسمبلی میں دیکھ لیا ہے . اسے مقدس ایوان کہا جاتا ہے اور یہ قانون سازی کے لئے وجود پذیر ہوتا ہے .اس کے ممبران کو عوام اور کاروباری طبقے کے دیئے ہوئے ٹیکسوں سے بھاری تنخواہیں مراعات کی شکل میں دی جاتی ہیں . اسمبلی کا فورم پہلوانوں کا اکھاڑا نہیں کہ جہاں دوسرے پہلوان کو پچھاڑنے اور گرانے والے کو انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہو . عوام نے ممبران کو اپنے سماجی واقتصادی اور سیاسی مسائل حل کرنے کے لئے ایوان میں بھیجا۔ اسمبلی اجلاس میں دھینگا مشتی اور مارکٹائی کرنے اور چرب زبانی سے سچا ثابت ہونے کی کوشش کرنے والے خاطر جمع رکھیں . اب عوام با شعور اور اپنے نفع نقصان سے واقف ہیں اس لئے جس کسی کی زیادتی ہوگی، اسے بخشا نہیں جائے گا۔ آج بھی اور کل بھی جب ووٹ مانگنے آئیں گے . عوام کو پہلوان نہیں اچھے اور صاف ستھرے پارلیمنٹرین درکار ہیں جو ملک میں اچھی اور مثبت سماجی واقتصادی اور سیاسی تبدیلیوں کے لئے قانون سازی کریں . اپنی یکجہتی کی طاقت سے دشمن کی بڑھکوں کا جرات مندانہ جواب دے سکیں . بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا پُر امن اور جرات مندانہ تشخص ابھارنے میں حکومت کے مددگار ثابت ہو سکیں . سیاست دانوں کو چاہئے کہ وہ سڑکوں اور دھرنوں کو طاقت ور سیاسی عمل بنانے کی بجائے اسمبلی کے اندر اور اسمبلی کے باہر عوام کی خدمت کو شعار بنائیں۔کوئی بھی ہو لڑائی جھگڑے سے شرمندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا ۔

مزید :

کالم -