اب نظریں بلوچستان اسمبلی کی سپیکرشپ پر

اب نظریں بلوچستان اسمبلی کی سپیکرشپ پر
اب نظریں بلوچستان اسمبلی کی سپیکرشپ پر

  

بلوچستان میں جو سیاسی کھیل کھیلا گیا اس سے مستقبل میں پردے اُٹھ ہی جائیں گے۔ وزیراعلیٰ کا دھڑن تختہ کرنے کے بعد اب اس گروہ کی نگاہیں بلوچستان اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر پر ہیں، آنے والے انتخابات پر بھی نظر رکھی ہوئی ہے۔

صوبائی بیوروکریسی کی اکھاڑ پچھاڑ شروع ہو گئی ہے۔ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اعلیٰ پولیس افسروں کے تبادلے شروع ہو گئے ہیں۔ سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹری بھی زد میں ہیں۔ یہ کام بڑی تیزی سے ہو رہا ہے۔ سابقہ دور کے منصوبوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں کھلی کچہری میں عوامی مسائل سننے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومت کے عوامی مفاد کے برعکس منصوبوں کو منسوخ کر دیا جائے گا، یہ بھی انکشاف کیا کہ بلوچستان کی چیک پوسٹوں پر ماہانہ کروڑوں روپے بھتہ وصول کیا جا رہا ہے، ہم یہ بند کرائیں گے۔ شکایت پر ڈی پی او اور ڈی سی ذمہ دار ہوں گے، انہیں فوری طور پر مُعطل کر دیا جائے گا۔

مَیں خود تھانوں کا اچانک دورہ کروں گا اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اُنہوں نے قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کا اعلان بھی کیا۔

حکومت کے پاس وقت بُہت کم ہے، لیکن اعلانات میں بڑی تیزی ہے، ایسا لگ رہا ہے جیسے وزیراعلیٰ چلتی ہوئی ٹرین پر جلدی جلدی سوار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور ٹرین تیزی سے 2018ء کی طرف دوڑتی چلی جا رہی ہے۔

صورتِ حال بڑی دلچسپ ہے، حکومت جو بھی اقدامات اُٹھا رہی ہے، ان میں کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آ رہی۔ حکومت میں گرانے والی پارٹیاں اور وہ افراد جنہوں نے ساتھ دیا ہے، اپنا حصّہ وصول کر رہے ہیں، وہ بھی جلدی میں ہیں۔

اب حکومت میں شامل پارٹیوں کی نظر بلوچستان کی سپیکرشپ اور ڈپٹی سپیکر شپ پر ہے، سپیکر شپ کے لئے سابق وزیراعلیٰ جان محمد جمالی نظر جمائے ہوئے ہیں، جبکہ ڈپٹی سپیکر شپ پر جمعیت علمائے اسلام ف والے دعویدار ہے، موجودہ اسپیکر راحیلہ درانی کی کشتی ڈانواں ڈول نظر آ رہی ہے۔

راحیلہ درانی نے بڑی احتیاط سے اسمبلی چلائی اور کسی کو شکایت نہیں ہوئی۔ اب ان کا دور بڑی تیزی سے اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، موجودہ حکومت کو ایک مہینہ ہی گزرا ہے، بعض وزراء اپنے اپنے محکموں سے مطمئن نہیں ہیں۔ اختلافات کی خبریں شائع ہوئی ہیں کہ وزارتوں میں ردّوبدل کا پروگرام ہے۔

سابقہ اور موجودہ حکومت کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی خاموش ہو گئے ہیں، اب وہ دھماکوں کے بارے میں دھماکہ خیز بیانات نہیں دے رہے ہیں، وہ اس وزارت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں ، انہیں اپنی مرضی کی وزارت مطلوب ہے۔

اب دیکھیں کہ وزیراعلیٰ اس اندرونی کشمکش پر کس طرح قابو پاتے ہیں؟ مولانا عبدالواسع اب بھی قائد حزب اختلاف بننا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب پشتون خوا ملی عوامی پارٹی قائد حزب اختلاف پر نگاہیں جمائے ہوئے ہے۔

جمعیت اور پشتون خوا کی نشستیں 13,13 ہیں۔ پشتون کا ایک ممبر باغی ہوکر حکومت میں شامل ہو گیا ہے، عبدالقدوس بزنجو کو ووٹ بھی دیا ہے اور اس کے بدلے وزارت حاصل کر لی ہے۔

نیشنل پارٹی کے خالد لانگو نے بھی پارٹی سے بغاوت کی اور ووٹ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ قید سے رہا ہو جائیں گے لیکن ہائی کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کر دی ہے تو انہوں نے اپنے بھائی کو وزیراعلیٰ کا مشیر بنوا دیا ہے۔

اب یہ دیکھنا ہے کہ قائد حزب اختلاف کون بنتا ہے اور کس پارٹی کو یہ عہدہ حاصل ہوتا ہے؟ عبدالمالک بلوچ بھی خواہش مند ہیں، لیکن اُن کے ووٹ کم ہیں، اس لئے مقابلہ پشتون خوا اور جمعیت کے درمیان ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اپنا سیاسی کھیل کھیلا ہے جو سیاسی نقشہ صوبے میں بن رہا تھا، اس بازی کو جمعیت (ف) اُلٹ سکتی تھی اگر مولانا صرف 5 ووٹ وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ کو دے دیتے، لیکن مولانا مرکز اور صوبے میں الگ الگ اپنا سیاسی کھیل آگے بڑھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ایک ماہ میں ہم مرکز سے استعفے دے دیں گے، اب اس کی مدت میں ایک ماہ کا اضافہ کر دیا ہے، وہ اس کھیل کو اپنے اختتام تک کھیلیں گے، سراج الحق ان کے ساتھ قدم ملاتے ہوئے چلیں گے، اُن کی نظر 2018ء کے انتخابات پر لگی ہوئی ہے۔

بلوچستان میں ڈاکٹر مالک کی پارٹی پشتون خوا کو قائد حزب اختلاف بنانے کے لئے تیار نہیں ہے، حالانکہ 2013ء کے انتخابات میں وہ اقلیت میں تھے، پشتون خوا مسلم لیگ سے اکثریت میں تھی، انہوں نے فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور ڈاکٹر مالک کو ووٹ دے دیا، اب عبدالمالک ووٹ پشتون خوا کو دے دیں تو پشتون خوا قائد حزب اختلاف کا عہدہ حاصل کرلے گی، لیکن اب یہ کھیل مسلم لیگ کے قائد نوازشریف کے ہاتھ میں ہے، ان کے پاس 7 ووٹ ہیں اور ان ووٹوں کو پشتون خوا کے پلڑے میں ڈال دیں تو قائد حزب اختلاف پشتون خوا کے حصے میں آ جائے گا، اب یہ کھیل فروری میں اپنے اختتام تک پہنچ جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -