’’اوکنجرا شرم کر، ورنہ ۔۔۔‘‘ بابا جی نے ابھی اتنا ہی کہا تھاکہ دلہن کو چمٹنے والا جنّ دھاڑیں مارمار کر رودیا،ایک معروف پروفیسر کی زندگی کا حیران کن واقعہ جو آپ کو بھی دنگ کردے گا

’’اوکنجرا شرم کر، ورنہ ۔۔۔‘‘ بابا جی نے ابھی اتنا ہی کہا تھاکہ دلہن کو ...
’’اوکنجرا شرم کر، ورنہ ۔۔۔‘‘ بابا جی نے ابھی اتنا ہی کہا تھاکہ دلہن کو چمٹنے والا جنّ دھاڑیں مارمار کر رودیا،ایک معروف پروفیسر کی زندگی کا حیران کن واقعہ جو آپ کو بھی دنگ کردے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی 

مجذوب بابا یوسف دنیا سے پردہ کر گئے تھے اور پہلی بار مجھے یہیں سے بابا جی کا پتہ چلا تھا۔ کافی عرصہ پہلے جب میں مری میں تھا اور میں تلاش حق اور روحانیت کی تلاش میں نگر نگر کی خاک چھان رہا تھا ان دنوں میں پاک پتن سلام کرنے آیا ہوا تھا ۔ میں حاضری کے بعد ایک طرف بیٹھ کر ذکرکر رہا تھا اور میری آنکھ لگ گئی ۔اسوقت مجھے ایک خواب دکھائی دیا۔خواب میں مجھے کھیت دکھائے گئے اور شہر کا نام بھی ۔ کھیتوں میں ایک بابا جی مالٹے رنگ کے درویشی لباس میں لیٹے ہوئے نظر آئے۔انکے پاس چند مرید بیٹھے تھے جو چائے رس پی اور کھارہے تھے۔ جب میں خواب سے بیدار ہوا تو خواب اتنا صاف اور واضح تھا کہ ہر بات اور منظر مجھے یادرہا۔ وہ جگہ میرے گاؤں سے زیادہ دور نہیں تھی۔ لہٰذا میں نے واپس گاؤں آ کر ایک ایسے کلاس فیلو کو پکڑا جو اولیائے کرام سے شدید محبت کرتا تھا اور ساتھ والے گاؤں میں رہتا تھا۔ اس کو ملنے کا فائدہ یہ تھا کہ وہ بچپن سے علاقے کے تمام بزرگوں اور درویشوں کو جانتا اور خدمت کرتا تھا۔ میں نے اس سے مل کر اپنے خواب کا ذکر کیا اور کہا کہ خواب میں مجھے یہ علاقہ دکھایا گیا ہے۔ وہ بولا ’’ایسا درویش تو ہمارے علاقے میں نہیں ہے ‘‘لیکن میں نے اسکی بات پر یقین نہ کیااوراس کی موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھا اور ہم نے اس گاؤں جا کر بابا جی کی تلاش شروع کر دی۔

پہلے دن تو ہم ناکام واپس آئے۔ اگلے روز بھی پوری تلاش کے باوجود بابا جی کا پتہ نہ چل سکا۔ آخر تنگ آ کر میں نے تانگے والوں سے پوچھنا شروع کر دیا کہ یہ گاؤں گاؤں گھومتے ہیں شاید ان کو بابا جی کا پتہ ہو۔ ایک تانگے والے نے بتایا کہ فلاں تانگے والا بزرگوں درویشوں کی ڈکشنری ہے۔ وہ آپ کو بتا سکتا ہے۔ جب ہم اس سے ملے تو اس نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ جب ہم واپس جانے لگے تو تانگے والا بولا’’ ایک دن میں ایک ایسی سواری کو فلاں جگہ اتار کر آیا تھا۔ اس کے پاس بہت سارے رس تھے اور وہ کہہ رہا تھا کہ بابا جی کے لنگر میں حصّہ ڈالنا ہے۔ میں اس بندے کو جانتا ہوں‘‘

ہم اس کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچے تو وہ بندہ گھر پر نہیں تھا کسی دوسرے شہر میں گیا ہوا تھا۔ اتنی زیادہ تلاش اور جستجو کے بعد بابا جی سے ملنے کا اشتیاق اور جنون آخری حدوں تک پہنچ گیا تھا۔ میرے دوست نے بہت کہا کہ واپس جاتے ہیں لیکن میں نے کہا، نہیں مل کر جائیں گے۔ بہت انتظار کے بعد وہ بندہ واپس آیا تو ہم نے اس سے بابا جی کا پوچھا تو اس نے کہا ’’ مجھے پاک پتن سے میرے رشتہ دار نے فون کیا تھا کہ فلاں جگہ پر ایک درویش ہے اس کو رس دے کر آؤ ۔لہٰذا میں ایک بار ہی گیا تھا۔ اب پتہ نہیں وہ بابا آپ والا ہے اور اسی جگہ پر ہے؟ میں صبح آپ کو اس جگہ پر لے جاؤں گا‘‘ رات بہت ہو چکی تھی لہٰذا ہم گھر کو آ گئے اور صبح سویرے اس بندے کے گھر پہنچ گئے، وہ تیار تھا۔

مجھے کہنے لگا ’’میں مری آؤں گا تو آپ کے گھر ٹھہروں گا‘‘ میں نے کہا ’’بسم اللہ ‘‘اب ہم تینوں موٹر سائیکل پر سوار اس طرف جا رہے تھے جدھر بابا یوسف کا قیام تھا۔ آخرکار ہم اس علاقے میں پہنچ گئے۔ یہ گاؤں سے باہر ایک لکڑی کا آرا تھا جہاں پر لکڑیاں کاٹی جاتی تھیں اور ساتھ ہی کھیت واقع تھے۔ بابا جی یہاں پر ایک جھونپڑی میں لیٹے تھے ۔ ان کے پاس چند ملنے والے بھی بیٹھے تھے ۔ سامنے وہی کھیت تھے جو مجھے پاک پتن شریف دکھائے گئے تھے۔ میں نے جاتے ہی بابا جی کو پہچان لیا۔ یہ وہی بابا جی تھے جو مجھے پاک پتن شریف خواب میں نظر آئے تھے۔ یہاں پر مجھے پتہ چلا کہ بابا جی کا نام یوسف ہے۔ بابا جی مجھے آتا دیکھ کر مسکرائے۔ ان کی آنکھوں میں آشنائی کی چمک تھی۔ میں نے جا کر بابا جی کو سلام کیا اور ان کے ہاتھوں کو چوما۔ بابا جی بولے ’’ماسٹر آ گیا ایں۔ سرکاراں نے تینوں بھیج دیا ہے‘‘

’’جی بابا جی میرے بھاگ جاگ گئے جو آپ سے ملاقات ہو گئی‘‘ میری آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اور میں خوشی سے رونے لگا۔

بابا جی بولے ’’اوئے ماسٹر کو چائے رس دو‘‘یہ بابا جی کا خاص لنگر تھا۔ یہ میری بابا یوسف سے پہلی ملاقات تھی۔ بابا جی میاں چنوں کے علاقے کے رہنے والے تھے۔ 20 سال پہلے فقیری میں پڑ گئے اور بیوی بچوں کو چھوڑ کر پاک پتن آ گئے۔ اس کے بعد کبھی واپس نہیں گئے۔ بیوی بچے ایک دو بار آئے بھی لیکن بابا جی نے کہا ’’اب میں آپ کے کام کا نہیں رہا‘‘

بابا جی فقیری میں جب پڑے تو گاؤں گاؤں گھومتے، لوگوں سے روٹی مانگ کر کھاتے، اسی طرح اس گاؤں سے گزر رہے تھے کہ چودھری صاحب کی بیٹی کی شادی تھی۔ بابا جی بھی کھانا کھانے کیلئے غریبوں میں بیٹھے تھے۔ بارات کی رخصتی کا جب وقت آیا تو شور مچ گیا کہ دلہن بیہوش ہو گئی ہے۔ اس کے ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہو گئے ہیں۔ اس پر کوئی جنّ حاضرہوگیا ہے۔ مولوی صاحب نے بہت زور لگایا لیکن دلہن کی حالت نہیں سبنھلی۔ اسی دوران چودھری صاحب نے فقیروں کو بیٹھے دیکھا تو ان سے درخواست کی’’اے اللہ کے فقیرو! دعا کرو میری بیٹی ٹھیک ہو جائے‘‘

بابا یوسف نے دریافت کیا ’’دلہن کدھر ہے؟ چودھری ‘‘

وہ بابا جی کو دلہن کے کمرے میں لے گئے۔ بابا جی نے صرف اتنا کہا ’’اوکنجرا شرم کر، ورنہ میں تیرے بڑوں کو تیری شکایت لگاؤں گا‘‘ بابا جی کا اتنا کہنا تھا کہ آسیب یا جنّ نے رونا شروع کر دیا اور معافی مانگ کر دلہن کی جان چھوڑ گیا اور دلہن ٹھیک ہوگئی۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت