وہ ’’خفیہ بولی‘‘ جولڑکیاں لڑکوں سے اپنی باتیں چھپانے کے لئے استعمال کرتی ہیں ،ایک بار جان لینے کے بعدآپ آسانی سے انکے راز پکڑ سکتے ہیں

وہ ’’خفیہ بولی‘‘ جولڑکیاں لڑکوں سے اپنی باتیں چھپانے کے لئے استعمال کرتی ...
وہ ’’خفیہ بولی‘‘ جولڑکیاں لڑکوں سے اپنی باتیں چھپانے کے لئے استعمال کرتی ہیں ،ایک بار جان لینے کے بعدآپ آسانی سے انکے راز پکڑ سکتے ہیں

  

لاہور (ایس چودھری )اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرنے کے لئے زبان ہی ایسا ذریعہ ہے جس سے خیالات کا مناسب اور موثر اظہار کیا جاسکتا ہے۔اس وقت دنیا میں 6800سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔پاکستان میں بھی 74 کے قریب ایسی بولیاں عام ہیں جو مادری زبان کی حیثت میں اپنا مقام رکھتی ہیں۔الفاظ و بیاں کے علاوہ اشاروں کنایوں کی بھی ایک زبان ہے لیکن بہت سے لوگ اسکو ذریعہ بنانے اور اپنی مادری زبان کو استعمال کرنے کے علاوہ ایک ایسی بولی بھی اس وقت بولتے ہیں جب انہیں دوسروں سے کوئی بات چھپانی ہوتی ہے،اسے عرف عام میں’’ ف‘‘ کی بولی یا زبان کہا جاتا ہے جس کا پاکستان کے کاروباری لوگوں کی زبان بھی کہا جاتا ہے جبکہ بھارت میں یہی زبان ماں باپ کی زبان کہلاتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں یہ بولی بہت زیادہ استعمال ہوتی ہے۔مشاہدہ میں آیا ہے کہ زیادہ تر لڑکیاں لڑکوں کے سامنے اپنی باتیں چھپانے کے لئے اس بولی کا سہارا لیتی ہیں۔ماہرین لسانیات کے مطابق جب کسی دکاندار کو گاہکوں سے اور میاں بیوی کو اپنے بچوں کے سامنے کوئی خاص بات کرنی ہوتی ہے تو وہ ’’ف ‘‘کی بولی کا سہارا لیتے ہیں ۔

ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ ’’ف‘‘ کی بولی قواعد کے بغیر بولی جاتی ہے۔خفیہ معاملات مثلاً پیسوں کے لین دین،جھگڑے ،قتل ،چوری،چکر بازی کے سلسلہ میں اس کا سہارا لیا جاتا ہے۔

اس زبان میں ’’ف‘‘ کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے،ہر لفظ میں ’’ف‘‘ شامل کیا جاتا ہے جس سے عام زبان کا لفظ ’’ف‘‘ کی وجہ سے اپنی ساخت اور صوت بدل لیتا ہے جیسا کہ یہ جملہ ہے ’’مجھے تم سے پیار ہے‘‘ ف کی بولی میں اسکو یوں ادا کیا جائے گا ’’مفجفھے تفم سفے پفیفار ہفے‘‘’’اتنے دن کہاں رہے ؟‘‘ ’’ افتنفے دفن کفہفان رفئے ‘‘

بعض لوگ حروف ابجد کے کسی بھی لفظ کی مدد سے یہ بولی بولتے ہیں۔مثلا،ع،ق،ش،م وغیرہ ۔اسکو نوجوان لڑکیوں کی بولی بھی کہا جاتا ہے۔زیادہ تر سہیلیاں اس زبان کی مدد سے اپنی باتیں شئیر کرتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قواعد کے بغیر بولی جانے والی بولی ہے اس لئے یہ بڑی بولیوں میں شامل نہیں ہوسکتی۔

مزید : ادب وثقافت