اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 86

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 86
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 86

  

حضرت نظام الدین اولیاؒ نے رحلت سے چالیس روز پہلے کچھ نہ کھایا تھا اور آخری وقت میں جب کہ اس عالم فانی کو الوداع کہہ رہے۔ آپ فرماتے’’ کیا نماز کا وقت ہوگیا ہے اور مَیں نے نماز پڑھ لی ہے۔‘‘

اگر حاضرین کہتے کہ نماز تو آپ نے پڑھ لی ہے تو فرماتے دوسری بار پڑھتے ہیں۔ ہر نماز کو دو بارہ پڑھتے تھے اور فرماتے ’’ہم جاتے ہیں، ہم جاتے ہیں، ہم جاتے ہیں۔‘‘

پھر آپ نے اقبال خادم سے فرمایا ’’اگر گھر میں کسی قسم کی کوئی چیز رکھی ہے، تو کل روز قیامت خداوند تعالیٰ کو جواب دہ ہوں گے۔‘‘

اس حکم پر خادم نے سب کچھ لٹادیا مگر کچھ غلہ درویشوں کے چند روز کھانے کے لیے رکھ لیا۔ حضرت نے فرمایا ’’اس مردہ ریگ کو کیوں رکھ چھوڑا ہے۔ اس کو بھی باہر نکالو اور گھر میں جھاڑو پھیردو۔‘‘

اسی وقت توشہ خانوں کو کھول دیا گیا۔ ایک دنیا جمع ہوگئی اور سب کچھ لوٹ لیا۔بعدازاں حاضرین نے عرض کیا کہ مخدوم کے بعد ہم مسکینوں کا کیا بنے گا۔

آپ نے فرمایا ’’تمہیں میرے روضے میں اتنا مل جایا کرے گا کہ خرچ کے لیے کافی ہوگا۔‘‘

انہوں نے پوچھا ’’ہم میں تقسیم کون کرے گا۔‘‘

فرمایا ’’وہ شخص جو اپنے حصے سے دست بردار ہوجائے گا۔‘‘

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 85 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

حضرت شیخ نظام الدین اولیاؒ فرماتے ہیں۔ قبل اس کے کہ میں شیخ فرید الدینؒ قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ ایک دن مَیں نے شیخؒ کے بھائی نجیب الدین کی مجلس میں اُٹھ کر عرض کیا کہ ایک بار سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص اس نیت سے پڑھیں کہ مَیں کسی جگہ قاضی بن جاؤں۔

شیخ نجیب الدین نے اغماض سے کام لیا۔ مَیں نے سمجھا کہ انہوں نے میری عرض نہیں سنی۔

میں نے پھر کہا کہ ایک بار سورہ فاتحہ و سورہ اخلاص اس نیت سے پڑھیں کہ میں کسی جگہ قاضی بن جاؤں۔ اس مرتبہ آپ نے تبسم کیا اور فرمایا’’تم قاضی نہیں، کچھ اوربنو گے۔‘‘

واقعی اللہ تعالیٰ نے بڑا کرم کیا۔ حضرت نظام الدین اولیاؒ جو بنے اس سے ایک عالم روشن ہوا۔

***

حضرت ابراہیم خواصؒ فرماتے ہیں ’’ایک دفعہ دوران سفر مَیں راستہ بھول گیا معاً ایک طرف سے کتے کی آواز آئی۔ مَیں اس آواز پر آبادی کا خیال کرتے ہوئے اس آواز کی جانب چل پڑا۔ ناگاہ ایک جن نے ایسا طمانچہ منہ پر مارا کہ بدحواس ہوکر گر پڑا اور شدت درد سے بے قرار ہوکر جناب باری میں دعا کی کہ ایسے ہی ناحق تیری امان میں غریب مسافر مارکھائیں گے تو چین کہاں پائیں گے۔‘‘

اتنا کہنے کے ساتھ ہی ایک شخص جن کا سرکاٹ کر میرے سامنے لے آیا۔ پھر غیب سے آواز آئی۔ ’’اے ابراہیمؒ ! جب تک تو ہمارے دھیان میں تھا امن وامان میں رہا۔ جب ہمیں بھول کر کتے کی آواز پر چلا تو جن کا طمانچہ کھایا لیکن دعا اور فریاد کرنے پر اس جن کا سرکاٹ کر تیرے سامنے بھیج دیا‘‘اس کے بعد حضرت ابراہیم خواصؒ کو اپنا کھویا ہوا راستہ بھی مل گیا۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 87 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے