یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز‘ کرونا وائرس کی تشیخص‘ ریسرچ کیلئے کمیٹی تشکیل

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز‘ کرونا وائرس کی تشیخص‘ ریسرچ کیلئے کمیٹی تشکیل

  



ملتان (وقا ئع نگار) یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز(یو ایچ ایس)لاہور نے کرونا وائرس کی تشخیص اور ریسرچ کیلئے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔وائس چانسلر یو ایچ ایس پروفیسر جاوید اکرم نے سپیشلائزڈ وائرالوجی ڈائیگناسٹک فسیلٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر شاہ جہاں ہوں گے۔کمیٹی میں پروفیسر ڈاکٹر فریدون جواد، پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ خالق،ڈاکٹر سدرہ سلیم، ڈاکٹر (بقیہ نمبر16صفحہ12پر)

فرحت بانو اور ڈاکٹر عائشہ طاہر شامل ہیں۔ماہرین کرونا وائرس کی تشخیص کیلئے پی سی آر ٹیسٹ کو مزید موثر بنائیں گے دریں اثنایونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز(یو ایچ ایس)لاہور میں کرونا وائرس،تشخیص اور علاج کے موضوع پر تربیتی ورکشاپ کا انعقاد ہوا۔ورکشاپ میں پنجاب بھر کے میڈیکل کالجوں سے مائیکروبیالوجسٹس،پتھالوجسٹس،ریسکیو اہلکاروں اور سول ایوی ایشن کے طبی عملے نے بھی شرکت کی۔ورکشاپ سے چغتائی انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر آف وائرولوجی بریگیڈیئر ریٹائرڈ وحید الزمان طارق،یو ایچ ایس مائیکروبیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر سدرہ سلیم، لاہور میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کی پروفیسر فاطمہ مختار نے خطاب کیا۔پروفیسر وحید الزمان نے کہا کہ کرونا وائرس کی علامات نمونیے اور فلو سے ملتی جلتی ہیں۔کرونا وائرس کے اب تک 6ہزار سے زائد کیس کنفرم ہوچکے ہیں۔یہ وائرس ایبولا وائرس سے بالکل مختلف ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بیماری کی شرح اموات 2فیصد ہے۔ ابھی تک چین میں 136افراد جان ہار چکے ہیں۔وائرس کس جانور سے آیا یہ اہم نہیں ہے۔جبکہ سی فوڈ سے وائرس کے آنے کا خدشہ بے بنیاد ہے۔جو کٹس مارکیٹ میں دستیاب ہیں وہ ریسرچ کے لیے ہیں تشخیص کے لئے نہیں۔یو ایچ ایس کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ کرونا وائرس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔لوگ اپنے ہاتھ باقاعدگی سے دھوئیں۔بیماری کی علامات 14دن کے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ یو ایچ ایس کے پاس کٹس اور ماہرین موجود ہیں۔تشخیص کے حوالے سے حکومت کو بھرپور تعاون فراہم کریں گے۔وضو کرونا وائرس سے نجات کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔وائرس سے بچاؤ کیلئے عام ماسک موثر نہیں۔N95 ماسک موثر ہے۔حلال خوراک اور کھانا پکانے کے طریقے کی وجہ سے اس وائرس کے یہاں پھیلنے کا خطرہ کم ہے۔ڈاکٹر سدرہ سلیم نے کہا کہ کرونا وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری شامل ہے۔اگر کسی شخص میں کرونا وائرس کنفرم ہوجائے تو اس کے قریب رہنے والوں کو بھی مانیٹر کرنا پڑیگا۔ہسپتالوں میں ہیلتھ ورکرز کی مانیٹرنگ بھی ضروری ہے۔14دن کے اندر 2 ٹیسٹ منفی آئیں تو کرونا وائرس نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بائیو وار فیئر کا خدشہ بے بنیاد ہے۔یہ وائرس جنگ کیلئے ٹھیک نہیں۔پروفیسر فاطمہ ممتاز نے کہا کہ11 ممالک میں کرونا وائرس کے کیس کنفرم ہو چکے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے وائرس کے پیش نظر کسی قسم کی سفری پابندیاں نہیں لگائی گئیں۔ائیرپورٹس پر تھرمل سکرینگ فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر ہارون جہانگیر نے کہا کہ وائرس کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے ابھی تک کرونا وائرس کو وبا قرار نہیں دیا۔اداروں میں کوآرڈینیشن کیلئے خصوصی سیل قائم کر دیا ہے۔آرمی ہیلی کاپٹرز کی مدد سیٹسٹ کیلئے نمونے این آئی ایچ منتقل کر رہے ہیں۔

ورکشاپ

مزید : ملتان صفحہ آخر