روائتی پالیسیوں سے انقلابی نتائج کی توقع

روائتی پالیسیوں سے انقلابی نتائج کی توقع

  



منگل کے روز سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لیے مالیاتی پالیسی کا اعلان کردیا۔ جاری کی جانے والی مانیٹری پالیسی میں شرح سود 13.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ مہنگائی کا منظر نامہ زیادہ تر پہلے جیسا ہی ہے اور رواں برس افراطِ زر 11سے 12 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سپلائی شاکس‘ جلد ختم ہوجائیں گے، اس وقت حقیقی شرح سود 1 سے 2 فیصد پر ہے جو پاکستان کی تاریخ کی کم ترین سطح ہے۔ رواں سال شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کی توقع تھی لیکن زرعی سیکٹر کی خراب کارکردگی کے باعث اس سطح سے بھی نیچے آنے کا خطرہ ہے۔ کپاس کی خراب فصل کے ساتھ ساتھ صنعتی پیداوار بھی کم ہونے کی توقع ہے تاہم برآمدات سے متصل صنعتوں اور درآمدات کا متبادل فراہم کرنے والی صنعتوں میں بہتری دیکھنے میں آرہی ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک نے اس تاثر کی نفی کی کہ ہاٹ منی (بیرونی سرمایہ کاروں کی حکومتی ٹی بلز میں سرمایہ کاری) کی وجہ سے سٹیٹ بینک کے زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا، ان کے مطابق 6 ماہ میں ذخائر 4.45 ارب ڈالر کے اضافے سے 11.73 ارب ڈالر پر جاپہنچے، گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہونا ہے، رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 75 فیصد سے کم ہوکر 2.15 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود پرانی سطح پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر کاروباری برادری نے مایوسی کا اظہار کیا۔ پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر خرم اعجاز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قدر زیادہ شرح سود ملک کی صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، خطے میں پاکستان کی یوٹیلیٹی لاگت سب سے زیادہ ہے، بھاری ٹیکس کی وجہ سے ہماری ایکسپورٹ دیگر ممالک سے مسابقت نہیں کرپارہی، ایسے میں بلند شرح سود کی وجہ سے ہم خطے میں سب سے پیچھے رہ گئے۔ یاد رہے دو روز قبل کراچی میں وزیراعظم سے ملاقات میں کاروباری برادری نے شرح سود کم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس پر وزیراعظم نے بھی اس میں کمی کی اُمید ظاہر کی تھی، وزیراعظم کے اس اظہار کی وجہ سے کاروباری برادری نے سٹیٹ بینک سے اُمیدیں باندھ لی تھیں۔دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے معاشی ٹیم پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ افراطِ زر میں مسلسل اضافے پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا ملک کی معاشی صورت حال پر انہیں وزراء کی جانب سے گمراہ کیا جارہا ہے، افراطِ زر قابو میں نہیں آرہا، مصنوعی مہنگائی کر کے حکومت کو ناکام کرنے کی سازش ہورہی ہے۔

سٹیٹ بینک کی حالیہ مانیٹری پالیسی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس سے پہلے نومبر 2019ء میں جاری کی جانے والی رپورٹ پر بھی نظر ڈالی جائے۔ اس رپورٹ میں سٹیٹ بینک کا کہنا تھا افراطِ زر بڑھ کر 11 فیصد پر پہنچ چکا ہے، اس کی بنیادی وجہ کھانے پینے کی اشیاء کی رسد میں وقتی خلل بنا۔ نومبر میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اس اُمید کا اظہار کیا تھا کہ رواں مالی سال کے آخری 6 ماہ میں افراطِ زر کا دباؤ کم ہو جائے گا (اسی اُمید کا اظہار اس سے پچھلی رپورٹ میں بھی کیا گیا تھا)۔ اب کی طرح پچھلی مرتبہ بھی سٹیٹ بینک نے دعویٰ کیا تھا کہ درمیانی مدت میں افراطِ زر 5 سے 7 فیصد کے ٹارگٹ میں لانے میں کامیابی حاصل ہوجائے گی۔ ان تفصیلات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ پاکستانی معیشت کے حوالے سے سٹیٹ بینک کی توقعات پوری نہیں ہو پا رہی ہیں، سٹیٹ بینک ایک عرصے سے شرح سود اس بلند سطح پر اس امید پر قائم رکھے ہوئے ہے کہ اس سے مہنگائی میں کمی آئے گی، تاہم ایسا ہونہیں پارہا۔ اس ناکامی میں حکومتی بدانتظامی کا بنیادی کردار ہے کہ ہر دوسرے ماہ بنیادی ضرورت کی کوئی چیز مارکیٹ سے غائب ہوجاتی ہے اور اس کی قیمتیں آسمان پر جا پہنچتی ہیں۔ سٹیٹ بینک ہر مرتبہ اس اُمید کے ساتھ اس چیز کی نشاندہی کرتا ہے کہ دوبارہ ایسا نہیں ہوگا، مگر ہر مرتبہ اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب تک گورننس بہتر نہیں بنائی جاتی، آئے دن بنیادی اشیاء ضرورت کے بحران پیدا کرنے والوں کو سزا نہیں دی جاتی، افراطِ زر کو قابو کرنا ممکن نہیں۔ گورننس کا حال تو بُرا ہے ہی، سونے پہ سہاگہ حکومتی پالیسیاں ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت نے خسارہ کم کرنے کے لیے بجلی، پانی، گیس سمیت تمام یوٹیلیٹیز کی قیمتیں بڑھادیں، ڈالر مہنگا ہونے سے پٹرول کی قیمت بھی ہواؤں میں اُڑنے لگی، نتیجتاً ہر چیز کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگیا۔ اس اضافے کا بوجھ بھی ہمیشہ کی طرح عام صارف پر ہی آن گرا، اگر پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا رہا تو کوئی طریقہ نہیں کہ افراطِ زر کو نیچے لایا جاسکے۔حکومتی پالیسیوں اور عملی اقدامات کو دیکھا جائے تو احساس ہوگا کہ کسی کو سازش کرنے کی ضرورت نہیں، ان کا جو نتیجہ نکلنا چاہیے وہی نکل رہا ہے۔

سٹیٹ بینک پر معاشی تجزیہ کار اس حوالے سے بھی تنقید کررہے ہیں کہ زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے شرح سود کم نہیں کی جارہی، اس حوالے سے گورنر سٹیٹ بینک کے جواب کا بھی اوپر تذکرہ کیا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے مکمل حقائق بیان نہیں کیے۔ رواں مالی سال جنوری کے وسط تک قریباً 6 ماہ میں بیرونی سرمایہ کاروں نے قریباً سوا 2 ارب ڈالر حکومتی ٹی بلز میں انویسٹ کیے، اسی عرصہ کے دوران زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ قریباً ساڑھے 4 ارب ڈالر رہا۔ اس طرح دیکھا جائے تو 50 فیصد اضافہ ’ہاٹ منی‘ کی بدولت تھا۔ اس ’ہاٹ منی‘ پر تنقید اس لیے کی جا رہی ہے کہ معیشت میں اس کا کوئی موثر پیداواری (Productive) کردار نہیں ہے، اس سے وقتی طور پر تو زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن یہ پیسہ فیکٹریوں یا کارخانوں کی صورت میں معیشت میں جاکر روزگار کے مواقع نہیں پیدا کرتا۔ پھر حالات ذرا بھی غیر موافق ہوں تو بیرونی سرمایہ کار باآسانی یہ پیسہ واپس نکال کر پاکستان میں مالیاتی بحران کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان کو اس وقت براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جس سے ملک میں نئے کارخانے لگیں اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ حکومت کو چاہیے اس حوالے سے عملی اقدامات کرے، سرکاری افسروں کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ کاروباریوں کی جیبوں پر نظریں رکھنے کی بجائے اُن کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے میں مددگار ہوں۔ یہ سارے وہ کام ہیں جن کی پاکستانیوں کو تحریک انصاف کی حکومت سے اُمید تھی۔

غور طلب بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ سے سٹیٹ بینک پر حکومت کا بے حد اثر و رسوخ رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے دو روز قبل شرح سود میں کمی کی خواہش کا اظہار کیا لیکن اس مرتبہ سٹیٹ بینک نے ان کی بات مکمل طور پر نظر انداز کر دی۔ اصولی طور پر تو سٹیٹ بینک کا آزاد ہو ناقابل ِ تحسین بات ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر سٹیٹ بینک اور حکومت کے اہداف الگ الگ ہوں تو موزوں نتیجہ برآمد کرنا بے حد مشکل ہے۔ ضروری ہے حکومتی ذمہ داران اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ جو چیز اختیار سے باہر ہو اس پر بہت سوچ سمجھ کر رائے کا اظہار کرنا چاہیے کیونکہ وزیراعظم کی بات پر لوگ اُمیدیں باندھ لیتے ہیں، جب یہ اُمیدیں ٹوٹتی ہیں تو معیشت کو جھٹکے دے کر جاتی ہیں۔

وزیراعظم کی اپنی معاشی ٹیم پر برہمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی طرح اہل اقتدار میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔ عوام کی جیبیں ہلکی ہونے کے اثرات عوامی نمائندے بھی محسوس کررہے ہیں، اب ضروری ہے کہ اس بے چینی سے بہتر نتیجہ نکالا جائے۔ وزیراعظم اقتدار میں آئے تو ایک معاشی ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی تھی، چند اجلاسوں کے بعد اس کا نام و نشان غائب ہوگیا۔ اس وقت حکومت کے پاس معیشت کو واپس ٹریک پر لانے کے لیے کوئی جامع حکمت عملی یا منصوبہ نظر نہیں آ رہا۔ بہتر ہو گا ملک بھر کے معاشی ماہرین سے تجاویز طلب کی جائیں اور معیشت کا پہیہ چلانے کے لئے غیر روایتی اقدامات کیے جائیں، عالمی اداروں کے روایتی فارمولوں سے کوئی انقلابی نتیجہ نکلنے کی توقع رکھنا بے وقوفی ہوگی۔

مزید : رائے /اداریہ