چلڈرن ہسپتال میں بچوں کی جینیاتی بیماریوں کے حوالے سے آگاہی کانفرنس

چلڈرن ہسپتال میں بچوں کی جینیاتی بیماریوں کے حوالے سے آگاہی کانفرنس

  



لاہور(جنرل رپورٹر)لاہور کے چلڈرن ہاسپٹل کے شعبہء گیسٹروانٹرولوجی اینڈ ہیپاٹولوجی کی جانب سے صنوفی پاکستان کے ساتھ پاکستان میں لائیسوسومل اسٹوریج ڈس آرڈر (ایل ایس ڈی) پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرین پر مشتمل پینل نے ایل ایس ڈی عوارض سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہوئے قابلِ علاج غیر معمولی بیماریوں اور ان کے علاج سے متعلق خصوصی طور پر وضاحت کی۔ ایل ایس ڈی کانفرنس کے مقررین میں چلڈرن ہاسپٹل لاہور میں شعبہ گیسٹرنٹرولوجی اینڈ ہیپاٹولوجی کی سربراہ پروفیسر ہما ارشد چیمہ، برطانوی کیمبرج یونیورسٹی میں شعبہء تحقیق کے ڈائریکٹر پروفیسر ٹموتھی ایم کاکس، برطانیہ میں قائم بین الاقوامی گاؤچر الائنس کی چیف ایگزیکٹو آفیسر تانیہ کولن ہسٹڈ، لائیسوسومل اسٹوریج ڈس آرڈر سوسائٹی پاکستان کے صدر عاطف قریشی اور صنوفی ایوینٹس پاکستان کی ڈائریکٹر ایکسٹرل افیئرز لیلیٰ خان شامل تھیں۔ اس موقع پر چلڈرن ہاسپٹل لاہور میں شعبہء گیسٹرنٹرولوجی اینڈ ہیپاٹولوجی کی سربراہ پروفیسر ہما ارشد چیمہ نے کہاکہ ’لائسوسومل اسٹوریج ڈس آرڈر (ایل ایس ڈی) میٹابولزم سے متعلق جینیاتی عارضوں کا ایک گروپ ہے۔ کئی نسلوں تک خاندان کے اندر شادیوں کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کو ان جینیاتی بیماریوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ چلڈرن ہاسپٹل کے ریکارڈ کے مطابق چھ سال کے مختصر عرصے میں تقریباً 300 بچے ان بیماریوں کا شکار پائے گئے ہیں اور بیماریوں کی شدت کے باعث ان میں سے ایک تہائی مریض موت کا شکار ہو گئے۔ صنوفی جینزائم کے تعاون سے ایسے 18 مریضوں کا علاج جاری ہے۔ کچھ اور مریضوں کے علاج کے لیے دیگر ذرائع سے بھی تعاون حاصل کیا گیا ہے۔ ان تمام کوششوں کے باوجود گزشتہ 12 ماہ کے دوران 32 بچے علاج کی عدم دستیابی کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔‘ پینل کے شرکاء کی جانب سے ایل ایس ڈی کے شکار بچوں کے علاج کے لیے صنوفی جینزائم اور حکومتِ پنجاب کی کوششوں کو سراہا گیا۔ پینل میں شریک صنوفی ایوینٹس پاکستان کی ڈائریکٹر ایکسٹرل افیئرز لیلیٰ خان نے بتایا کہ صنوفی جینزائم اپنے تین سو ملین روپے کے سالانہ بجٹ کے ’چیریٹیبل ایکسیس پروگرام‘ کے ذریعے پاکستان میں پندرہ سال کے عرصے سے ایل ایس ڈی کے مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کر رہا ہے جبکہ 2013 سے مرض کی تشخیص کے لیے بھی تعاون کیا جارہا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1