شیخ صاحب، یہ کام رقیبوں کا ہے؟

شیخ صاحب، یہ کام رقیبوں کا ہے؟
شیخ صاحب، یہ کام رقیبوں کا ہے؟

  



کام تو یہ یقینا رقیبوں ہی کا ہے، کہ ان سے تو اکبر بھی تنگ تھے، اسی لئے تو انہوں نے کہا کہ خدا کا نام لینے پر بھی رقیبوں نے تھانے میں رپورٹ لکھوا دی۔اب محترم فرزند ِ راولپنڈی نے تو (بقول نصرت جاوید لال حویلی سے اترے ”بقراط“ ہیں)، تردید کر دی ہے،لیکن یار ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔ سب کا یقین ہے کہ ایسا ہی ہوا ہو گا کہ انہوں نے وزیراعظم سے شکایت لگا دی اور کہا کہ سپریم کورٹ میں ان کی بہت ”توہین“ کی گئی ہے، اب ان کا موقف ہے کہ ایگزیکٹو کے کاموں میں عدلیہ کو دخل نہیں دینا چاہئے،دروغ بر گردن راوی جو یہ بھی کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے ٹکا سا جواب دے دیا اور کہا کہ ہم سب عدلیہ کو جواب دہ ہیں اور عدالت جو پوچھے اس کا جواب تو دینا ہو گا، ہم تو پی آئی اے کے حوالے سے بھی جواب دیں گے، حالانکہ محترم نے تو وزیراعظم کو ڈرایا بھی تھا کہ کل آپ کی باری بھی آ سکتی ہے۔اب معاملہ تو یہ ہے کہ وہ مانتے ہی نہیں اور کہتے ہیں کہ اگر سپریم کورٹ کہے تو مَیں استعفیٰ بھی دے دوں گا، حالانکہ یہ تو رضا کارانہ کام ہے اور دُنیا میں ایسا ہوتا ہی رہتا ہے۔

البتہ ہمارے ملک کے نظام میں ایسا نہیں ہوتا، معاملہ تو یہ تھا کہ عدالت عظمےٰ نے ریلوے میں اربوں کے نقصان کے حوالے سے زیر سماعت مسئلہ میں وزیر ریلوے کو طلب کیا اور ان سے بعض سوالات پوچھے اور آبزرویشن دی۔فاضل چیف جسٹس اور بنچ کے دوسرے فاضل جج کا کہنا تھا کہ ریلوے کی حالت خراب ہے،گاڑیاں وقت پر نہیں آتیں،بوگیاں بُری حالت میں ہیں۔ریلوے سٹیشن گندے اور سگنل تک خراب ہیں،دُنیا بلٹ ٹرین چلا رہی ہے اور ہم ابھی یہیں بھٹک رہے ہیں۔عدالت نے خصوصی طور پر دریافت کیا کہ تیز گام میں آگ لگنے سے بیسیوں افراد متاثر ہوئے اور جان سے بھی گئے،آپ (شیخ رشید، وزیر ریلوے) نے کیا کِیا؟ جواب دیا،دس افراد نکالے ہیں، پوچھا گیا،

یہ سب چھوٹے ملازم ہیں، بڑوں کی باری کب آئے گی، جواب دیا، جلد ہی بڑوں کو بھی نکالیں گے۔عدالت عظمےٰ کے خیال میں محکمہ ریلوے ”کرپٹ ترین“ ادارہ ہے، جو اربوں روپے کا نقصان کر رہا ہے، اور لوگ سفر کرنا چھوڑ رہے ہیں،عدالت عظمےٰ نے ادارے کے بارے میں تفصیلی اور کراچی سرکلر ریلوے کی تعمیر کے بارے میں پندرہ روز کے اندر رپورٹ طلب کی ہے۔ شیخ رشید کہتے ہیں وہ حکم بجا لائیں گے اور ساتھ ہی یہ لقمہ بھی دیا کہ اگرعدالت عظمےٰ کہے گی تو مَیں مستعفی بھی ہو جاؤں گاابھی گذشتہ ہفتے انہوں نے کہا تھا کہ سی پیک کے تحت کراچی سے خیبر تک ایم ایل ون(دہری لائن) والا منصوبہ مکمل ہو جائے گا تو وہ وزارتِ چھوڑ دیں گے،آپ حساب لگا لیں کہ یہ کتنے سیانے ہیں کہ ابھی تو کام بھی شروع نہیں ہوا، جب کام شروع ہوا تو مکمل کب تک ہو گا۔یوں نہ نومن تیل اور نہ رادھا کے ناچنے والی بات ہے۔

یہ وہی محترم شیخ رشید ہیں،جو بڑھ بڑھ کر عدلیہ کے احترام کی بات کرتے اور حالیہ حریفوں، سابقہ حلیفوں کے خلاف خود عدالت عظمےٰ میں پیش ہوتے اور عدلیہ کی تعریفیں کرتے تھکتے نہیں تھے،اب ان کو اپنی توہین بھی محسوس ہونے لگی ہے کہ خود کو آ لگی۔وفاقی وزیر ریلوے جو ٹانگ پر ٹانگ رکھے سگار کا کش لگا لگا کر طعنے دینے میں مشہور ہیں اور ہر دم پھلجھڑیاں چھوڑتے اور ”دشمنوں“ کے فنا ہونے کی پیش گوئیاں کرتے ہیں، اندر کی باتیں کرتے رہتے ہیں، اب ذرا پہاڑ تلے آئے تو آئے، تیل کا بھاؤ بھی معلوم ہو گیا۔انہوں نے شکایت لگانے والی بات کی تردید کر دی ہے،لیکن ہم اپنے گولڈن جوبلی سے زیادہ رپورٹنگ کے تجربہ کی بناء پر اس ”سکوپ“ کو مان رہے ہیں،کیونکہ یہ ”یاروں“ ہی کا کام ہے کہ محترم نے کابینہ میں بھی تو اپنے ”یاروں“ کی ایسی تیسی کرنے کا سلسلہ بھی رکھا ہوا تھا، اب ان کو موقع ملا تو اندر کی کہانی باہر آ گئی۔

اب تو محترم وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید احمد کو پندرہ روز کے اندر اندر باقاعدہ ایک تحریری منصوبہ پیش کرنا ہے کہ ریلوے کی حالت بہتر اور نقصان ختم ہونے میں کتنا وقت لگے گا، جہاں تر بوگیوں اور ریلوے سٹیشنوں کی خرابی کے بارے میں عدالت کی آبزرویشن کا تعلق ہے تو یہ بالکل اور سو فیصد درست ہے، بوگیاں گندی، پنکھے خراب، نشستیں پھٹی ہوئیں اور پانی غائب کی شکایات عام ہیں۔اسی طرح ٹرینوں کی تاخیر اب تک دور نہیں ہو سکی۔دُھند کی وجہ تو اب پیدا ہوئی،لیکن ”لیٹ“ ہونے کا سلسلہ تو پہلے سے ہے اور پھر جو لوگ زیادہ پیسے خرچ کر کے بزنس کلاس یا ”سلیپر“ والی بوگیوں میں سفر کرنا چاہتے ہیں وہ بھی بلبلاتے رہیں تو پھر کوئی تو نقص ہے،جہاں تک اکانومی والوں کا تعلق ہے تو یہ غریب لوگ ہوتے ہیں۔یوں ہی شور کرتے کہ ان کی عادت ہے،اِس لئے بقول جالب ”ان کا گھونٹ دے گلا“ والی بات ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے بجا کہا کہ عدلیہ جو پوچھے اس کا جواب دینا ہو گا اور وزیراعظم تو بہرحال روز ہی بتاتے ہیں کہ جو بھی بُرا ہے ان کو ورثے میں ملا، لیکن وفاقی وزیر ریلوے یا ریلوے حکام ایسا نہیں کہہ سکتے کہ ان کو یہ ورثہ خواجہ سعد رفیق کے دور کے بعد ملا اور سب جانتے ہیں کہ تب ریلوے کی حالت آج کے دور سے کہیں بہتر ہو گئی تھی، اب یہ الگ بات ہے کہ تب بھی بہت زیادہ اصلاح کی ضرورت تھی،لیکن اب تو حد ہو چکی کہ محترم وزیر موصوف کو ملکی سیاست سے ہی دلچسپی ہے، حتیٰ کہ لاہور آتے ہیں تو پرل کانٹی نینٹل کا خرچ بچا کر ریلوے کا کرا لیتے ہیں اور ریلوے ہیڈ کوارٹر بُلا کر میڈیا سے بات کرتے ہیں،اور یہ گفتگو محکمہ کے بارے میں کم اور سیاست کے حوالے سے زیادہ ہوتی ہے اور ہر بار کوئی نیا شگوفہ چھوڑتے ہیں کہ لوگ ان کو یاد رکھیں، ویسے ان کی زبان مبارک سے تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہا، ان کے ”محسن“ نواز شریف تو الحفیظ و الامان پکارتے ہوں گے کہ یہ ہی محترم ہیں،جنہوں نے راولپنڈی کی دو نشستوں پر آزاد الیکشن لڑا اور اس سے پہلے فرمایا تھا، جیت کر دونوں نشستیں میاں نواز شریف پر قربان کر دوں گا اور ان کے قدموں میں رکھ دوں گا، اور اب جو فرماتے ہیں وہ بھی لوگ سنتے ہیں اور جو کبھی انہوں نے باغ بیرون موچی دروازے کے جلسوں میں محترم خواتین کے بارے میں کہا وہ بھی تاریخ ہی کا حصہ ہے اور اب وہ باہر تو پھر عدلیہ کے احترام کی بات کرتے ہیں،لیکن اندر جا کر شکایت لگانے سے نہیں چوکتے۔

ادھر سندھ میں آئی جی کی تبدیلی ایک بڑا”قومی مسئلہ“ بن گئی ہے۔وزیراعظم نے وعدہ کیا، تاہم جی ڈی اے کے زور دینے پر فیصلہ موخر کر دیا اور اب تو آئی جی سندھ سید کلیم امام کو ملاقات کا وقت بھی دیا ہے۔ وہ مل کر سندھ کے بارے میں اپنے تحفظات بتائیں گے جو یقینا ویسے ہی ہوں گے جیسے حالات کا ذکر ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے،اس لئے آثار یہی ہیں کہ وزیراعظم نے گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ کے درمیان نئے ناموں پر مشاورت کی ہدایت کی ہے، بہرحال خوشگوار تبدیلی ہوتے ہوتے رک گئی اور الزام تراشی شروع ہو گئی ہے۔

مزید : رائے /کالم