لیبیا کی آزادی و خود مختار ی بحال کی جائے

لیبیا کی آزادی و خود مختار ی بحال کی جائے

  



شمالی افریقہ میں واقع ملک لیبیاگزشتہ 9سال سے سیاسی عدم استحکام اور عوام کے لئے پریشان کن حالات کا شکار ہے۔ سابق صدر کرنل (ر)قذافی کو ستمبر 2011ء میں بعض بیرونی طاقتور ممالک کی سازش اورباہمی گٹھ جوڑ سے، مقامی مخالف لوگوں کی مدد سے قتل کر دیا گیاتھا۔ ان کی نعش کو سڑکوں پر گھسیٹ کر،مرحوم کے حامی لاتعداد شہریوں کی حوصلہ شکنی اور جاندار قیادت سے محروم ہونے کی نوید بھی سنائی گئی،تاکہ وہ کوئی بڑی احتجاجی تحریک اور مخالفانہ پالیسیاں چلانے کی ہمت و جسارت سے باز رہیں۔ قابل ذکر امریہ ہے کہ ان کے دفن کرنے کی جگہ کو بھی لیبیا کے عام لوگوں سے مخفی رکھا گیا، مبادا وہ وہاں کبھی ان کی مغفرت کے لئے دعائے خیر کہہ سکیں یا ان کی یاد گار کے لئے وہا ں کو ئی مزار وغیرہ تعمیر نہ کرلیں۔ قارئین کرام جانتے ہیں کہ کرنل (ر)قذافی بہت دلیراور جرات مند رہنما تھے۔ ان کے بین الاقوامی معاملات اور انصاف و قانون کی پاسداری میں بیانات سے بعض عالمی طاقتوں کے راہنماؤں کو بہت تکلیف اور اذیت محسوس ہوتی تھی، اس وجہ سے وہ ان کی جاندار اور توانا آواز کو مزید سننا اور برداشت کرناپسند نہیں کرتے تھے۔ لیبیا میں تیل کے بڑے ذخائر ہیں۔ ایک مسلم اکثریتی آبادی والے ملک میں عام لوگوں کی معاشی حالت بھی اردگرد کے ممالک کے بیشتر لوگوں سے بہتر تھی۔یہ صورت حال دشمن قوتوں کے لئے قابل قبول نہیں تھی، حالانکہ تیل کی مقامی سطح پر پیداوار سے کوئی قانونی خلاف ورزی اور غلط کاری تو رونما نہیں کی جارہی۔

یاد رہے کہ بیشتر مخالفین کے قلوب و اذہان بہت تنگ،متعصب اور چھوٹے ہوتے ہیں۔ بیشک ان کی قومی اور ذاتی املاک،نسبتاً سینکڑوں یا ہزاروں گنا زیادہ وسیع و عریض، خوبصورت اور اربوں ڈالر مالیت کی ہوں۔یہ سراسر جذبہ حسد و بغض کی منفی کارروائی ہے، جو مخالف بڑی قوتوں کے لئے کرنل (ر)قذافی مرحوم کی اپنے ملک کے عوام کی محنت اور تعمیر و ترقی کو بہتر کرنے کی کاوشوں پر مبنی ہونے کی حیثیت سے روز بروز ناقابل برداشت ہوتی جا رہی تھی، حالانکہ دوران زندگی اپنے ملک کی حدود سے باہر ان کی کوئی کارکردگی،عموما غیر قانونی حرکات و سکنات کے زمرے میں نہیں آتی تھیں، نہ ہی ایسی کوئی اہم شکایت ان دنوں ذرائع ابلاغ میں دیکھنے اور پڑھنے میں آئی۔

حقائق بالا سے یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کرنل (ر)قذافی اپنے ملک کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اپنے تئیں عمر بھر حتیٰ المقدور بھرپور تگ و دو کرتے رہے جو ان کی بہتر آخرت کے لئے خلوص نیت سے دعاگو ہیں۔ عالمی سیاسی حالات پر نظر رکھنے والے غیر جانبدار جائزہ کار حضرات جانتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے 1945ء میں قیام کے باوجود دنیا کے بیشتر مقامات پر آج تک اس کے چار ٹر کی صحیح پاسداری اور عمل داری پر کوئی سنجیدہ توجہ مرکوز نہیں کی گئی، نیز بین الاقوامی قوانین کا احترام بھی خصوصاً ترقی یافتہ ممالک کے حکمرانوں کی اولین ترجیح نظر نہیں آرہی،حالانکہ وہ تو انسانی حقوق کے تحفظ کی اقدار اور روایات کا زیادہ علم، تجربہ اور احساس رکھنے کے دعویدار ہیں۔ اقوام متحدہ کے عام رکن ممالک کی آزادی اور خود مختاری تا حال پامال ہونے کے خدشات اور خطرات سے دوچار کیوں چلی آرہی ہے؟

لیبیا کے اندرونی حالات کے بظاہر استحکام کی خاطر،جرمنی میں برلن کے مقام پر ایک حالیہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد،ایک مثبت اطلاع ہے۔ اس کانفرنس کے اختتام پر ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کوئی بیرونی طاقت،لیبیا میں حریف و مخالف اور متحارب فریقین کو اسلحہ فراہم نہ کرے…… اقوام متحدہ کے تحت گزشتہ چند سال سے ایک وزیراعظم عارضی طور پر اپنے اختیارات کا استعمال کررہا ہے، جبکہ دوسری جانب جنرل حفتر آج کل مقامی حریف دھڑے کے سیاسی اور فوجی راہنما ہیں، ان کا ملک کے مختلف علاقوں پر کچھ کنٹرول ہے۔ چند روز قبل امریکہ کے وزیر خارجہ کا ایک بیان بھی اس معاملے پر پریس میں دیکھا گیا ہے،اگر وہ بھی اپنے ملک کی جانب سے مذکورہ بالا پریس کانفرنس سے کوئی کارروائی کرنے کے حق میں ہوئے، تو پھر غالبا کانفرنس مذکور کا اعلان حتمی طورپر مؤثر اور کامیاب نہیں ہوسکے یا اس کی صحیح انداز میں تعمیل کرنا ممکن نہیں رہے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکی صدر ٹرمپ بھی اس معاملے میں برلن کانفرنس کی تائید و حمایت کرنے پر اکتفا کریں گے؟

یا وہ کوئی اپنی الگ کارروائی اختیار کرنے کو ترجیح دیں گے؟ بہتر تو یہی ہے کہ امریکی حکومت بھی برلن کانفرنس کے اعلان سے اتفاق کرنے کا کھلے اور صاف الفاظ میں اعلان کردے، تاکہ لیبیا میں گزشتہ کئی سال سے جو لاکھوں لوگ پریشان حالی سے دوچار ہیں، ان کے مسائل و مصائب میں کمی آسکے۔ بڑی طاقتوں کے راہنما ؤں کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ انسانی حقوق کی بہتری کی خاطر اور جنگ وجدل کی پالیسیوں کو ترک کر کے،عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو تقویت دیں۔برلن کانفرنس کے راہنماؤں سے توقع ہے کہ لیبیا کی آزادی اور خود مختاری جلد بحال کی جائے گی۔ کسی کمزور،مذہبی اختلافات یا معاشی معاملے کی بناء پر کسی دیگر ملک پر غیر قانونی انداز سے حملہ آور ہو کر اسے تباہ و برباد کرنا دور جہالت کی بد ترین مثال ہے۔ موجودہ جدید عالمی نظام اور قوانین کے نفاذ و اجراء کی پامالی کا کیا جوازو مقام رہ جاتا ہے؟

مزید : رائے /کالم