ایاز صادق کی خدمت میں

ایاز صادق کی خدمت میں
ایاز صادق کی خدمت میں

  



ایک ماہ سے زائد کی ہڈیاں اکڑاتی سردی کے گذرنے کی آس بندھتی جا رہی ہے۔ اس بار نئے سال کی آمد نے پاکستان کے عوام پر ایسی سختیاں نازل کی ہیں کہ اس سے پہلے شاید کئی برس کی منہ دکھائی عوام کے لئے ایسی مہنگی اور اذیت ناک نہیں تھی۔ سالِ نو کے ساتھ ہی چولہے ٹھنڈے ہو گئے، گیس ختم، لیکن گیس کی قیمت بڑھا دی گئی۔اب چولہوں میں گیس تو نہیں تھی،لیکن گیس کمپنی کے میٹر پہلے سے کہیں تیز چل رہے تھے۔ایسے میں بابا جی ظہیر کاشمیری یاد آ گئے۔گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی تھی۔ بابا جی دُختر رزِ کے بے حد شوقین تھے اور جب شروع ہوتے تو ختم ہونے کا نام ہی نہ ہوتا۔ ایک روز پرانے پریس کلب دیال سنگھ مینشن کی سیڑھیوں سے اُتر کر رکشہ میں بیٹھ گئے۔آدھی رات کے وقت آنکھ کھلی تو رکشے میں موجود تھے اور ڈرائیونگ سیٹ پر ایک ملنگ بیٹھا تھا۔

بولے کتنے پیسے ہوئے؟ اُس نے پیسے بتائے اور بابا جی نے دے دیئے۔ صبح آنکھ کھلی تو بابا جی اُسی رکشے میں لیٹے تھے،دن چڑھ چکا تھا،دیال سنگھ مینشن کی سیڑھیوں پر سگریٹ کی دکان تھی اور اس کا مالک بیڈن روڈ پر رہتا تھا،یوں وہ بابا جی کا پڑوسی تھا۔اس نے جب بابا جی کو رکشے میں دیکھا تو سمجھ گیا۔اُس نے بابا جی ظہیر کاشمیری کو اٹھایا تو انہوں نے اٹھتے ہی کہا: چائے لے آؤ، پھر بابا جی نے محسوس کیا کہ مَیں غلط جگہ پر ہوں، اِدھر اُدھر دیکھا تو وہ ایک ایسے رکشے میں تھے، جسے اینٹوں پر کھڑا کیا گیا تھا اور اس کے ٹائر ہی نہیں تھے۔ دکاندار نے بابا جی کو بتایا کہ وہ ساری رات اسی رکشے میں لیٹے رہے۔ بابا جی نے انتہائی افسوس کے ساتھ کہا،لیکن ڈرائیور تو مجھ سے دو روپے لے گیا ہے۔ سوئی ناردرن گیس نے اینٹوں پر کھڑے رکشوں کا کرایہ وصول کر لیا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بابا جی نے عالم مدہوشی میں پیسے دیئے اور بے چارے عوام ہوش و حواس میں ٹھنڈے چولہوں کی گیس کا بل ادا کر رہے ہیں۔

آج یعنی23 جنوری کے روز عوام تک ایک اور تبدیلی کی خبر آئی کہ گیس اور بجلی کی قیمتوں کوایک بار پھر سے بڑھایا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے ایک اور افسر کو سٹیٹ بینک کا ڈپٹی گورنر بنا دیا گیا ہے۔ اس سے قبل سٹیٹ بینک کے گورنر بھی آئی ایم ایف کے ہی ایک افسر لگائے گئے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ غیر منتخب حکومتوں میں عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف ملکوں پر قبضہ کرتے ہیں،لیکن ایوب خان کے شعیب اور عمران خان کے حفیظ شیخ بھی منتخب اور غیر منتخب حکومتوں نے پاکستان کو عالمی سامراجی مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھنے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر کوششیں کی ہیں،جس کا نتیجہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی اور پاکستانی روپے کی قدر کی مسلسل کمی کی صورت میں نکلا ہے۔

آج پاکستان کا معاشرہ تنزلی کی طرف تیزی سے رواں ہے۔کبھی کراچی میں سٹریٹ کرائم کی حالت ِ زار پر حیرت ہوتی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کراچی میں کوئی انتظامیہ موجود ہی نہیں۔ گلی محلوں، چوراہوں پر عام چوری، راہزنی اور ڈکیتی سے لے کر قتل کی وارداتیں زندگی کا معمول بن چکی تھیں ……اب تو لاہور کراچی سے بھی آگے بڑھ چکا ہے۔ایک اندازے کے مطابق گزشتہ ماہ لاہور کے پوش علاقوں میں چالیس سے زائد ڈکیتیاں ہوئیں جن میں کروڑوں روپے نقد اور کروڑوں کے زیورات لوٹ لئے گئے۔ان میں معروف اخبار نویس اور تجزیہ کار امتیاز عالم کے گھر کی واردات بھی شامل ہے،لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ لاہور کے عوامی نمائندے،جن میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) دونوں کے نمائندے شامل ہیں،خاموش ہیں۔انہوں نے اب تک یہ ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ وہ آئی جی اور سی سی پی او کے ساتھ شہر میں بڑھتی ہوئی وارداتوں کے حوالے سے کوئی اظہارِ خیال کی مجلس کرتے۔

عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ شہری انتظامیہ کے ساتھ اس صورتِ حال کا جائزہ لیں، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور پولیس حکام کو اپنے تحفظات سے آگاہ کریں اور ان کے ساتھ حکومتی تعاون کی زیادہ سے زیادہ صورت نکالیں۔شہر کے عوامی نمائندے منتخب ہونے کے بعد اپنے حلقوں کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے خواجہ سعد رفیق چھاؤنی کے حلقے سے چار مرتبہ منتخب ہو چکے ہیں۔پانچ برس وہ ریلوے کے وزیر رہے، لیکن نہ تو دھرم پورہ اور صدر بازار کے درمیان ریلوے پھاٹک کو درست کروا سکے اور نہ اپنے حلقے کی سڑک پر پندرہ برس تک غور کیا۔اب اس علاقے سے سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق منتخب ہوئے ہیں، مگرایک مرتبہ بھی اس علاقے میں پلٹ کر نہیں آئے۔صدر بازار کا علاقہ، جہاں ان کے سب سے زیادہ ووٹ تھے،وہاں کے دو ہائی سکولوں کے پاس ایک کھیل کا میدان ہے جس پر ان کی اپنی جماعت کے سابق وائس پریذیڈنٹ نے نامعلوم کہاں سے مٹی لا کر اس گراؤنڈ کو ٹیلوں میں تبدیل کر دیا ہے۔

دو نمبر ہائی سکول پارک کے درمیان گندگی کا ڈپو بنا دیا ہے،جہاں سے ہر روز بچے صبح سویرے سکول جاتے ہوئے بدبو سونگھنے پر مجبور ہیں۔غلام احمد پارک، جو کبھی پھولوں اور پودوں سے خوش نما نظر آتا تھا، اب وہاں دھول اور مٹی ہے،لیکن ایاز صادق بھی خواجہ سعد رفیق کی طرح یہی سمجھتے ہیں کہ ووٹ تو میاں نواز شریف کو ملتا ہے، ہم کچھ نہ بھی کریں تب بھی ووٹ ہمیں ہی ملے گا۔عوامی نمائندوں کا یہ رویہ بھی ملک میں جمہوریت کو کمزور کرتا ہے۔”ووٹ کو عزت دو“ کا مطلب صرف یہ نہیں کہ سول بالادستی کے نام پر حکومت سنبھالی جائے۔ ”ووٹ کو عزت“ اس طرح ملتی ہے کہ آپ کو جو لوگ ووٹ دیتے ہیں، ان کے ووٹ کے عوض ان کی زندگی میں سہولتیں پیدا کی جائیں۔ اگر آپ ووٹ دینے والوں کی زندگی سے لاتعلق رہتے ہیں تو دراصل آپ ووٹ کو خود عزت نہیں دے رہے ہوتے۔

مزید : رائے /کالم