کرونا وائرس: چند تاثرات!

کرونا وائرس: چند تاثرات!
کرونا وائرس: چند تاثرات!

  



ووہان (Wuhan) مشرقی چین کے ایک صوبے ہوبی (Hubei) کا دارالحکومت ہے۔ 600مربع میل رقبے پر پھیلے اس شہر کی آبادی ایک کروڑ 10لاکھ سے زیادہ ہے۔ دریائے ینگ سی کیانگ اور دریائے ہان کا شمار چین کے عظیم اور طویل دریاؤں میں ہوتا ہے اور ووہان ان دونوں دریاؤں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے معتدل آب و ہوا کا حامل شہر ہے۔ ریلوں اور سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے اور اس کا شمار چین کے اقتصادی، تجارتی، تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں ہوتا ہے۔ 350سے زیادہ ٹیکنیکل اور ریسرچ ادارے یہاں قائم ہیں۔ دنیا بھر کے سینکڑوں طالب علم یہاں کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں مختلف تعلیمی اور تکنیکی شعبوں میں زیر تعلیم ہیں۔ پاکستان کے بھی 500سے زیادہ طلباء یہاں مقیم ہیں …… الغرض ہر لحاظ سے ووہان چین کا ایک ہمہماتا شہر ہے۔

یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ وہاں انڈیا کے طالب علموں کی تعداد کتنی ہے لیکن جب سے کرونا وائرس کی خبریں آنا شروع ہوئی ہیں، انڈیا نے اپنے شہریوں (اور خصوصاً زیرِ تربیت طالب علموں)کو واپس لانے کے انتظامات کر لئے ہیں۔ ”دی ہندو“ کی 27جنوری کی اشاعت میں بتایا گیا تھا کہ کیرالا کے چیف منسٹر نے وزیراعظم مودی کو ایک ہنگامی پیغام میں کہا ہے کہ ووہان سے بھارتی شہریوں کو فوراً واپس لایا جائے۔ انڈیا نے پہلے تو ایک بوئنگ 747 (400سے زائد نشستوں والا) طیارہ سٹینڈ بائی کر دیا تھا لیکن چونکہ مطلوبہ تعداد میں حفاظتی لباس (Kits) دستیاب نہ تھے اس لئے اسے روانہ نہیں کیا جا سکا۔ لیکن تازہ ترین خبروں میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا نے اپنے شہریوں کو واپس لانے کے انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ووہان میں پاکستانی شہریوں کی قطعی تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔ پاکستانی الیکٹرانک میڈیا میں یہ تعداد 2000بتائی گئی ہے لیکن بعض چینل 800بتا رہے ہیں۔ پاکستانی طلباء کی تعداد 500 ان کے علاوہ ہے۔

کرونا وائرس کی خبر تو دنیا بھر میں اب عام ہو چکی ہے۔ خود چینی حکومت نے اپنے بعض شہروں کو لاک ڈاؤن کر دیا ہے۔ یعنی لوگ گھروں میں بند ہو کر بیٹھ رہے ہیں اور بازاروں میں آمد و رفت ختم کر دی گئی ہے۔ کرونا وائرس چونکہ ایک متعددی (Contagious) وائرس ہے اس لئے مشکوک مریض کے ساتھ برہنہ انسانی ہاتھوں کالمس تک خطرناک ہو سکتا ہے۔ منہ پر مخصوص قسم کے ماسک چڑھا کر بات کی جاتی ہے۔ اس مرض میں عمل تنفس بھی بُری طرح متاثر ہوتا ہے اور نمونیا کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔چینی حکومت نے جو ایڈوائزری جاری کی ہے اس میں لگی لپٹی رکھے بغیر کہا گیا ہے کہ یہ وائرس طاقتور ہے اور پھیلتا جا رہا ہے، اس لئے از بس احتیاط کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں بھی اس کے مریض آ چکے ہیں۔ تازہ خبروں کے مطابق دو مریض ملتان (نشتر ہسپتال) میں تھے اور ایک سروسز ہسپتال لاہور میں تھا۔ تادمِ تحریر ان کو زیرِ علاج رکھا جا رہا ہے۔ یہ تینوں مریض چینی باشندے ہیں اور حال ہی میں ووہان سے آئے تھے۔ پاکستان میں CPEC کے کئی منصوبوں کی تکمیل کے تناظر میں سینکڑوں چینی باشندوں کی آمد و رفت عام ہے اور خنجراب سے لے کر گوادر تک چینیوں کے پرّے کے پرّے پاکستان کے مختلف حصوں میں دیکھے اور پائے جاتے ہیں۔ ہمارے ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق البتہ خطرے کی کوئی بات نہیں، حکومت نے اس وبائی تھریٹ کا بڑی سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور بڑے پیمانے پر حفاظتی اقدامات کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

ویسے تو امریکی پرنٹ میڈیا میں اس وائرس کے پھیلاؤ اور اس کی اورجن (Origin) کے بارے میں بڑے تفصیلی مضامین شائع ہوچکے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ 2002ء میں بھی اسی ووہان میں SRS نامی اسی طرح کے ایک وائرس کا پتہ چلا تھا جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے…… تاہم کرونا کی ساری کہانی تو اب پاکستان کے بچے بچے کی زبان پر آ چکی ہے۔ ہر سمارٹ فون میں ووہان مارکیٹ کے وہ مناظر قریہ قریہ اور شہر شہر پھیل چکے ہیں جن میں زندہ جانور برائے فروخت دیکھے جا سکتے ہیں۔اسی مارکیٹ میں چینی باشندوں کی بڑی تعداد اپنی پسند کی ”ڈشیں“ اور جانور خرید رہی ہے۔ اس مارکیٹ میں پنجروں میں بند (اور کھلے بھی) جو جانور نظر آتے ہیں ان میں جنگلی بلی، بانسی چوہے، مینڈک، سانپ، کچھوے، اژدہے، مشک بلاؤ، اود بلاؤ، دریائی گھوڑے، کتے، بندر، گدھے اور ”نایاب“ جنس کے درجنوں جانور زندہ اور روسٹ شدہ شامل ہیں …… ایک وڈیو میں تو ایک چینی نوجوان کو بالشت بھرکا مینڈک چباتے ہوئے دکھایا گیا ہے، دوسری میں ایک اژدھے کا ایک حصہ باقاعدہ روسٹ کرکے کھایا جا رہا ہے، ایک جگہ ضیافتی پارٹی بیٹھی ہے اور روسٹ چمگادڑوں کو مزے لے لے کر اڑائے جا رہی ہے۔ جوان جوڑے بڑے رومانوی ماحول میں بانسی چوہوں کا ناشتہ کررہے ہیں اور ایک وڈیو میں تو چمگادڑ کا تازہ سوپ نوشِ جاں کیا جا رہا ہے۔ پیالے سے گرم گرم بھاپ کے بگولے اٹھ رہے ہیں اور بے تاب گاہک ہیں کہ ”ھل من مزید“ کی فرمائش کر رہے ہیں ……لیکن یہ سب مناظر کرونا وائرس کی آمد سے پہلے کے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ یہ کرونا وائرس چمگادڑوں میں پایا جاتا ہے۔ لیکن جب ایک چینی سے پوچھا گیا تو اس نے گرما گرم سوپ کی چُسکی بھرتے ہوئے کہا: ”اگر چمگادڑ میں یہ وائرس ہوتا تو ووہان کبھی کا شہرِ خموشاں بن چکا ہوتا!“

برسبیلِ تذکرہ یاد آیا شائد ساتویں یا آٹھویں کی ہماری اردو کی درسی کتاب میں نظیر اکبر آبادی کی ایک نظم تھی جس کا عنوان تھا ”سوہے وہ بھی آدمی“…… اس نظم میں شاعر نے ہندوستان کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں رہنے والے انسانوں کا تذکرہ کیا تھا جن میں امیر، غریب، گداگر ساہوکار، اچھے بُرے، چور اچکے، نمازی پرہیز گار، قاتل، رحمدل…… الغرض سوسائٹی کے ہر طبقے کے افراد کا شاعرانہ احوال بیان کیا تھا اور اس کے اعمال و افعال اور کاروبار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ سب اچھے بُرے لوگ حضرتِ آدم کی اولاد ہیں۔ قاتل بھی انسان ہے اور مقتول بھی آدمی ہے…… صوفی اور پرہیز گار بھی آدمی ہے اور زانی، شرابی، ڈاکو اور بڑے سے بڑا وارداتیا بھی آدمی ہے…… ہماری کلاس میں ایک لڑکے کا نام شمیم تھا۔ہم اسے شمی شمی کہہ کر چھیڑا کرتے تھے۔ اس کا باپ اور بڑا بھائی دونوں شاعر تھے۔ جب ماسٹر عزیز صاحب نے نظیر اکبر آبادی کی یہ نظم کلاس میں پڑھائی تو شمی اگلے روز اپنے باب کی ایک نظم لکھ کر ساتھ لے آیا جو نظیر اکبر آبادی کی اس نظم (آدمی) کی پیروڈی تھی۔…… اس کا ایک بند یہ بھی تھا:

مینڈک جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

بچھو چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

چمگادڑ اور اودبلاؤ کا شوربا

گھر لے کے جا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

اور ان کو دیکھ دیکھ کے، کانوں کو اپنے ہاتھ

جھک کر لگا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

شمی اپنے ساتھ ایک تصویر بھی لایا تھا جس میں ایک سفید فام شخص چمگادڑ کا شوربا پی رہا تھا۔ اس وقت تو ہمیں بھی یقین نہیں آیا تھا کہ یہ شمی کے والد کی بیان کردہ کہانی سچی ہے یا جھوٹی اور اس نظم میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ حقیقت بھی ہے یا نہیں۔ ہمارے تو تصور میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی کہ کوئی انسان، مینڈکوں،چمگادڑوں اور چوہوں کا شوربا بھی پی سکتا ہے لیکن اب تو یہ سب کچھ سامنے آ گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا میں چین کے بڑے بڑے شہروں میں ان حرام جانوروں کی فروخت کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ عین حقیقت ہے۔ رہا یہ سوال کہ SRS اور کرونا جیسے وائرسز (Viruses) 2002ء سے پہلے عام کیوں نہ تھے اور اب عام کیوں ہیں تو اس کا جواب تو کوئی ماہرِ جراثیم یا ماہرِ امراضِ خبیثہ و دسیسہ ہی دے سکتا ہے۔

ہم ایک عرصے سے سنتے آئے ہیں کہ مشرق بعید کے ممالک (جاپان، چین، کوریا، تھائی لینڈ، ملائیشیا، ویت نام، فلپائن) وغیرہ میں ان جانوروں کو باقاعدہ بطور ایک خوش ذائقہ ڈش تیار کرکے اعزّہ و اقربا کی مہمان نوازی کی جاتی ہے۔ چمگادڑ اور بانسی چوہے کی ڈش تو یہاں کی ”سٹار ڈش“ شمار ہوتی ہے اور عقل حیران ہے کہ یہ لوگ کس ذائقہء کام و دہن کے شیدائی ہیں!

ان ممالک میں مسلمان بھی تو بستے ہیں …… ووہان میں مساجد بھی ہوں گی…… اور ایک سے زیادہ ہوں گی۔ کیا وہاں کے مسلمانوں اور نماز گزاروں نے ان چمگادڑ خوروں کو نہیں بتایا کہ یہ جانور حرام ہیں اور ان کا گوشت ابال کر کھانا اور شوربا بنانا کس قدر کراہت انگیز اور بدبو دار کاروبار ہے۔

سکول کے زمانے میں ایک انگریزی مصنف کی مشہور کتاب ”چنگیز خان“ پڑھی تھی جس میں اس نے لکھا تھا کہ جب 13ویں صدی میں منگولوں نے ایران پر حملہ کیا تھا تو راستے میں صحرائے گوبی کو عبور کرتے ہوئے موسم گرما کی شدت تھی اور پانی نایاب تھا۔چنگیز کے حکم پر ایک ایک سوار کے ساتھ ایک ایک زاید گھوڑا بھی لشکر میں شامل تھا۔ جب کسی سوار کا مشکیزہ ختم ہو جاتا تو وہ فالتو گھوڑے کا پیٹ چاک کرکے اس کا پانی نکالتا اور اپنی پیاس بجھا لیتا۔ اس وحشی یلغار میں ہزاروں منگول سپاہیوں نے گھوڑے ذبح کرنے سے پہلے ان کی گردن کاٹی اور ان کا خون پی کر بھوک اور پیاس فرد کرنے کا سامان کیا۔ ہم سمجھتے تھے کہ اس مصنف نے مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے۔ بھلا کوئی انسان گھوڑے کا خون بھی پی سکتا ہے؟…… لیکن اب باور کرنا پڑا ہے کہ اس نے درست لکھا تھا۔ منگولیا اور چین پڑوسی ممالک ہیں اور منگول اور چینی ایک ہی نسل کے انسان ہیں اس لئے ان کے خورد و نوش کا کلچر بھی ایک جیسا ہے۔

انڈیا کا ایک وزیراعظم مرار جی ڈیسائی ہر صبح بیدار ہونے کے بعد اپنا پیشاب پیا کرتا تھا۔ اور مودی کے آج کے بھارت میں تو گؤماتا کی پوجا کے مظاہرے قارئین بھی سوشل میڈیا پر دیکھتے ہوں گے۔ چنگا بھلا، بالغ اور باہوش انسان ماتھے پر تلک لگائے اور گلے میں مالا لٹکائے جب گائے کا گوبر کھا رہا ہو اور پیشاب کرتی گائے کی پیشاب گاہ کے نیچے اوک سے غٹاغٹ’سیراب‘ ہو رہا ہو تو ووہان کی جانوروں کی اس مارکیٹ میں کتے بلیوں اور چوہوں چمگادڑوں کی روسٹ ڈشوں کو کیسے موردِ الزام ٹھہرایا جائے؟ یہ تو ہندو جاتی کے ان پجاریوں کو تب پتہ چلے گا کہ گائے کا گوبر اور پیشاب کتنا پوتّر ہوتا ہے جب ممبئی یا دہلی کے کسی گؤ ماتا کے پچاری کو کرونا وائرس کی طرح کا کوئی ”گاؤ وانا وائرس“ آن چمٹا…… بعض چینیوں کے بقول گزرے کل میں اگر چین میں کرونا وائرس نہیں تھا تو انڈیا میں گائے کے پجارے بھی کہیں گے کہ کل تک تو ”گاؤماتا وائرس“ نہیں تھا آج کہاں سے آ گیا۔

اس مرض کی علامات بڑی گمراہ کن اور فریب آور بتائی جاتی ہیں۔ فلو سے آغاز ہوتا ہے اور پھر ہلکا بخار ہو جاتا ہے جو بتدریج بڑھتا جاتا ہے اور آخر جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ اس کی کوئی ویکسین (ٹیکہ) اب تک دریافت نہیں ہو سکی۔ ایک کامن احتیاطی تدابیر یہ ہے کہ گاہے گاہے صاف پانی سے ہاتھ دھوتے رہیں اور بس……

اندازہ فرمایئے اسلام کی حقانیت اور طبی دور اندیشیوں کا! سبحان اللہ!!…… ذرا سوچئے کہ ہم پر پانچ وقت کی نماز کیوں فرض کی گئی ہے اور نماز سے پہلے وضو کیوں شرط ہے اور وضو کے فرائض میں پہلا فریضہ کیا ہے؟

مزید : رائے /کالم