عثمان بزدار پر اظہار اعتماد

عثمان بزدار پر اظہار اعتماد

  



وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دورہ لاہور کے موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر ایک مرتبہ پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مخالفین کو یہ باور کروا دیا ہے کے عثمان بزدار سے بہتر اور بڑھ کر اس صوبے کے لیے کوئی اور نہیں ہو سکتا اگر نیا وزیر اعلیٰ لایا گیا تو 20 دن بھی نہیں ٹکے گا۔ان کے اس اعتماد سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو مزید بھرپور طریقے سے کام کا موقع ملا ہے اور انہوں نے ثابت قدم رہتے ہوئے اپنے منصوبوں پر پہلے سے زیادہ توجہ مبذول کر لی ہے۔دوسری جانب ان کے مخالفین کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے اور کئی روز سے وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے خواب دیکھنے والے سکتے میں آگئے ہیں۔خیر جب انسان محنت اور ایمانداری سے اپنے کام کے ساتھ مخلص ہو تو دشمن اسے زیادہ تنگ کرتے ہیں اور اس کی جڑیں کاٹنے اور ناکامی کا خواب آنکھوں میں سجائے اس کے لیے من گھڑت سوچ ذہن میں لیے اس کے لیے طرح طرح سے الٹے سیدھے ھتکنڈے آزماتا ہے لیکن جب اللہ نے کسی انسان کو عزت دینی ہو تو ساری دنیا مل کر بھی اس انسان کو ناکامی یا ذلت نہیں دے سکتی۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی آج کل ایسے ہی لوگوں کے شکنجے میں تھے لیکن اللہ نے انہیں ایک بار پھر سرخرو کیا اور کامیابی نے ان کے قدم چومے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ڈیڑھ سال مکمل ہو چکا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اس منصب پر بیٹھ کر بڑی بہادری اور ہمت کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں اور میرا خیال ہے کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے وسیم اکرم کو خوب پالش کر لیا ہے۔اب وہ زیادہ نکھر کر اس صوبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنے آپ مصروف عمل رکھے ہوئے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو نا صرف ناقابل تسخیر بنا دیا ہے بلکہ ان کے شانہ بشانہ اور تحریک انصاف کی حکومت کے پورے پانچ سالوں تک ان پر اطمینان کا اظہار اس بات کی نوید ہے کے بہت جلد اس صوبے میں لوگ سابقہ وزیر اعلیٰ کو بھول کر عثمان بزدار کے گن گاتے نظر آئیں گے۔یہ درست ہے کہ وہ وزیراعلی کے طور پر اس منصب پر پہلی بار فائز ہوئے لیکن یہ کوئی نہیں دیکھ رہا کہ ماضی کے وزیراعلی شہبازشریف جب پہلی بار وزیراعلی بنے تو انہیں کونسلر رہنے کا بھی تجربہ نہ تھا وہ چیمبر آف کامرس کی رکنیت تک ہی محدود رہے - عثمان بزدار تو ان سے زیادہ تجربہ رکھتے ہیں - انہو ں نے ڈیڑھ سال کے عرصہ میں صوبہ بھی میں بھر پور انقلابی اقدامات کا آغاز کیا اور ہر شعبہ میں عوامی فلاح و بہبود کے ایسے اقدامات کئے جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی - یہی وہ صورت حال تھی جس پر اپوزیشن اور اقتدار سے محروم طبقہ پریشان ہوا اور ان کے خلاف منفی پراپیگندہ کا طوفان کھڑا کردی۔

اگر حقائق دیکھے جائیں تو پنجاب میں مختصر ترین عرصہ میں وزیراعلی عثمان بزدار نے کیا کچھ نہیں کیا -صوبہ میں 7 نئی یونیورسٹیوں کے علاوہ 4 ٹیکنیکل یونیورسٹیوں اور 43 نئے کالجز کا قیام کا منصوبہ شامل ہے - اسی طرح محکمہ صحت کے شعبے میں 5 مدر اینڈ چائلڈ ہسپتالوں سمیت 9 نئے ہسپتال قائم کرنے کا منصوبہ، دیہات میں 194طبی مراکز صحت میں علاج معالجہ کی 24 گھنٹے سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایاگیاہے - ساڑھے تین کروڑ سے زائد افراد کیلئے صحت کارڈ دیئے جاچکے ہیں -غریب اور محروم طبقہ کے لئے لاہور سمیت دیگر ڈویڑنوں میں پناہ گاہیں تعمیر کی گئی ہیں - نیا پاکستان منزلیں آسان کے تحت دیہات کی 1500 کلو میٹر طویل سڑکوں کی تعمیر و توسیع کی گئی ہے -جلال پور کینال کا سنگ بنیاد رکھاگیاہے جس پر 32 ارب 70 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے -اس کے تحت 43 کلومیٹر رابطہ سڑکیں بھی تعمیر کی جائیں گی - فیصل آباد میں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کا قیام عمل میں لایاجارہاہے -اس سے 4 لاکھ افراد کو روزگارکے مواقع حاصل ہوں گے جبکہ بالواسطہ طورپر 10 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے - کم آمدنی والے افراد کی رہائشی سہولیات کی فراہمی کیلئے وزیراعظم کے وڑن کے مطابق نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ کا شاندار منصوبہ شروع کیاگیاہے - مختلف محکموں کو بہتر انداز میں چلانے کیلئے سات پالیسیاں تشکیل دی گئی ہیں جن میں انڈسٹریل پالیسی، سپیشل ایجوکیشن پالیسیاں غیرہ وغیرہ شامل ہیں -محکمہ صحت میں ڈاکٹروں سمیت 25 ہزار خالی آسامیو ں پر اہل افراد کو بھرتی کیاگیاہے - پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ او رپنجاب ولیج پنچائیت انڈ نیبر ہڈ کونسل اکٹ سمیت 30 قوانین کی منظوری دی گئی جبکہ 35 قوانین منظوری کے مراحل میں داخل ہوچکے ہیں -وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار خاموش طبع شخصیت کے مالک ہیں وہ بڑھکیں اور شو ر مچانے کے قائل نہیں وہ خاموشی سے اپنا کام کرتے جارہے ہیں کیونکہ کام بولتے ہیں -

مزید : رائے /کالم