ٹرمپ مواخذہ، ریپبلکن لیڈرمچ میکانل سکیورٹی ایڈوائزر بولٹن کو گواہی دینے سے روکنے میں ناکام

ٹرمپ مواخذہ، ریپبلکن لیڈرمچ میکانل سکیورٹی ایڈوائزر بولٹن کو گواہی دینے سے ...

  



واشنگٹن (اظہر زمان،خصوصی رپورٹ)امیریکی سینٹ میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے کے بعد سینیٹرز کی طرف سے تحریری طور پر سوالات پوچھنے کا اگلا مرحلہ گزشتہ ر و ز شر وع ہوا جو آج جمعرات تک جاری رہیگا۔ کانگریس کے ایوان نمائندگان کی اکثریتی ڈیموکرٹیک پار ٹی نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کا دو دفعات پر مشتمل بل منظور کیا تھا جن میں ا لز ام لگایا گیا تھاکہ صدر ٹرمپ نے یوکرائن کے صدر کوفوجی ا مد اد دینے کو ان کے مخالف ڈیموکرٹیک صدارتی امیدوار جوبیڈن کیخلاف کرپشن کے مقدمے کو آگے بڑھانے سے مشروط کردیا تھا۔ اس کی بنیاد انٹیلی جنس افسروں کی شکایت تھی جنہوں نے خفیہ طور پر ان کی فون کال سنی تھی۔ بعد میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کی اس سلسلے میں تفتیشی کارروائیوں میں بھی ر کاوٹیں ڈالیں۔ سپیکر نینسی پلوسی نے بل منظور ہونے کے بعد سات ارکان پر مشتمل منیجرز کی ٹیم کے ذریعے سینیٹ میں ا ستغا ثہ دائر کیا تھا کیونکہ امریکی آئین کے مطابق صر ف سینیٹ میں مواخذے کا مقدمہ چل سکتا ہے۔ لیکن سورکنی سینیٹ میں حکمران ریپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے اسلئے اگر انہوں نے پارٹی آئین کے مطابق ووٹ دیا تو مقدمہ خا ر ج ہو جائیگا۔ سینیٹ میں ریپبلکن ارکان 53ہیں جبکہ ڈیموکرٹیک ارکان 45ہیں اور دو آزاد ارکان بھی ڈیموکرٹیک کے حامی ہیں۔ مقدمہ جیتنے کیلئے دو تہائی ارکان کی حمایت ضروری ہے جو ڈیموکرٹیک ارکان کو نہیں مل سکتی۔ مواخذے کے مقدمے کی صدارت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کررہے ہیں۔ جن کا کردار محض ریفری ہے۔ ڈیموکرٹیک ارکان مزید شہا دتیں طلب کرنے کی کوشش کررہے ہیں جن میں سب سے اہم وائٹ ہاؤس کے سابق سکیورٹی ایڈوائزر جا ن بولٹن ہیں جن کی اس سلسلے میں کتاب بھی جلد شائع ہورہی ہے جو یہ گوا ہی دے سکتے ہیں صدر ٹرمپ نے یوکرائن کو امداد دینے کے بد لے صدارتی امیدوار جوبیڈن کیخلاف کرپشن کارروائی کو تیز کرنے پر زور دیاتھا۔ چیف جسٹس مزید شہادتوں کیلئے طلب کرنے کا اختیار رکھتے ہیں لیکن سینیٹ معمولی اکثریت سے اسے رد کر سکتا ہے تاہم تمام سینیٹ ارکان مقدمے میں جیوری کے ارکان بن کر غیر جانبداری سے فیصلہ کرنے کا حلف اٹھاچکے ہیں اسلئے چند ریپبلکن ارکان مزید شہادتوں کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں،اسیلئے ریپبلکن اکثریتی لیڈر مچ میکا نل اعتراف کرچکے ہیں کہ ان کی خاص طور پر سابق سکیورٹی ایڈوائزری جان بولٹن کو شہادت سے روکنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ مبصر ین کا کہنا ہے ڈیموکرٹیک کا استغاثہ ووٹوں کی کمی کے باعث اگرچہ مقدمہ نہیں جیت سکے گا لیکن مزید ٹھوس شہادتوں کے سامنے آنے سے را ئے عامہ میں مثبت رد عمل حاصل کرسکے گا۔ اس طرح صدرٹرمپ اخلاقی اعتبار سے اپنا مقدمہ ہار جائیں گے۔

ٹرمپ مواخذہ

مزید : صفحہ اول