پی ٹی ایم سے مذاکرات کے باوجود قانون توڑنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے: وزیر داخلہ

پی ٹی ایم سے مذاکرات کے باوجود قانون توڑنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے: وزیر ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیرِ برائے داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ سے مذاکرات اپنی جگہ لیکن اگر کوئی ملک کا قانون توڑے گا تو انھیں گرفتار کیا جائے گا۔برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جہاں تک پختونوں کی بات ہے، پختون عوام حکومت کے ساتھ ہیں۔مذاکرات کی بات پر وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کا موقف ہے کہ اگر آپ کسی چیز کا حل چاہتے ہیں تو میز پر بیٹھ کر بات کریں۔ جنگ یا لڑائی سے کوئی چیز حل نہیں ہوتی۔پاکستانی پختونوں کی بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ جہاں تک بات ہے پختونوں کی۔ تو ہماری جماعت کی دو تہائی اکثریت ہے۔ عمران خان پختونوں اور قبائلی علاقوں میں اپنے ضلع میانوالی سے زیادہ مشہور ہیں۔ جو انھوں نے سابق قبائلی علاقوں کے انضمام اور پختونوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے بارے میں کیا ہے وہ کسی اور سیاسی رہنما نے نہیں کیا۔ تو پھررہنما کون ہوا پشتین یا عمران خان؟لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ اب تک پی ٹی ایم پرامن طریقے سے ملک بھر میں احتجاج کرتی آئی ہے۔ تو جب ان سے مذاکرات کی باتیں ہو ہی رہی ہیں تو ان سے ٹیبل پر بات کیوں نہیں کی جاتی؟ اس پر اعجاز شاہ نے کہا ٹیبل پر بھی بات ہو رہی ہے۔ اب میں آپ سے ٹیبل پر بات کررہا ہوں، آپ جا کر ایک آدمی کا قتل کر آئیں یا کوئی جرم کرلیں۔ تو اس کا کیا مطلب ہوا کہ آپ مجھ سے بات کر رہے ہیں، تو میں آپ کو پکڑوں ہی نہیں؟ قانون ساز اداروں کو اپنا کام کرنا ہوتا ہے۔ جو بات کرنے والے ہیں وہ کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ منظور پشتین کے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان میں مقدمہ درج ہوا ہے جس کے بعد ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ بہت اچھے انسان ہیں لیکن انہیں ملک اور اداروں کے خلاف غلط الفاظ استعمال کرنے پرپکڑ لیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالتیں آزاد ہیں،جو مقدمے کا فیصلہ کریں گی۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ سے برٹش ائیرویز کے چار رکنی وفد نے ملاقات کی جس میں برٹش ہائی کمشنر بھی موجود تھے۔ برٹش وفد نے بتایا کہ ہمارے تمام فلائنگ آپریشنز درست طریقے سے چل رہے ہیں اور سکیورٹی کے تمام اقدامات تسلی بخش ہیں اور ہم وزیرداخلہ کے اس حوالے سے تعاون کے شکر گزار ہیں۔ اس موقع پر وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ ہماری کوششیں رنگ لائی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگرہو۔ انہوں نے کہا کہ ویزہ سہولیات سے لے کر امیگریشن تک ہم نے تمام سہولیات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے اور امید ہے کہ ہفتے میں تین فلائٹس چلیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان پروازوں کو ملک کے تمام شہروں تک رسائی ممکن بنا سکیں۔ وفد نے وزیرداخلہ کو بریفنگ دی کہ گزشتہ سال ہمیں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں ہوا اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تعاون مزید بڑھے گا۔

وزیر داخلہ

مزید : صفحہ اول