ٹیکسوں کا بڑھتا بوجھ کاروباری افراد کیلئے خطرناک‘ میاں زاہد حسین

ٹیکسوں کا بڑھتا بوجھ کاروباری افراد کیلئے خطرناک‘ میاں زاہد حسین

  



ملتان(نیوز رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م کے صدر اوربزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ مرکزی بینک نے شرح سود میں کمی نہ کر کے(بقیہ نمبر41صفحہ12پر)

کاروباری برادری کو مایوس کیا ہے۔ سیاسی عدم استحکام، ڈبل ڈیجٹ شرح سود،ڈبل ڈیجٹ مہنگائی، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ٹیکسوں کا بڑھتا ہوا بوجھ کاروباری برادری کے اعتماد کی بحالی میں رکاوٹ ہے۔میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ شرح سود نے کاروبار کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔بلند شرح سود سے صرف بینکوں کو فائدہ ہو رہا ہے اور انکا منافع مسلسل بڑھ رہا ہے جبکہ پیداواری اور برآمدی شعبہ کے لیے یہ جان لیوا ہے۔اقتصادی سست روی کے باوجود بینکوں کا ضرورت سے زیادہ منافع معیشت کے لیے اچھا نہیں بلکہ بری خبر ہے۔انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد معاشی صورتحال میں وہ بہتری نہیں ا?ئی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔حکومت ٹیکس سمیت متعدد اہداف سے میلوں پیچھے رہ گئی ہے ملک کا انتظامی و اقتصادی ڈھانچہ لڑکھڑا رہا ہے جبکہ فی کس آمدنی میں زبردست کمی آئی ہے۔ جاری حسابات کے خسارے میں کمی کے علاوہ کسی شعبہ سے کوئی اچھی خبر نہیں آ رہی ہے۔جاری حسابات کے خسارے میں کمی کے لئے برآمدات بڑھانے کے بجائے درآمدات گھٹانے کا فارمولا اپنایا گیا جس سے خسارے میں چار ارب ڈالر کی کمی ہوئی تاہم سینکڑوں کاروبار بند اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو گئے اور معیشت کے حجم میں چالیس ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی ا?ئی۔انھوں نے کہا کہ تاجروں اور صنعتکاروں کی بھاری اکثریت کا خیال ہے کہ معیشت میں بہتری کی گنجائش موجود ہے،اگر حکومت تعاون کرے تو سال رواں گزشتہ سال سے بہتر ہو سکتا ہے تاہم اگر انکے تحفظات نظر انداز کیے جاتے رہے تو ملک کی اقتصادی صورتحال بہتر نہیں ہو سکے گی۔ شرح سود افراط زر کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے زیادہ رکھا گیا ہے مگر اسکے باوجود مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ سیاستدانوں میں بھی بھاری مقدار میں فنڈ جاری کرنے سے افراط زر مزیدبڑھ جائے گا۔سیاستدانوں کے بجائے اگر کاروباری شعبہ کی فنڈنگ کی جائے تو ملکی ترقی کی رفتار بڑھائی جا سکتی ہے۔

زاہد حسین

مزید : ملتان صفحہ آخر