تخت بھائی‘ پیرسدو سے ملنے والی گمشدہ طالب علم کی مسخ شدہ لاش کا ڈراپ سین

  تخت بھائی‘ پیرسدو سے ملنے والی گمشدہ طالب علم کی مسخ شدہ لاش کا ڈراپ سین

  



تخت بھائی (نما ئندہ پاکستان) تخت بھائی کے علاقے پیرسدو سے ملنے والی گمشدہ طالب علم کی مسخ شدہ لاش کا ڈراپ سین۔گم شدہ طالب علم کو اپنے جگری دوست 13 سالہ کم عمر نوجوان نے قتل کیا تھا۔ مقتول ملزم سے بار بار ناجائز تعلقات استوار کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ملزم نے تنگ آکر مقتول کا کام تمام کردیا۔گرفتار ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔آلہ قتل بھی برآمد۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مردان سجادخان نے اے ایس پی تخت بھائی سرکل وقار عظیم کھرل، ایس ایچ او تھانہ شیرگڑھ داؤد خان اور تفتیشی انچارج اقبال زمان کے ہمراہ تحصیل کمپلیکس تخت بھائی میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں میڈیا کو تفصیلا ت بتاتے ہو ئے کہا کہ پولیس تھانہ شیر گڑھ کی حدود پیرسدو شاد خان بانڈہ کے رہائشی بہادرخان ولد شادخان نے 10 جنوری کو تھانہ شیر گڑھ میں اپنے بیٹے گورنمنٹ ہائی سکول پیر سدو کے جماعت نہم کے طالب علم سلمان کی پر اسرار گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی جس پر پولیس نے فوری کارروائی شروع کرکے تلاش شروع کی۔25 جنوری کو پولیس کو گم شدہ طالب علم کی مسخ شدہ لاش گاؤں کے قریبی گنے کی کھیتوں سے ملی۔ لاش جنگلی جانور کی چھیر پھاڑ کی وجہ سے بری طرح مسخ ھوئی تھی۔لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال اور بعدازاں خیبر میڈیکل کالج پشاور منتقل کردیا۔میڈیکل رپورٹ کے مطابق طالب علم کی موت سر پر گولی لگنے سے واقع ہوئی ھے۔جس کی روشنی میں اے ایس پی تخت بھائی وقار عظیم کھرل کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم ایس ایچ او تھانہ شیرگڑھ داود خان اور تفتیشی افسر اقبال زمان نے سائنسی خطوط پر تفتیش کرتے ہوئے ملزم تک رسائی حا صل کی۔ 13 سالہ نوجوان ملزم سرتاج ولد ارشاد مقتول کا جگری دوست اور ہمسایہ ہے۔ اس موقع پر گرفتار ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ مقتول کے ساتھ میرے دوستانہ تعلقات تھے لیکن مقتول میرے ساتھ ناجائز تعلقات بھی استوار کرنا چاہتا تھا اور مجھ سے بد فعلی کا مطالبہ کرر ہا تھا۔ وقوعہ کے روز بھی مقتول نے مجھ سے بد فعلی کا مطالبہ کیا جس پر میں طیش میں آکر گھر سے پستول لیکر مقتول کی بتائے ہوئے گنے کی کھیت میں داخل ہوکر اس کے سر پر گولی چلائی جس سے وہ لگ کر گر پڑا اورموقع پر جان بحق ہوگیا اور میں جا ئے وقوعہ سے فرار ہوا۔ ڈی پی او مردان سجاد خان نے اس موقع پر والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی کڑی نگرانی کریں۔ اور ایسے واقعات کی بروقت روک تھام کیلئے فوری طور پر متعلقہ تھانے سے رجوع کریں۔ کیونکہ جدید قانون سازی کی وجہ سے کوئی مجرم سزاء سے نہیں بچ سکتا اور قانون کے لمبے ہاتھ مجرم کے گریبان میں ہوگی۔ انہوں نے بتا یا کہ مقتول کی عمر 15 سال اور ملزم کی عمر 13 سال کے قریب ہے۔ بعد ازاں ملزم کو سول جج جوڈیشنل مجسٹریٹ تخت بھائی ھارون خان کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ شیرگڑھ پولیس نے عدا لت سے اسکاایک روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر