بغیر مشاورت کے کئے گئے ترامیم کو مسترد کرتے ہیں‘ ڈسٹرکٹ بار بنوں

    بغیر مشاورت کے کئے گئے ترامیم کو مسترد کرتے ہیں‘ ڈسٹرکٹ بار بنوں

  



بنوں (بیورروپورٹ) ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن بنوں اور تاجر تنظیموں نے صوبائی حکومت کی طرف سے بغیر مشاورت کے کئے گئے ترامیم کو مسترد کر دیا اور ان کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا عندیہ دے دیا صدر بار وسیم خان ایڈوکیٹ، جنرل سیکرٹری عمران خان سورانی ایڈوکیٹ، افتخار درانی ایڈوکیٹ، عالمگیر وزیر ایڈوکیٹ، زاہد الحق ایدوکیٹ، فخرالدین ایڈوکیٹ پیر انعام اللہ شاہ ایڈوکیٹ، مطیع اللہ جان ایڈوکیٹ، ہارون خان ایڈوکیٹ، ملک رحمت اللہ ایڈوکیٹ،اور تاجر راہنما شاہ وزیر خان نے مشاورتی احتجاجی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون صرف صوبہ خیبر پختونخو امیں منظور کیا گیا ہے جس کو ہم کسی صورت بھی ماننے کے لئے تیا ر نہیں ان ترامیم کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہوگا اور دشمن دار لوگوں کے لئے یہ ترامیم سیکورٹی رسک ہیں اور ان ترامیم سے عدلیہ کے ایک بڑے چینل کو بائی پاس کیا گیا ہے جو حیرانی کی بات ہے ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی مشاورتی اجلاس جس میں تاجر تنظیموں اور میڈیا نے بھی شرکت کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے صوبائی حکومت نے کسی سے مشاورت کئے بغیر قوانین میں جو ترمیمات کئے ہیں وہ کسی صورت بھی قابل عمل نہیں ان ترمیمات کی وجہ سے عوام کو نا قابل یقین مشکلات اور مسائل کا سامنا ہوگا اور سیشن کورٹ کو مکمل بائی کیا گیا ہے اور ان ترمیمات سے ہائی کورٹ پر غیر ضروری بوجھ بڑھے گا جس پر پہلے سے بوجھ ہے انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے دھوکہ دیا انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اس قانون کو اسمبلی میں ترمیم کے لئے پیش کیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا انہوں نے اعلان کیا کہ ہماری ہڑتال بدستور جاری رہے گا اور اس کو مزید وسعت دینے اور عوامی شعور بیدار کرنے کے لئے منتخب نمائندوں ائمہ مساجد اور تاجر تنظیموں سے رابطہ کا فیصلہ کیا گیا

مزید : پشاورصفحہ آخر