اکادمی ادبیات کا،’نظریہ اظہار یت“ مذاکرہ و مشاعرہ“کا انعقاد

اکادمی ادبیات کا،’نظریہ اظہار یت“ مذاکرہ و مشاعرہ“کا انعقاد

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام ’نظریہ اظہار یت“ مذاکرہ و مشاعرہ“کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت معروف صحافی شاعر راشد نور نے کی۔ مہمانانِ خاص ڈنمارک سے آئے ہوئے محمد یامین عراقی، عبدالمجید محور، حنیف عابدی، وحید محسن تھے۔ اس موقع پر راشد نور نے اپنی صدارتی خطاب میں کہا کہ کولنگ ووڈ نے ان سوالات کے پیش نظر نفسی حرکیت کا نظریہ پیش کیا ہے۔ یہ نظریہ واضح کرتا ہے کہ آرٹ کے کام میں اظہاریت کا عمل دخل کس طرح ظہور میں آتا ہے۔ نفسی حرکیت کا نظریہ اس ذہنی تفاعل کو محور بناتا ہے جو جذبات کی سطح پر آرٹسٹ کے داخلی منظر نامے پر نفسیاتی کیفیت کی صورت میں متحرک ہوتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ ہر وقوفی کیفیت کے اندر ایک جذباتی دباؤ حسیات سے جڑا ہوا ہوتا ہے، اس لیے تعقل سے محروم ہوتاہے۔ کولنگ ووڈ کے نزدیک محسوسات اورجذبہ باہم مل کر احساس کی تشکیل کرتے ہیں۔ جذبات کا دباؤ کسی استثنا کے بغیر جسمانی رد عمل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ مثلاً جب غیر شعوری طورپر ہاتھ پتتے ہوئے چولہے کو لگ جائے تو جلن اور مزاحمت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔، درد محسوس ہوتا ہے۔ ہم فوری طور پر ہاتھ پیچھے کھینچ لیتے ہیں۔ تمام محسوسات سے لیس مخلوقات اپنے ماحول میں اسی رد عمل کا مظاہر ہ کرتے ہیں۔ بہرحال اس فوری اور غیر تعقلاتی شعور کی سطح سے آگے کولنگ ووڈ کے مطابق شعورکی مزید دوسطحیں ہیں۔ایک تعقلاتی وقوف کی سطح ہے اور دوسری تفکرکی سطح۔ تعقلاتی وقوف کا تعلق چیزوں میں فرق و امتیاز سے ہے جیسے ہم کتاب اور پیالے،مرد اورعورت میں فرق کرتے ہیں۔ محمد یامین عراقی نے کہا کہاگر چہ ورڈز ورتھ، ٹالسٹائی اور کروچے اظہار یت کے اہم بنیاد گزاروں میں سے ہیں لیکن دور جدید میں اظہاریت کو ایک منظم نظریے کی صورت آکسفورڈ کے فلسفی آرجی کو لنگ وود نے دی۔ فلسفہء فن پر اس کی فکر انگیز کتاب”آرٹ کے اصول“ پچھلی صدی کے وسط میں منظر عام پر آئی۔ اس کتاب کی تھیوری پر کروچے کے نظریہء اظہاریت کے اثرات نمایاں ہیں۔ کانٹ،ہیگل، بریڈلے کے افکار بھی خاصے واضح نظر آتے ہیں۔ تاہم وہ کانٹ کے اس نظریے کو تسلیم نہیں کرتا کہ اشیا کے جمالیاتی احساس سے مراد مسرت اندوزی کی نشہ آور کیفیت ہے۔ وہ اس دعوے سے بھی اختلاف کرتا ہے کہ فلسفہء فن کا مطلب نظریہء حسن ہے۔ آرٹ کی باطنی اور ذہنی حیثیت کوواضح کرنے کے لیے اس نے سب سے پہلے آرٹ اور کرافٹ میں فرق و امتیاز کا تعین کیا۔ آرٹ اور کرافٹ کے درمیان فرق و امتیاز کی یہ بحث کولنگ ووڈ کی کتاب میں تین ابواب کو محیط ہے۔ کولنگ ووڈ نہ صرف خالص فن کا رکی ماوراے استحضار حسی انفرادیت اور آزادیء اظہار کا قائل ہے۔ بلکہ وہ ناظرین کی طرف سے آرٹ کے اظہاری دائرہ کار میں فاعلانہ شمولیت کا بھی حامی ہے۔ حنیف عابد نے کہا کہ خالص اظہار آرٹ اپنے عہد کے حقیقی مسائل کو حسی مواد کے طور پر قبول کرتا ہے۔ اس کا مقصد جعلی پن یا نقاب پوشی نہیں ہوتا۔ مستند آرٹ سچائی کی کوکھ سے جنم لیتاہے اور احساس کی سچائی کے ابلاغ میں شراکت کا طلب گا ر ہوتا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر