ڈی آئی جی سہیل سکھیرا کی واپسی،پولیس کی طاقت بڑھے گی

ڈی آئی جی سہیل سکھیرا کی واپسی،پولیس کی طاقت بڑھے گی

  



 لا ہور (تجزیہ: یونس باٹھ) پنجاب میں ڈی آئی جی سہیل سکھیرا کی واپسی سے آئی جی پولیس کی ٹیم میں جہاں ایک اچھے پولیس آفیسر کا اضافہ ہوا ہے وہاں ادارے کی طاقت بھی بڑھنے کا امکان ہے اور امید کی جارہی ہے کہ پولیس مورال میں بہتری آئے گی،یہ ان افسران میں شامل ہیں جو دبنگ،بہترین اور کامیاب کمانڈر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ذاتی چپقلش کی وجہ سے سابق آئی جی پولیس نے ان کی خدمات وفاق کو منتقل کر دی تھیں،اب محکمے کو درپیش بحران سے نمٹنے کے لیے موجودہ آئی جی شعیب دستگیر انھیں واپس لیکر آئے ہیں۔ سابق آئی جی اسلام آباد آفتاب چیمہ کے شاگردوں میں یہ شامل ہیں۔ امن و امان اور ریاست کی رٹ قائم کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں،بگڑے ہوئے امیر زادوں سمیت حالات خراب کرنیوالوں سے نمٹنا انھیں بخوبی آتا ہے اوربڑے سے بڑے ہجوم کو کنٹرول کرنے کے داؤ پیچ سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں۔ موجودہ حالات میں اگر انھیں لاہور تعینات کردیا جائے تو وہ جرائم کی شرح کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ شہر کو امن کا گہوارہ بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔حکمرانوں کی شکایات کے فوری خاتمے کے علاوہ محکمے کی عدلیہ سمیت دیگر اداروں سے ٹکراؤکو بھی خوشگوار ماحول میں تبدیل کر نا ان کی خوبیوں میں شامل ہے۔ واضح رہے ایک روز قبل پولیس آفیسر ڈی آئی جی سہیل سکھیرا کو سنٹرل پولیس آفس میں وفاق سے واپس لاکر بطور ڈی آئی جی آپریشن پنجاب تعینات کیا گیا ہے۔ تقریباً ایک سال پہلے وفاق میں جانے سے قبل بھی وہ سی پی او آفس میں ہی ایک ذمہ دار سیٹ پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ پنجاب حکومت نے جب انھیں لاہور میں بطور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن اور بابر بخت قریشی کو ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر لگانے کا فیصلہ کیا تو اس وقت کے آئی جی پولیس عارف نوازکو یہ بات ناگوار گزری اور ان کی ناراضی کے باعث انھیں وفاق بھجوادیا گیا۔سہیل سکھیرا کاشمار پاکستان پولیس سروس کے باصلاحیت اور پیشہ ورانہ امور میں مہارت کے حامل پولیس افسران میں ہونے کی وجہ سے موجودہ آئی جی پولیس شعیب دستگیر انھیں واپس لے کر آئے ہیں اور انھیں اپنی ٹیم کا حصہ بنایا ہے۔ ضلع بہاولنگر کی تحصیل ہارون آباد میں میں پیدا ہونے والے سہیل سکھیرا نے محکمہ پولیس کو بطور (اے ایس پی) جوائن کیا اوراٹھائیسویں کامن ٹریننگ پروگرام (سی ٹی پی) میں شمولیت کے علاوہ یہ اندرون اور بیرون ملک اعلیٰ افسران کی استعداد کار بڑھانے کے لئے منعقدہ کئی کورسز میں بھی شرکت کر چکے ہیں۔ پوسٹنگ ان کا کبھی بھی ایشو نہیں رہا،پوسٹنگ کے حوالے سے ہمیشہ انہیں اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ بطور اے ایس پی ریس کورس لاہورسمیت شہرکے دیگر کئی اہم سرکلوں میں کام کرنے کے علاوہ یہ ایس پی سول لائن،ایس ایس پی آپریشنز، ایس ایس پی ایڈمن سمیت سی پی او آفس میں اہم اورذمہ دار عہدوں پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں اورپولیس ملازمین کی استعداد کار بڑھانے کے لئے کئی ورکشاپس کورسز کا انعقاد بھی کرواچکے ہیں،پولیس ورکنگ میں بہتری کے لیے ہمیشہ ججز، اعلیٰ بیورو کریٹس، ڈاکٹرز، وکلاء اور دوسرے پیشہ ورانہ مہارت کے حامل شخصیات سے روابط میں رہنے کواپنی ڈیوٹی اور فرض سمجھتے ہیں، پولیس میں پائی جانیوالی خرابیوں کا خاتمہ ہمیشہ ان کی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔فورس ویلفیئر کے لیے پریس، بار بنچ اور پولیس میں رابطہ کار بڑھانے، ہم آہنگی پیدا کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں، چکنی چپڑی باتیں یا چاپلوسی ان کی عادت میں شامل ہی نہیں۔ یہ چہرہ شناس بھی ہیں اور فرض شناس بھی،ان کی انسان دوستی کے قصے زبان زد عام ہیں۔ اوپن ڈور پالیسی پر یہ ہمیشہ عمل پیرا رہے ہیں۔ امید کی جاتی ہے ان کی تعیناتی سے اس مرتبہ بھی پولیس مورال بلند ہوگا اور فورس میں محنت، لگن، دیانتداری اور دلجمعی سے کام کرنے کا جذبہ فروغ پائے گا۔

مزید : علاقائی