بھارت کا ناکام فالس فلیگ آپریشن

بھارت کا ناکام فالس فلیگ آپریشن
 بھارت کا ناکام فالس فلیگ آپریشن

  



بھارت پلوامہ کی طرح ایسی شرارتیں کرتا رہتا ہے جس میں پاکستان پر الزام تراشی کرنا آسان ہو۔ بھارت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے ایسے ڈرامے کرتا رہتا ہے۔ کبھی سرجیکل سٹرائیک، کبھی آزاد کشمیر پر حملہ تو کبھی مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی مدد کرنے کا الزام۔ مگر اس کے ڈراموں میں کوئی نہ کوئی ایسا واضح نقص ہوتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی اس کی بات پر دھیان نہیں دیتا۔ حقیقت میں بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کا سرپرست ہے۔

بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بھارت اپنے اداروں سے دہشتگردی کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔مسلمانوں کو شامل کرکے حقیقت کا رنگ دیتا ہے۔ حال ہی میں بھارت کی ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی چال بری طرح ناکام ہو گئی۔ فالس فلیگ آپریشن کی ناکامی پر پولیس آفیسر کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا۔ یونیفارم آفیسر کی دہشت گردوں کے ہمراہ گرفتاری ناکام فالس فلیگ منصوبہ بندی کی آئینہ دار بھارتی انٹیلی جینس کی فالس فلیگ آپریشن کی منصوبہ بندی سے مقامی ادارے لاعلم رہے۔ بھارتی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی پولیس نے ڈی ایس پی دویندر سنگھ کو دہشت گردوں کو کمک فراہم کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔ دویندر سنگھ حزب المجاہدین کے دو مبینہ دہشتگردوں کیساتھ پایا گیا تھا۔ اسی ڈی ایس پی کو بہادری پر 15 اگست 2019ء کو صدارتی طلائی تمغہ دیا گیا۔

ڈی ایس پی رویندر سنگھ سری نگر ایئرپورٹ پر تعینات تھا۔ دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ سامنے آنے پر مقبوضہ کشمیر میں چھاپے مارے گئے اور رویندر سنگھ کے گھر سے اے کے 47، 3 پستول برآمد کرلی گئی۔ بھارتی پولیس رویندر سنگھ اور دہشت گردوں کے گٹھ جوڑ کی تحقیقات کررہی ہے۔ بھارتی میڈیا ایک دور کی کوڑی بھی لایا کہ افضل گرو نے بھی 2013ء میں خط میں رویندر سنگھ کا ذکر کیا تھا۔ افضل گروہ نے لکھا تھا رویندر سنگھ نے دہلی میں رہائش دی، مل کر پارلیمنٹ پر حملے کا کہا ہے۔

ڈی ایس پی رویندر سنگھ کا مبینہ دہشت گردوں کے ساتھ تعلق ثابت ہونا مودی سرکار کی عوام دشمن پالیسیوں اور بھارتی حکومت کے متنازعہ شہریت قانون کیخلاف عدم اعتماد ہے۔ متنازعہ شہریت بل سے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ بھارت کی دوسری اقلیتیں بھی متاثر ہوں گی۔ بھارتی سکھ، عیسائی، پارسی اور دلت بھی اس قانون کے مخالف ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بھارت میں صرف اعلیٰ ذات کے ہندو ؤں کو رہنے کا حق ہے۔ باقی اقوام اور ذاتیں تو صرف ان کی خدمت اور ان کے پاؤں چھونے کیلئے رکھی جائیں گی۔ بھارت میں مسلم مخالف متنازعہ قانون کی منظوری کے بعد مختلف ریاستوں خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں میں اس قانون کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری ہے جس میں اب تک متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں اور سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے جب کہ مغربی بنگال میں حکومتی سطح پر وزیراعلیٰ ممتا بینرجی کی جانب سے وفاق کیخلاف احتجاج کیا گیا ہے۔ اس بل کی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند ہندو جماعت شیوسینا نے بھی مخالفت کی اور کہا کہ مرکز اس بل کے ذریعے ملک میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بھارتی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ مذہب ہماری زندگی کا حصہ تھا لیکن آج تک مسلمان کی شناخت والے تعارف سے ہمیں اس قدر احساس نہیں دلایا گیا۔ کچھ قوتیں ہمیں تقسیم کرنے کے درپے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں ہے کہ ہم آئندہ اس طرح کے تجربات سے گزر یں گے۔ہمیں گوشت خور، معاشرے کو خراب کرنے والے زانی، پاکستان کی حمایت کرنے والے دہشت گرد، ہندووں کو مسلمان کرنے اور ایک ایسی اقلیت جو ملک پر قبضہ کر لے گی کے روپ میں دیکھنے کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے۔ حقیقت میں ہم ایک دوسرے درجے کے ایسے شہری بننے جا رہے ہیں کہ جنھیں ہر حال میں خوف میں رہ کر زندگی بسر کرنی ہو گی۔ ہم ایک خطرناک نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں جہاں مذہب اور قومیت کو آپس میں جوڑا جاتا ہے۔ یہ ایک غیر منطقی ڈر ہو سکتا ہے لیکن اسلام فوبیا کا ماحول بڑھتا جا رہا ہے۔ ہم اس کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ میڈیا اور حکومت کی منشا سے ایسا کیا جا رہا ہے۔ موجودہ حکومت ڈھٹائی سے ہندو قوم پرستی کے نظریے کو فروغ دے رہی ہے اور اب کچھ قوانین بھی مذہبی تعصب کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں۔ متنازعہ شہریت بل کیخلاف گوگل، فیس بک، اوبر اور ایمازون میں کام کرنے والے بھارتیوں نے متنازعہ بل کیخلاف خط تحریر کیا ہے جس میں بھارتی شہریوں نے متنازعہ شہریت قانون کو فاشسٹ قراردیدیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سندر پیچائی، مکیش مبانی اور ستیاناڈیلا بھارتی حکومت کے فاشسٹ اقدامات کی مذمت کریں۔خط میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے ایما پر انٹرنیٹ سروس بند کرنے سے انکار کردیا جائے۔

پاکستان نے بھارتی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر ہر قسم کے امتیازی سلوک یونیورسل ڈکلیئریشن آف ہیومن رائٹس اور دیگر عالمی تنظیموں کے ضابطہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ لوک سبھا کی قانون سازی بھی پاکستان اور بھارت کے مابین دو طرفہ معاہدوں خاص طور پر اقلیتوں کے تحفظ اور حقوق سے متعلق معاہدے کی خلاف وزری ہے۔ تازہ ترین قانون سازی 'ہندو راشٹرا' کی طرف ایک اور اہم قدم ہے جس کے لیے انتہا پسند ہندو رہنما کئی دہائیوں سے جدوجہد کر رہے تھے۔ متنازعہ بل کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم لوک سبھا میں متنازع شہریت سے متعلق قانون سازی کی شدید مذمت کرتے ہیں، جس میں انسانی حقوق کے تمام قوانین اور پاکستان کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ یہ توسیع پسندی دراصل آر ایس ایس کے ہندو راشٹرا' ڈیزائن کا ایک حصہ ہے جس کو فاشسٹ مودی سرکار نے پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا۔

مزید : رائے /کالم