موجودہ آئی جی پولیس کلیم امام سیاسی ہوگئے ہیں،بیرسٹر مرتضیٰ وہاب

موجودہ آئی جی پولیس کلیم امام سیاسی ہوگئے ہیں،بیرسٹر مرتضیٰ وہاب

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ موجودہ آئی جی پولیس کلیم امام سیاسی ہوگئے ہیں پی ٹی آئی اور جی ڈی اے انکے لئے سیاست کررہی ہیں وہ اپنے فرائض انجام دینے کے بجائے بیان بازی میں مصروف ہیں، نئے آئی جی کی تقرری کے لئے گورنر سندھ سے کوئی مشاورت کرینگے اور نہ ہی اسکے پابند ہیں سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم اور وزیراعلی سندھ کے درمیان ملاقات میں نئے آئی جی کے نام پر اتفاق ہوگیا تھا اسی کے مطابق فیصلہ کیا جائیگا وہ بدھ کے روز سندھ اسمبلی کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کررہے تھے بیرسٹر مرتضی وہاب نے مزید کہا کہ صوبے میں جرائم ہوتے ہیں تو مورد الزام صوبائی حکومت کو ٹھہرایا جاتا ہے وزیراعلی کے وزیراعظم سے ملاقات اور اعتماد میں لینے کے بعد آئی جی پولیس کو ہٹانے کا معاملہ صوبائی کابینہ میں لائے بیرسٹر مرتضی وہاب نے آئی جی پولیس کی تبدیلی کے حوالے سے وزیراعلی اور وزیراعظم کے درمیان ملاقاتوں اور ٹیلی فونک رابطوں سے متعلق میڈیا کو بریف کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ نے تین نام آئی جی کے عہدے کے لئے ارسال کئے بعدازاں پانچ نام مانگے گئے جس کے بعد پانچ نام بھیج دئیے گئے لئکن اس پر بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، کہا گیا کہ وزیراعظم ڈیوس گئے ہوئے ہیں واپسی پر فیصلہ کرلیا جائیگا، انہوں نے گورنر ہاو س میں وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی مراد علی شاہ کی ملاقات میں بھی پانچ میں سے ایک نام پر اتفاق ہوگیا تھا اسکے دوسرے روز نوٹیفیکشن کے اجراء کا بتایا گیا لیکن میڈیا سے معلوم ہوا کہ پی ٹی آئی کے اتحادیوں نے سندھ حکومت کے ناموں پر اعتراض کردیا ہے، حیرت انگیز طور پر آئی جی پولیس کی جانب سے بیان آیا کہ وہ کہیں نہیں جارہے ہاتھی مرا ہوا بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے اور بعض سازشوں کا بھی زکر کیا گیا اور انکے بیان کے بعد وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ان سے متعلق فیصلہ بھی کرلیا گیا، اس پر ہمیں حیرت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں اور پرامید ہیں کہ وزیراعظم اور وزیراعلی کے درمیان ہونے والی گفتگو کے مطابق ہی فیصلہ ہوگا بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ پولیس ایکٹ کے مطابق آئی جی پولیس سے متعلق مشاورت وفاق اور صوبے کے درمیان ہونی ہے نہ کہ گورنر سندھ سے، وفاقی کابینہ ایک آئینی فورم ہے وہ کیسے ایسا فیصلہ کرسکتی ہیں۔ نئے آئی جی کی تعیناتی آئین و قانون کے مطابق ہونی چائیے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی طور پر اپنا حق نہیں مانگ رہی، پنجاب اور خیبر پختون خوا میں کتنے آئی جی تبدیل ہوگئے کبھی کسی نے بات نہیں کی۔ پنجاب حکومت نے چھبیس نومبر کو وفاق کو آئی جی پولیس کے لئے تین نام ارسال کئے اور وفاق نے اسی روز انکے تین ناموں میں سے شعیب دستگیر کا نوٹیفیکشن جاری کردیا۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک صوبے میں چند گھنٹوں میں مشاورت ہوجاتی ہے جبکہ دوسرے صوبے (سندھ) میں اسی کام کے کئے کئی روز لگا دئیے گئے ہم وزیراعظم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انکا بیان ریکارڈ پر ہے کہ دو نہیں ایک پاکستان تو خدارا ہمیں بھی پنجاب اور خیبر پختون خوا کی طرح برتاو کیا جائے، عوام کے حق کو نہ چھینا جائے۔

مزید : صفحہ اول