لوگ اُس ماضی سے ڈرتے ہیں جو ابھی آنے والا ہے!

لوگ اُس ماضی سے ڈرتے ہیں جو ابھی آنے والا ہے!

  



س: قارئین ِ ”پاکستان“ کو اپنی زندگی کے سفر کی بابت کچھ بتایئے!

ج: میری تاریخ پیدائش:۱۲/فروری ۱۹۶۴ء ہے اور جنم بھوم ساہیوال؛ لیکن ہم لوگ ساٹھ کی دہائی کے آخر میں بُورے والا شفٹ ہو گئے تھے؛ اس لیے انٹرمیڈیٹ تک اسی قصبے کے اسکول/کالج میں تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں گورنمنٹ ایف سی کالج لاہور سے گریجوایشن، اورئینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے اور کافی طویل وقفے سے لاہور لیڈز یونیورسٹی سے ایم فل کیا___۱۹۸۹ء میں بطور لیکچرر گورنمنٹ کالج وہاڑی سے سرکاری ملازمت کا آغاز کیا، بُورے والا اور ساہیوال کے کالج میں بھی تعینات رہا۔ ڈسٹرکٹ ساہیوال میں چند برس ڈی ای او کالجز کی حیثیت سے انتظامی فرائض ادا کیے۔ جنوری ۲۰۱۳ء سے اگست ۲۰۱۶ء تک میری پوسٹنگ گورنمنٹ کالج راوی روڈ لاہور میں رہی۔ اگست ۲۰۱۶ء سے تاحال اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور میں کام کر رہا ہوں۔

س: اس وقت آپ کا عہدہ کیا ہے؟ کیا کوئی انتظامی ذمہ داری بھی آپ کے سپرد ہے؟

ج: گذشتہ سات برس سے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہوں۔ موجودہ کالج میں صدر شعبہ اردو کے طور پر ڈیوٹی کر رہا ہوں۔

س: ادبی مسافتوں کے احوال سے بھی آگاہ کیجیے، ترجیحاً کیا لکھتے ہیں؟ کتنی کتابیں اشاعت کے مراحل طے کر چکی ہیں؟

ج: میری Domain صرف نثر تک محدود ہے،البتہ نثر کی کسی ایک صنف میں اسیر ہو کر نہیں رہ سکا؛ افسانہ، تنقید، تحقیق، انشائیہ، سفرنامہ، کالم، خاکہ۔۔۔ ان سب سے تھوڑی یا زیادہ دلچسپی چل رہی ہے__مختلف علمی ادبی موضوعات پر میری اب تک:چھبیس(۲۶) کتب شایع ہو چکی ہیں۔ ادبی رسائل و جرائد میں بھی لکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔

س:ایک چینی کہاوت ہے: ہر قابل شخص کے پیچھے بہت سے قابل لوگ ہوتے ہیں ___ آپ اپنی شخصیت کی تعمیر میں اساتذہ کے کردار کو کیسے دیکھتے ہیں؟

ج:پہلی بات تو یہ ہے کہ خود کو، کسی طرح ’قابل اشخاص‘ کے زمرے میں شامل نہیں سمجھتا اور یہ انکسار کا اظہار نہیں؛ متعین معروضی رائے ہے؛ کہ واقعتا پیہم مطالعے کا خوگرفرد طالب علمی کے محاصرے کو توڑ ہی نہیں سکتا! ایک نئی کتاب کی خواندگی جہاں پڑھنے والے کے علم میں اضافے کا سبب بنتی ہے وہاں اسے یہ احساس بھی دلاتی ہے کہ اس سے قبل اس کی آگہی کس قدر کم تھی!! اور علم و معلومات کا معاملہEndless ہے لہاذا کبھی یوں لگتا ہے کہ مجھے استسقا کا عارضہ لاحق ہے؛ پیاس بجھتی ہی نہیں اور اس کے ساتھ ہی یہ درک بھی بے قرار کرتا ہے کہ علوم و فنون کے مواج سمندر اردگرد موجود ہیں؛ ایک آدمی اپنی مختصر سی زندگی میں کہاں تک وصول کر سکتا ہے!؟! خیر! یہاں مجھے سچے دل سے اعتراف کرنا ہے اپنے مکرم اساتذہ کا؛ عام طور پر ان کا، جن سے کچھ بھی پڑھنے/سیکھنے کی صورت بنی؛ خاص طور پر ان کا، جنھوں نے مجھے ادب کے جادے پر گامزن رہنے کا عزم بخشا!!

س:اس سلسلہ میں زیادہ اہم نام؟

ج:پہلا نام تو گھر سے ہی میسر ہے؛ میرے دادا جان (مرحوم) حکیم غلام محی الدینؒ؛ جنھیں میں اپنا باقاعدہ اتالیق یقین کرتا ہوں؛ صاحبِ علم و حکم تھے، لفظ و حرف سے ابتدائی ناتا انھی کے توسط سے قائم ہوا؛ ان کے بعد پروفیسر عبدالرحیم بھٹہ نے میری اس طرح رہنمائی کی کہ گویا طے ہو گیا ادب ہی نے آگے چل کر میری زیست کے لیے مرکزی شاہراہ قرار پانا ہے___ایف سی کالج میں (مرحوم)ڈاکٹر آغا سہیل، اورئینٹل کالج میں ڈاکٹر تحسین فراقی میرے لیے ادب کے خضر ٹھہرے___سو، آج جس وابستگی کو ثمرِ حیات سمجھتاہوں وہ انھی رہبروں کی عطا ہے!!

س:ایک ادیب کے لیے تجربے، مشاہدے، مطالعے میں سے کیا زیادہ اہم ہے؟

ج:بلاشبہ یہ ایک مشکل سوال ہے!! شاید اس ضمن میں اصل پہلوReceptivity کی استعداد سے جڑا ہوا ہے اور یہ صلاحیت مختلف افراد کی طرح ادبا و شعرا میں بھی کم یا زیادہ ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے کہ ’فرق‘ ہی بنیادی جوہر ہے جو انفراد کو شناخت آشنا کرتا ہے، چناں چہ ایک درجے میں تجربہ، مشاہدہ، مطالعہ۔۔۔ یہ سب معروض میں واقع ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ رائیٹر کی طبع کس قدر دراک ہے جس نے ان مصادر سے طرفۃ العین میں کچھ اخذ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اگر ذرا تعمق کی نظر سے دیکھا جائے تو اسی عنصر کو ’تخلیقیت‘ سے معنون کیا جائے گا۔ واقعات، سانحات، حادثات نہ تھمنے والی بارشیں ہیں جو سب کے لیے یکساں برس رہی ہیں لیکن انھیں: شعر، افسانے، ناول میں منقلب کرنا ایساPhenomenon ہے جس کا تخلیقی رسائی سے بے حد گہرا تعلق ہے۔ اوسط سطح کا لکھنے والا بھی Processing سے جدا نہیں ہو سکتا لیکن وہ اوسط سطح کی تخلیق ہی وجود پذیر کر پا تا ہے۔

س:اس سے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ سب کچھ ’وہب‘ ہے، ’اکتساب‘ کہیں حصہ دار نہیں بنتا!؟!

ج:اکتساب کی معنویت سے انکار نہیں لیکن میری رائے میں اکتساب وہب کے تابع ہے۔ غالب نے اسی لیے صریرِ خامہ کو نوائے سروش سے تعبیر کیا ہے۔ گویا نزولی سطح کو کسی صعودی سطح سے منسلک کیا ہے۔ اب یہ عمودی رشتہ Pure Mystery ہے، اسے Unfold کیسے کیا جائے کہ گبرئیل گارسیا مارکیز اور ارون دھتی رائے میں قدرت کی جانب سے ودیعت کردہ تخلیقی توانائی کی مقدار کتنی ہے اور انھوں نے کدوکاوش کے ساتھ کتنی مہارت (Skill) حاصل کی؟___؟ کبھی کبھی یہ احساس میرے اندر شدت پکڑ لیا ہے کہ تخلیق ایسا نغمہ ہے جو ہر ساز پہ نہیں گایا جا سکتا!! عرفی کا شعر یاد آ رہا ہے:

زنقصِ تشنہ لبی دان، بعقل خویش مناز

دِلت فریب گر از جلوہ سراب نخورد

یعنی:’اگر تیرے دل نے جلوہئ سراب سے دھوکا نہیں کھایا تو اسے اپنی عقل کی کرشمہ سازی مت سمجھ بلکہ اپنی تشنہ لبی کا نقص سمجھ___اگر تو حقیقتاً پیاسا ہوتا تو تیرا ذہن ریت کو تیرے سامنے پانی بنا کر پیش کرتا!!‘

تو، تخلیق کار ’حقیقتاً پیاسا‘ ہوتا ہے، خلقی سطح پر محزون/ مضروب روح لے کر دنیا میں آتا ہے:

ظہیرؔ اک رشتہئ وحشت لیے پھرتا ہے مجنوں کو

وگرنہ کوئی اپنے آپ صحرا میں نہیں رہتا

باقی یہ حد فاصل اپنی جگہ موثر رہے گی کہ تخلیقی اصناف اور غیر تخلیقی اصناف کے مابین تفاوت بہرصورت موجود ہے۔

س:اس جہت کی کچھ وضاحت کر دیجیے!ج:یہ سامنے کی بات ہے کہ صحافتی ضرورت کے تحت فیچر کی تیاری اور چیز ہے، افسانہ لکھنا اور طرح کی واردات ہے؛ تحقیقی مقالہ قلمبند کرنا علاحدہ نوعیت کی ریاضت ہے، نظم کی صورت گری جداExperience ہے___یہیں رک کر ایک توضیح ناگزیر ہے: ’تخلیق‘ کی یہ پہچان نہیں کہ جو ’تخلیق‘ کے عنوان/ٹائٹل سے پیش کر دیا جائے وہ ’تخلیق‘ ہے___ایسا ہرگز نہیں، یہاں مواد اور اسلوب فیصلہ کن ثابت ہوں گے یعنی کہی گئی بات سے ندرت شعاع کی مانند پھوٹ رہی ہے یا نہیں؟ نیز کیا وہ طرز اپنی تازہ کاری پر آپ برہان ناطق بنی ہے یا نہیں؟

س:اگر اس بیانیے کو ایک طالب علم مثال کے ذریعے سمجھنا چاہے تو؟

ج:یوں تو اس موضوع پر تفصیل سے بات ہو سکتی ہے لیکن میں سٹانسلاویرسی ٹیز کا ایک عجیب جملہ سنا کر آگے بڑھتا ہوں:

”وقتوں کی ترتیب محض دھوکا ہے۔ لوگ اس ماضی سے ڈرتے ہیں جو ابھی آنے والا ہے!!“

س:ویسے تجربہ، مشاہدہ، مطالعہ۔۔۔ والا سوال تشنہ ہی رہ گیا!!

ج:جناب! یہ تینوں اکائیاں اپنی تفرید پر بجا مصر ہیں؛ ہر ایک کی اپنی اہمیت ہے لیکن میں ذاتی طور پر ’مطالعے‘ کی فوقیت کا قائل ہوں کیونکہ تجربہ ہو یا مشاہدہ ایک شخص پر بیت جانے کے اعتبار سے اپنا مدار تیزی سے مکمل کر لے گا جب کہ مطالعے کے ساتھ بے شمار اشخاص کے تجربات و مشاہدات آپ کے شعور میں شامل ہو جائیں گے بلکہ ہوتے رہیں گے۔

س:ایک موقف یہ ہے کہ ادبی حلقوں میں شرکت، ادبی تنظیموں میں شمولیت کے بغیر کسی ادیب/شاعر کی شخصیت سازی کا عمل ادھورا رہ جاتا ہے۔ کیا آپ اس نقطہ نظر سے متفق ہیں؟

ج:ممکن ہے اکثریت کو میری رائے ناگوار محسوس ہو لیکن میری نگاہ میں ’ادبی سرگرمیوں‘ کا تعلق سماجی روابط سے زیادہ ہے، تخلیقی سطح پر ادیب کی شخصیت سازی کے ساتھ کافی کم ہے۔ ہاں! کچھ سیکھنے کے ارادے سے اس ماحول سے مربوط ہونا کافی مختلف معاملہ ہے لیکن کسی تنظیم کا ٹھپا لگ جانے سے کوئی شاعر/ادیب نہیں بن سکتا___ البتہ اس آمدورفت سے یہ ضرور ہے کہ معاصر لکھنے والوں سے آپ کی شناسائی فروغ پا جاتی ہے وگرنہ مقصد محض کسی بھی تحریر تک Access ہے تو آج کے ذرایع ابلاغ چشم زدن میں یہ مسئلہ حل کر دیتے ہیں ___اس صورت حال کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ میل ملاپ کی شکلیں شہرت وہرت کا بندوبست تو ضرور کر سکتی ہیں لیکن کسی کو قدرآور تخلیقی شخصیت نہیں بنا سکتیں ___ابھی حال ہی میں اپنے دوست محمد عاصم بٹ کی کتاب میں جاپان سے تعلق رکھنے والے صف اول کے فکشن رائیٹر: ہارو کی موراکامی کی بابت پڑھ رہا تھا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں ادبی برادری سے میل جول سے احتراز کا رویہ رکھتے ہیں۔ ادبی تقریبات میں شاذونادر ہی شامل ہوتے ہیں بلکہ موراکامی کی اس تنہائی پسندی نے ان کی شخصیت کو پڑھنے والوں میں زیادہ سحرانگیز بنا دیا ہے۔ شارلت الشبراوی نے مصر کے نجیب محفوظ کے متعلق لکھا ہے؛وہ لیے دیے رہنے والا آدمی ہے اور عوام کے سامنے آنے سے گریز کرتا ہے، خاص طور پر اپنی نجی زندگی کی بابت سوالات سے اُسے چڑ ہے!! خود ہمارے ہاں مشفق خواجہ بھی ایک وقار اور تمکنت کے ساتھ اپنے کتب خانے میں قیام کو غیر معمولی ترجیح دیتے تھے:

شہروں ملکوں میں جو یہ میرؔ کہاتا ہے میاں

دیدنی ہے پہ بہت کم نظر آتا ہے میاں

ہاں!اس مقام پر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کیا یہ لوگ اپنی ذات سے مطمئن (Smug) تھے؟ یا کسی خاص نفسیاتی Tendency کے باعث انٹروورٹ تھے؟ یا ایک بڑا تخلیق کار طبعاً ’تنہائی پسند‘ ہوتا ہے؟ اس پس منظر میں اصولی سوال کا ابتدائی دوتہائی حصہ جواب طلب ہی رہے گا لیکن مجھے ایک دم ڈبلیو بی یٹیس کی عمیق بات یاد آ گئی ہے:

”موجودہ زمانے میں پرخلوص اور حقیقی ادیبوں کے لیے تنہائی کی زندگی بسر کرنا ناگزیر ہے!!“

اور شاید یہ تصریح بے محل نہ ہو کہ ’تنہائی‘ بھی دو طرح کی ہے: ایک وہ جسے Lonelyness کہتے ہیں ___اس میں ایذاپنہاں ہوتی/رہتی ہے، وافر بلکہ غالب مقدار میں ___دوسری قسم کی ’تنہائی‘ کے لیے Solitude کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس عزلت نشینی یا کنارا گیری میں تخلیقی لذت کا خزانہئ عامرہ مضمر ہوتا ہے اور سچی بات ہے: ایں چیزے دیگراست!! اور اسی محشرخیال کو پہچانتے ہوئے کہا گیا ہے:’ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو!‘

س:جب آپ کی نئی کتاب شایع ہوتی ہے تو کیا محسوس کرتے ہیں؟

ج:میرا گمان یہی ہے، کتاب جس دن چھپتی ہے، مصنف کے لیے مر جاتی ہے، ہاں! قاری کے لیے زندہ ہو جاتی ہے!! سو، مجھے اپنی مطبوعہ کتب میں کوئی دلکشی دکھائی نہیں دیتی؛ میرے لیے ساری کشش ان کتابوں میں ہے جنھیں ہنوز حاصل نہیں کر سکا؛ اگر وہ دسترس میں آ گئی ہیں تو ان کی قرات نہیں کر سکا___آپ جانتے ہیں جاذبیت غیرمفتوحہ خطوں میں ہی ہوتی ہے!!

س:عہدِ موجود میں اردو افسانہ کن حالوں میں ہے؟

ج:اصنافِ نثر میں جتنی زرخیزی اردو افسانے کو نصیب ہوئی ہے، کسی اور کا مقدر نہیں بنی! موضوعاتی، اسلوبیاتی، تکنیکی۔۔۔ متعدد ذائقے اس فسوں ساز نے چکھ لیے___رومانی افسانہ، حقیقت پسند افسانہ، جدید یا علامتی افسانہ۔۔۔ ہر سمے اس پر بیت گیا___اب یہ مابعد جدید عہد میں اپنے امکانات کے ساتھ جی رہا ہے___ بے شمار نئے لکھنے والوں کی کھیپ تیار ہو چکی ہے لیکن موجودہ دور میں وہی افسانہ اپنے نقش کو معتبر بنا پائے گا جو زندگی کو متداول یک رخی تعبیر سے آزاد کرکے پیش کرنے میں بامراد ٹھیرے گا____ زیست کے مرکزے میں تنوع کا طوفان مخفی ہے لیکن ’بوجوہ‘ اس کے اوپر ہم ایسے انسانوں کی طرف سے ہی مطلقیت(Absoluteness) سے موسوم نہایت ٹھوس خول چڑھا دیا گیا ہے اور اس ’وقوعے‘ میں بھی کوئی جدت کارفرما نہیں، اپنی بقا کے لیے صدیوں سے یہی طریقہ مروج رہا ہے___پھر کوئی’باغی‘ اٹھتا ہے اور فکری جدوجہد کو بروئے کار لاتے ہوئے تازہ تعبیر کو مدرکہ میں ترازو کر دیتا ہے___ لوگ باگ سخت مزاحمت کے بعد مآل کار سرنڈر کر جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہی افراد اس تعبیر کو حتمی یقین کرکے اسی کے سخت گیر پاسبان بن جاتے ہیں!! پر زندگی کا کیا جائے یہ کم بخت Static ہو نہیں سکتی، اس کی فطرت میں Dynamism کا بارود بھرا ہوا ہے۔ قوائیت کے آگے بند باندھنا ممکن ہوتا تو یہ کام کب کا انجام پا گیا ہوتا!! جب ’دمادم صدائے کن فیکون‘ اس کائنات کی تقدیر ٹھہرائی گئی ہے تو ثبات کے لیے بجز تغیر کے اور کیا استثنا تلاش کیا جائے؟ اب وہی افسانہ نیا افسانہ، حقیقت پسند افسانہ اور قاری کے قلب القلوب میں ترازو ہو جانے والا افسانہ قرار پائے گا، جو مختلف تعبیر کا ترجمان ہوگا___لیکن یہ کام آسان نہیں ہے کیونکہ رجعت کی طاقت بھی سدا منہ زور رہی ہے اور یہ خطرناک حد تک منقسم مزاج بھی واقع ہوئی ہے!!

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1