پاکستان کی معیشت کی ناکامی کا سبب ہماری درآمد اور برآمدات میں عدم توازن ہے  

  پاکستان کی معیشت کی ناکامی کا سبب ہماری درآمد اور برآمدات میں عدم توازن ہے ...

  



 ڈاکٹر علمدار حسین ملک کا شمار پاکستان کے چند ان گنے چنے معروف وٹرینرین اور ماہر لائیو سٹاک میں ہوتاہے جو لائیو سٹاک کی ترقی اور تحقیق پر بے شمار کام کر چکے ہیں۔ وہ ایسے ماہرین میں سے ہیں جو ملک کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر حکومت وٹرینری ایجوکیشن اور لائیو سٹاک کے حوالہ سے ان کی خدمات کو استعمال کرے تو یقیناً ملک کی حالت بہت بہتر ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر علمدار حسین ملک نے ابتدائی تعلیم جہلم سے حاصل کی اور ایف ایس سی کرنے کے بعد کالج آف وٹرینری سائنسز لاہور سے ڈاکٹر آف وٹرینری میڈیسن 1984ء میں کیا۔ انہوں نے اپنے ذاتی اخراجات سے رائل وٹرینری کالج لندن سے ایم ایس سی اینمل ہیلتھ میں ڈگری امتیازی حیثیت سے حاصل کی۔ ڈاکٹر علمدار حسین کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پاکستان وٹرینری میڈیکل کونسل کے پہلے سیکرٹری / رجسٹرار رہے اور پہلے رجسٹرڈ وٹرینری میڈیکل پریکٹیشنر RVM Pool کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ وہ وزارت خزانہ کی فنانشل ایڈوائزری آگنائزیشن کے فنانس ایڈوائزر بھی رہے ہیں۔ ڈاکٹر علمدار حسین نے لائیو سٹاک اور ڈیری پر تحقیقی مضامین قومی انگریزی و اردو اخبارات میں اہم لائیو سٹاک کے موضوعات پر ہیں۔ جن کو ملکی لیول پر پذیررائی ملی ہے۔ وہ لائیو سٹاک کی بیماریوں کی روک تھام، قانون سازی اور پالیسی سازی میں پاکستان میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر علمدار حسین ملک کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے وٹرینری میڈیکل کونسل میں بطور رجسٹرار / سیکرٹری وٹرینری پریکٹس کو ریگولر کرنے، پاکستان میں ڈی وی ایم کے لئے یکساں نصاب سازی، وٹرینری تعلیمی اداروں کو سہولیات کی بہتری اور معیار کو قائم رکھنے کے لئے بے شمار اصلاحی اقدامات کر کے ملک کی لائیو سٹاک اور ڈیری کو ایک اہم مقام پر لا کر کھڑا کیاہے۔ ان کا لائیو سٹاک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لانے کے لئے اہم موضوعات کے حوالہ سے انٹرویو کیا گیا جو کہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

س: جانوروں میں منہ کھر کی بیماریوں کی وجہ سے پاکستان کو کن مشکلات کا سامنا ہے اور اس سے زراعت اور ملک میں معیشت کی پسماندگی کیوں ہے؟

ج: جانوروں میں منہ کھر کی بیماریوں کی وجہ سے ہماری لائیو سٹاک کی ایکسپورٹ پر پابندی لگی ہوئی ہے جس کے سبب معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس کی ذمہ دار حکومت اور ریاستی ادارے ہیں۔ منہ کھر ویکسیئن کا پاکستان میں کوئی یونٹ نہیں ہے جبکہ بھارت نے 70ء کی دہائی، چین اور ایران نے 80ء کی دہائی میں جانوروں میں منہ کھر کی بیماری کی روک تھام کے لئے ویکسیئن پلانٹ نصب کر لئے تھے۔ پاکستان میں منہ کھر کی جانوروں میں بیماریوں کی وجہ سے سالانہ 10 ارب کا نقصان ہو رہاہے۔ پاکستان میں 26 سال سے منہ کھر کی بیماریوں میں شدت آ گئی ہے حکومت نے اپنے لائیو سٹاک سیکٹر کو بچانے کے لئے 7 ارب روپے مالیت سے لگنے والے ایک بھی ویکسیئن پلانٹ کو نہیں لگایا جبکہ اربوں روپے کی ویکسین برآمدات کر لی گئی جس سے 5فیصد بیماری پر روک تھام نہیں ہو سکا۔ حالانکہ لائیو سٹاک اور ڈیری ہی ایک ایسا شعبہ ہے جس کی مدد سے غربت اور بے روزگاری کاخاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر علمدار حسین کا کہنا ہے کہ پالیسی ساز اور عملی اقدامات کا کسی بھی گورنمنٹ نے کبھی سوچا تک نہیں ہے۔ منہ کھر کی بیماری کو دو طریقوں سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ایک تو یہ سارے جانور مار دیئے جائیں یا پھر کنٹرول ویکسیئن پر عمل درآمد کیا جائے۔ اگر منہ کھر بیماری کی روک تھام میں چند سال دیر کر دی گئی تو زراعت اور لائیو سٹاک سیکٹر پاکستان میں ختم ہو جائے گا اور پاکستان کی رہی سہی معیشت تباہ و برباد ہو جائے گی۔ ریاست اور حکومت کا اولین فرض ہے کہ وہ منہ کھر ویکسین پلانٹ ترجیحی بنیادوں پر لگائے ورنہ ہم کبھی بھی لائیو سٹاک سیکٹر کو بچا نہیں پائیں گے۔ بھارت جیسے ملک میں منہ کھر ویکسین کے 5 پلانٹ ہیں بلکہ وہ ویکسین دنیا کو درآمدات کر رہاہے۔ ہم موٹروے، اورنج ٹرین، میٹرو جیسے منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کر سکے ہیں لیکن لائیو سٹاک پر توجہ دینا پاکستان کے سب منصوبوں سے زیادہ اہم ہے۔ بلکہ یہ سی پیک منصوبہ سے بھی اہم ہے۔

س: پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن اس کے باوجود ملک خوشحالی و ترقی کے لحاظ سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ لائیو سٹاک اور زراعت میں تنزلی کی کیا وجوہات ہیں؟

ج: پاکستان کی 60 فیصد آبادی زراعت کے ساتھ منسلک ہے لیکن زراعت میں چھوٹے کاشت کاروں اور کسانوں کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ گنا، کپاس، چاول اور گندم کی فی ایکڑ پیداوار بہت کم ہے۔ چھوٹی فصلیں دالیں وغیرہ کم ہو گئیں ہیں جس سے مہنگائی ہوئی ہے اور قوت خرید میں کمی آئی ہے۔ پاکستان میں جتنے بھی پالیسی میکرز، پارلیمنٹریشن، صوبائی نمائندے بیوروکریسی کی ہزاروں ایکٹر اراضی ہے لیکن کبھی ان کی عقل میں یہ بات نہیں آئی کہ زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبہ کو کس طرح بہتر کرنا ہے۔ کیونکہ ان کو اشیاء ضروریات گھر بیٹھے مل رہی ہیں مزارعین روایتی طریقہ سے کئی عشرہ سے کام کر رہے ہیں تو ایسی صورت میں پیداوار ی صلاحیتوں میں اضافہ کیسے ہو۔ پاکستان میں واحد لائیو سٹاک ایسا شعبہ ہے جس میں استعداد کار میں اضافہ سے پاکستان کے معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں اور کوئی شعبہ نہیں جس میں اتنی صلاحتیں اور Capacity ہو کہ وہ ملک کی معیشت کو بہتری کی طرف لے کر جا سکیں۔ جو ملکی لائیو سٹاک کی ضروریات پورا کر سکے۔ لیکن حکومت کو ہوش کے ناخن لینے پڑیں گے۔ وفاق میں مستقل اینمل ہینڈری کمشنر عرصہ سے موجود نہیں ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں اینمل ہسبنڈری کمشنر فوکل پرسن کے طور پر لاء سٹاک کی ترقی میں اہم عنصر ہے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں نیشنل لائیو سٹاک پالیسی نہیں ہے۔ تو پھر اس ملک کی لائیو سٹاک کا اللہ ہی حافظ ہو سکتا ہے۔ حکومتی نااہلی اور لاپرواہی کا اس سے بڑا ثبوت اورکیا ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر علمدار حسین ملک نے مزید بتایا کہ عمران خان حکومت میں آنے سے پہلے لائیو سٹاک کی ترقی اور خوشحالی بھینس، بکریوں اور بھیڑوں کی باتیں کرتے تھے۔ اب ان کی وہ باتیں ہوا میں گردش کر رہی ہیں حکومت کی بے حسی کا اندازہ لگائیں کہ ماہرین لائیو سٹاک اور حکومت کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ ملک کو قرضوں اور معیشت کو مضبوط کرنا ہے تو وہ صرف لائیو سٹاک کو اٹھانے سے ممکن ہے۔ وفاقی اینمل ہسبنڈری کمشنر کے اضافی چارج کئی سالوں سے دیا جا رہا ہے۔ لیکن لائیو سٹاک کے ماہرین کی صلاحیتوں سے فوائد حاصل نہیں کئے جا رہے ہیں۔ زراعت میں ناقابل کاشت زمین کو قابل کاشت بنانا ہو گا اور کسان کی پیدا کردہ فصلوں کی قیمتوں میں اضافہ، بجلی کے مسائل، پانی کے مسائل اور اشیاء کی منڈی تک رسائی کو بہتر اور ممکن کرنا ہو گا۔ منڈی اور کسان کی پیدا کردہ اشیاء کی قیمتوں کو درست کرنا ہو گا۔ پھر افراط زر کم اور پاکستانی عوام کو بنیادی اشیاء ضروریات سستی ملی سکتی ہیں۔ کسان اور منڈی کی قیمتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ درمیان میں جو مافیما ہے اس کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ پھر کسان اور زراعت کی خوشحالی اور ملک کی ترقی ممکن ہے۔

س: لائیو سٹاک میں ریسرچ کی کتنی اہمیت ہے اور اس سے ملک کی معیشت پر کیا اثرات پڑتے ہیں؟

ج: لائیو سٹاک کی ریسرچ پر حکومت اربوں کا بجٹ جاری کرتی ہے تاکہ لائیو سٹاک کی ریسرچ سے ملک میں زارعت اور جانوروں کے علاوہ پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ ہو لیکن لائیو سٹاک کی ریسرچ کے نام پر تمام رقم اصل مقاصد پر خرچ نہیں کی جاتی۔ جس سے ملکی سطح پر نقصان ہو رہاہے۔ پاکستان میں Breed Improvement پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان دودھ پیداوار کرنے والا چوتھا ملک ہے لیکن منہ کھر کی بیماری کی وجہ سے یہ دودھ برآمدات نہیں ہوتا ہے۔ پاکستان اب تک سالانہ صرف 185 ملین گوشت برآمد کرتا ہے۔ملک میں گنا، چاول، گندم، کاٹن کی مالیت سے دودھ کی پیداواری مالیت زیادہ ہے لیکن افسوس کہ پاکستان میں ماہرین لائیو سٹاک کی صلاحیتوں سے فوائد حاصل نہیں کئے جا رہے ہیں بلکہ ان کو نظر انداز کیا جا رہاہے۔ ریسرچ کے نام پر اربوں روپے بے دریغی سے استعمال کئے جا رہے ہیں لیکن ریسرچ صفر ہے اس کی بھی ٹوٹل ذمہ دار حکومت ہے۔ وہ کیوں نہیں چیک اینڈ بیلنس رکھتی ہیں۔

س: عام نظام تعلیم اور لائیو سٹاک کے نظام میں کیا فرق ہے؟ لائیو سٹاک کی تعلیم کی کیا مشکلات اور نقائص ہیں؟

ج: عام نظام تعلیم میں پہلی جماعت سے دسویں جماعت تک نصاب میں زراعت اور لائیو سٹاک کی تعلیم کو شامل کرنا بہت ضروری ہے تاکہ طلباء میں لائیو سٹاک کی تعلیم سے دلچسپی کے عناصر پیدا ہوں اس طرح طلباء ذہن سازی ہو گی اور وہ میٹرک کے بعد لائیو سٹاک کی تعلیم کو ترجیح دیں گے۔ ایف ایس سی کے بعد طلباء میں ڈاکٹر، فارمیسی کی ڈگری یا انجینئیرنگ کی ڈگری لینے کا رحجان ہے وٹرینری یعنی ڈی وی ایم میں طلباء حادثاتی طور پر آ جاتے ہیں۔ ڈی وی ایم اور لائیو سٹاک کے متعلقہ ڈیری اور پولٹری کی بی ایس کی ڈگریوں کی اہمیت و افادیت کے سلسلہ میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے لائیو سٹاک کا نصاب گوروں کا بنایا ہوا ہے اور وہ ترقی یافتہ ممالک کے ماحول اور معیشت و زراعت کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ لائیو سٹاک کے نصاب میں ترامیم اور تبدیلیاں لانے کی بھی اہم ضرورت ہے۔ پھر وٹرینری ڈاکٹرز کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ وہ فارغ التحصیل ہو کر وٹرینری تعلیمی اداروں سے نکلتے ہیں تو صرف ان کے پاس ڈی وی ایم کی ڈگری ہوتی ہے۔ پریکٹیکل تجربہ بالکل نہیں ہوتا ہے جس سے مشکلات پیدا ہوتی ہیں ترقی یافتہ ممالک میں وٹرینرین کی بہت عزت کی جاتی ہے سوسائٹی ان کو اُون کرتی ہے۔ لیکن پاکستان میں ڈنگر ڈاکٹر کہتی ہے۔ وٹرینری ڈاکٹروں کو سوسائٹی کو اُون کرنا ہوگا اور ان کی معاشرہ اور لائیو سٹاک سیکٹر میں اہمیت و افادیت کو سمجھنا ہوگا۔

٭٭٭

س: پاکستان میں پولٹری اور ڈیری کی صنعت کا کیا سکوپ ہے؟ پولٹری اور ڈیری لائیو سٹاک کو کس طرح سپورٹ کرتا ہے؟

ج: پاکستان میں لائیو سٹاک کے صرف دو شعبہ جات پولٹری اور ڈیری ہیں۔ جن میں سکوپ اور بہتری آئی ہے۔ 1960ء سے پولٹری کی طرف رحجان دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ اس میں کم سرمایہ سے بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر میں پولٹری نے بہت ترقی کی ہے اور جانوروں کی نسبت مرغی کے گوشت کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے ڈیری میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے شائد اس کی وجہ سے ڈیری میں پاکستان میں اتنی ترقی نہیں کہ جتنی کہ کرنی چاہئے تھی اگر ان لائیو سٹاک کے دونوں شعبہ جات کو حکومتی یا ریاستی سرپرستی حاصل ہوتی تو پھر شائد نتائج اس سے بہت بہتر برآمد ہوتے۔ پولٹری میں لوگوں کی دلچسپی بڑھ گئی ہے کیونکہ تھوڑا سرمایہ سے چند دنوں میں اس سے سرمایہ کاری کر کے اچھے نتائج سامنے آتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں Culling Process سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے ہیں اور Breed Imporvement سے بھی بہتری آتی ہے۔ افسوس کہ پولٹری اور ڈیری کے لئے سرمایہ کرنے کے لئے بنک لون نہیں دیتے ہیں اگر یہ لون دینا شروع کر دیں تو اس سے بھی زیادہ ڈیری اور پولٹری میں ترقی اور خوشحالی آئے۔ جس سے ملک کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں۔ ڈیری اور پولٹری میں سکوپ بہت زیادہ ہے۔ ملک میں پولٹری واحد ڈویلپمنٹ سیکٹر کا حصہ ہے۔ لیکن لائیو سٹاک کی اوور آل صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔ حکومت کو پولٹری کی سرپرستی ضرور کرنی چاہئے۔ پاکستان اگر زرعی ملک ہے تو وہ بھینسوں کی اقسام اور دودھ کی پیداوار کی وجہ سے ہے۔ اگر کراچی کو دیکھا جائے تو کراچی میں گوالہ کالونی میں 4 لاکھ بھینسیں ہیں لیکن دودھ باحفاظت محفوظ نہ ہونے کے سبب یہاں کے گوالے 90 فیصد خسارے میں ہیں۔

س: لائیو سٹاک کی بہتری و خوشحالی کے لئے حکومت کو کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟

ج: لائیو سٹاک سی پیک سے بھی اہم منصوبہ ہے۔ جبکہ لائیو سٹاک بہت نقصان میں جا رہا ہے لیکن حکومت صرف کاغذی کارروائیوں کے سوا کچھ نہیں کرتی۔ ترقی یافتہ ممالک میں پالیسی میکرز لائیو سٹاک پر عبور رکھتے ہیں لیکن پاکستان کے پالیسی میکرز لائیو سٹاک کو بھیڑ بکری میں بنیادی فرق کا پتہ نہیں ہے اگر لائیو سٹاک کے مستقبل کو سنبھالا نہ دیا گیا تو یہ ملک ایتھوپیا بن جائے گا۔ لائیو سٹاک میں فی جانورو پیداوار اضافہ نہیں ہوتا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک میں بیماریوں کی جانوروں میں روک تھام کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان میں لائیو سٹاک میں بہتری نہ آنا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری قبول کرنا نہیں ہے۔ ریاست اور حکومت پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور اہم ذمہ داریاں قومی لائیو سٹاک پالیسی 'Breed Imporvement' اور لائیو سٹاک کے حوالہ سے موثر قانون سازی ہے۔ لائیو سٹاک میں کوالٹی کو بہتر کرنا بہت ضروری ہے۔ گورنمنٹ سیکٹر میں ڈیری کے نتائج نہ ہونے کے برابر ہیں بلکہ پرائیویٹ سیکٹر پولٹری میں بھی حکومت کی کارکردگی نہ ہونے سے مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ جو کہ گورنمنٹ نہیں کر رہی ہے۔ ہمارے دودھ کی سالانہ پیداوار 58 ارب لیٹر سالانہ کی ہے جس میں صرف 3% کمرشل بنیادوں پر استعمال ہوتا ہے۔ باقی لسی، دہی، کھیر اور سوہن حلوہ میں استعمال ہوتا ہے اور 20% دودھ ضائع ہو جاتا ہے کیونکہ دودھ کی حفاظت کے لئے اور ان کو منڈیوں تک پہنچانے کے لئے 4 تا 6 گھنٹے ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت کی بے حسی اور پالیسی نہیں ہے۔ جبکہ 10% سے 15% دودھ لوگ خود استعمال کرتے ہیں۔ سردیوں میں دودھ کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے اور مصرف کم ہوتا ہے لیکن اس کی سٹوریج کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ بنیادی اشیاء ضروریات کی پیداوار پر کسان کی لاگت ہی پوری نہیں ہوتی کیونکہ کسان کو جدید زراعت سے آشنا ہی نہیں کروایا گیا اور وہی فصلیں کئی عشروں سے پیدا کی جا رہی ہیں تو پھر کسان کی خوشحالی اور ملک کی خوشحالی کیسے ممکن ہے۔

س: پاکستان وٹرنیری میڈیکل کونسل کے فرائض کیا ہیں؟ اور یہ کس حد تک اپنے فرائض پورا کرنے میں کامیاب رہا ہے؟

ج: پاکستان وٹرنیری میڈیکل کونسل کے بنیادی فرائض تین ہیں۔ ان میں پورے پاکستان میں ڈی وی ایم کا یکساں نصاب بنانا، وٹرنیری پریکٹس کو ریگولر لیٹ کرنا اور وٹرنیری تعلیمی اداروں کی موجودہ سہولیات کی نگرانی مانیٹرنگ اور معیار پر نظر رکھنا ہے۔ جب میں پی وی ایم سی کا سیکرٹری / رجسٹرار تھا تو 2000ء میں یکساں نصاب سازی پر کام شروع کیا اینمل ہسبنڈری 4 سالہ پروگرام کو ختم کر کے 5 سالہ ڈگری پروگرام میں تبدیل کیا گیا۔ پھر 2010ء اور 2014ء کو وٹرنیری نصاب کو revised کیا گیا اور نصاب میں ترامیم اور تبدیلیاں پاکستان کے ماحول اور ملکی ضروریات کو مد نظر رکھ کر کی گئیں۔ پی وی ایم سی پارلیمنٹ ایکٹ کے تحت کام کر رہا ہیے۔ 2000ء کی مسلسل جدوجہد سے اور 2006ء میں سابق صدر پی وی ایم سی ڈاکٹر محمد امجد کے خصوصی تعاون اور کوششوں سے اس کے سالانہ بجٹ میں اضافہ کروایا گیا۔ 2006ء میں اس کی عمارت کیلئے پلاٹ لیا گیا اور CDA بورڈ کمیٹی سے اس کی منظوری لی گئی۔ پاکستان میں اب لاہور، جھنگ، نارروال، فیصل آباد، راولپنڈی، کے پی کے (پشاور، ڈی آئی خان)، سندھ (ٹنڈو جام، سکرونڈ)، راولا کوٹ، بہاولپور، ملتان، لسبیلا اور رفاہ وٹرینری ادارے کام کر رہے ہیں۔ کلینیکل استعداد کار نہ ہونے کے سبب اور گورنمنٹ سیکٹر میں پریکٹس سہولیات کا فقدان ہونے کی وجہ سے وٹرینری ڈاکٹرز عملی میدان میں بھرپور طریقہ سے اپنی توانائیاں استعمال نہیں کر پاتے ہیں۔ ہاں وٹرینری نصاب کو ہائیر ایجوکیشن محکمہ کے ساتھ ان بورڈ بھی کیا گیا۔ میرے دور میں پی وی ایم سی کو بہت سی مشکلات کا سامنا تھا،۔ جس کو بھرپور توانائیاں اور ذاتی کاوشیں بروئے کار لا کر دور کیا گیا۔ لائیو سٹاک پر بھی ایک ٹاسک فورس تشکیل دینی چاہئے۔ جو لائیو سٹاک کا احتساب کرے۔

س: درآمد اور برآمدات میں عدم توازن سے لائیو سٹاک اور زراعت کے شعبہ پر کیا اثرات پڑتے ہیں؟

ج: پاکستان کی معیشت کی ناکامی کا سبب ہماری درآمد اور برآمدات میں عدم توازن ہے۔ 1984ء تا 2007ء تک یہ عدم توازن 3ارب ڈالر تھا جبکہ یہ شرح اب 40 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ وہ محرکات اور اسباب تلاش کرنے چاہئیں جس کے سبب درآمدات و برآمدات میں عدم توازن چلا آ رہا ہے اس کا سدباب کیسے کرنا ہے اور کس طرح ملک کی معیشت میں توازن آ سکتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک میں بنی ہوئی اشیاء کو خریدیں اور بیرونی مصنوعات کو چھوڑ دیں یا ان کی قیمتوں میں اتنا اضافہ کر دیں کہ پاکستانی اس کو خرید نہ سکیں۔ اس کے لئے ہمیں لوکل انڈسٹری کو اوپر لے کر آنا ہوگا انڈسٹری اور زراعت کاچولی دامن کا ساتھ ہے۔ لوکل انڈسٹری کی پروموشن سے زراعت اور لائیو سٹاک میں بھی بہتری آئے گی۔ انڈسٹری کی بقاء کے لئے انٹرنیشنل سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا ہو گی۔ لائیو سٹاک میں بہتری اور برآمدات میں اضافہ کے لئے ٹریننگ بہت ضروری ہے۔ بیرون ممالک غیر متعلقہ افراد تربیت حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں ہماری وزارت تجارت کو اس حوالے سے مزید فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے مقابلہ میں بھارت کی وزارت تجارت کی وجہ سے بھارت میں خوشحالی اور بھارت ترقی کر رہا ہے۔ اگر لائیو سٹاک تنزلی کا شکار ہے تو اس کی وجہ لائیو سٹاک نہیں بلکہ اوپر بیٹھے لوگ ہیں۔ برآمدات پر ڈیوٹی لگانی چاہئے اور لوکل انڈسٹری پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وہ ادارے جو بزنس کمیونٹی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا ، وزارت خوراک کا کام ہے کہ وہ لائیو سٹاک اور درآمدات و برآمدات کی بہتری کے لئے کام کرے۔ حکومتی پالیسی میکرز اداروں میں ماہر جو وٹرنیرین اور لائیو سٹاک ماہرین کی شدید کمی ہے۔

س: وٹرینری ایجوکیشن اور لائیو سٹاک ڈیری اور پولٹری کے لئے لینڈ مارک کمیونیکشن کیا کردار ادا کر رہی ہے؟

ج: لینڈ مارک کمیونیکیشن 2018ء سے پہلی مرتبہ کراچی میں پاکستان پولٹری، ڈیری اینڈ لائیو اسٹاک ایکسپو کا انعقاد کر رہی ہے اور اب تیسری مرتبہ 3 سے 5 جولائی 2020ء اس کا کراچی ایکسپو سنٹر میں انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس مرتبہ پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں اور لائیو سٹاک سے متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کوبھی بھرپور انداز میں اس میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ان کاوشوں سے بھرپور انداز میں لائیو سٹاک ڈیری اور پولٹری کی ترقی اور اس کے درمیان حائل مسائل کو دور کرنے کی سفارشات سے قومی سطح پر لائیو سٹاک اور پولٹری کو اہم مقام حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ یکم تا 2 فروری کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ریجنل آفس لاہور میں ملک کے تمام وٹرینری تعلیمی اداروں کے سربراہان اور پبلک سیکٹر اداروں کے نمائندوں کو اہم مشاورتی اجلاس ہو گا۔ جس کے مقاصد وٹرینری ایجوکیشن کے مسائل کا باہمی طور پر حل نکالا جائے اور زیر تعلیم ڈی وی ایم کے طلبہ و طالبات کو بیمار جانوروں کی تشخیص کے مواقع مل سکیں۔

مزید : ایڈیشن 1