محکمہ ہائر ایجوکیشن میں اعلیٰ افسروں کے تبادلے

محکمہ ہائر ایجوکیشن میں اعلیٰ افسروں کے تبادلے

  



اعلیٰ افسران سالہا سال سے پُرکشش اسامیوں پر فائز تھے

گزشتہ دنوں جب صوبہ بھر کے تمام محکموں میں وسیع پیمانے پر تبادلے کئے گئے تو محکمہ ہائر ایجوکیشن میں پُرکشش عہدوں پر فائز کالج اساتذہ جو سالہا سال وسیع اختیارات سے فائدہ اٹھا رہے تھے اور اس بات کو بھول چکے تھے کہ انہوں نے کبھی کلاس رومز کا رخ بھی کرنا ہے او رجس مقصد کے لئے انہیں پیشہ ء تدریس کے لئے منتخب کیا گیا تھا انہوں نے اس پیشے کا حق بھی ادا کرنا ہے، ان تمام اعلیٰ افسران کو بیک جنبشِ قلم ان کے عہدوں سے تبدیل کر دیا گیا۔ صوبہ پنجاب میں بیورو کریسی جس انداز سے انتظامی اختیارات کا استعمال کرتی ہے اور جو کروفیر اور شان و شوکت بیورو کریسی کی ہے اسی انداز سے جو کالج اساتذہ کبھی ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، پرنسپل، ڈپٹی سیکرٹری، ایڈیشنل سیکرٹری چیئرمین بورڈ، کنٹرولر امتحانات رجسٹرار، سیکرٹری بورڈ، وائس پرنسپل یا کسی بھی انتظامی عہدے پر فائز ہو جاتے ہیں۔ بالعموم ان کا رویہ اپنے رفقائے کار کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا بلکہ جو قبضہ گروپس اور مافیاز ان اداروں میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں بس انہی کا سکہ چلتا ہے۔ راقم الحروف نے 35سال سے زائد عرصہ محکمہ ہائر ایجوکیشن میں گزارا ہے اور ان گناہ گار آنکھوں نے جو کچھ دیکھا، اسے بیان کرنا مشکل ہے۔

یہ تبادلے جب عمل میں آئے تو ان پر مختلف تبصرے کئے گئے کسی نے کہا کہ فلاں افسر کا تو ریٹائرمنٹ میں ایک مہینہ رہتا تھا کسی نے کہا فلاں کی تو مدتِ عہدہ ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔ آپ یہ بتائیں کہ کیا محکمہ ہائر ایجوکیشن میں صرف چند لوگ ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے کے قابل ہیں۔ کیا جب اساتذہ کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جاتا ہے تو ان کی قابلیت، تجربہ اور صلاحیت کو دیکھا جاتا ہے یا سیاسی دباؤ، مضبوط سفارش اور اسی طرح کے دیگر عوامل کو دیکھا جاتا ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تدریس ایک مقدس پیشہ ہے لیکن سیاسی حکومتیں ہی نہیں مارشل لاء اور فوجی حکومتوں کے ادوار میں بھی کالج اساتذہ مضبوط سفارشوں کے بل بوتے ُر اعلیٰ عہدوں کے حصول میں ہمیشہ کامیاب رہے ہیں۔ گزشتہ چالیس سالوں میں تقریباً بیس سے پچاس تک کالج اساتذہ سالہا سال تک اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہے اور سینکڑوں ہزاروں اساتذہ پرنسپل اور ڈائریکٹر ایجوکیشن کے عہدوں پر فائزرہے۔ ہم نے کسی زمانے میں بھی سرکاری شعبے میں تعلیم کو اپنے اعلیٰ ترین معیار پر نہیں دیکھا اور نہ ہی اعلیٰ ترین مقاصد کا حصول کہیں نظر آیا ہے۔ اس کے برعکس پرائیویٹ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے مالکان نے اس شعبے میں کمرشل ازم کو فروغ دے کر کروڑوں، اربوں اور کھربوں روپے کما لیا ہے۔ سرکاری اور نجی شعبوں کی کاوشوں کا کوئی مثبت نتیجہ تو برآمد نہیں ہوا البتہ ایک ماہر تعلیم نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ جس ملک میں تمام درختوں کی شاخیں ہری بھری اور سرسبز و شاداب نہ ہوں وہاں صرف آپ تعلیمی شعبے کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1