ڈیرہ اسماعیل خان، فلور ملزسرکاری گندم کاکوٹہ بلیک میں فروخت کرنے لگیں  

ڈیرہ اسماعیل خان، فلور ملزسرکاری گندم کاکوٹہ بلیک میں فروخت کرنے لگیں  

  



ڈیرہ اسماعیل خان(بیورو رپورٹ)آٹا بحران کی آڑ میں فلور ملز اور محکمہ خوراک کی چاندی، محکمہ خوراک کی مبینہ ملی بھگت سے ڈیرہ اسماعیل خان میں فلور ملز کو ملنے والا سرکاری گندم کا کوٹہ بلیک مارکیٹ میں فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ 5فلور ملیں حکومتی کوٹے کے حصول کیلئے ”فرضی“ چلنے لگیں، روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کی بند بانٹ جاری ہے، تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخواہ میں جاری گندم بحران کے حوالے سے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق صوبے میں جاری گندم بحران سے نمٹنے کیلئے صوبائی حکومت کی ہدایات پر ڈیرہ اسماعیل خان میں محکمہ خوراک کی وساطت سے ڈیرہ اسماعیل خان میں فلورملز کے ذریعے سستے اور،معیاری آٹے کی فراہمی کیلئے 22سو بوری گندم کا سرکاری کوٹہ مختص کیا گیا ہے جس میں ڈیرہ اسماعیل خان کی کل 7فلور ملز فائدہ اٹھا رہی ہیں جبکہ ایک فلور مل”کنڈی فلور ملز“ متازعہ ہونے کے باعث بند ہے۔ اس حوالے سے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں صرف دو فلور ملز باہو فلور ملز اور مغل فلور ملز سارا سال متواتر چلتی ہیں جبکہ دیگر 5فلور ملز جن میں مکہ فلور ملز، رومی فلور ملز، سردار فلور ملز، نصیب فلور ملز اور سرحد فلور ملز شامل ہیں صرف بحرانی حالات کے دنوں میں سرکاری کوٹے کے حصول کیلئے چلائی جاتی ہیں جس کی تصدیق ان فلور ملز کے بجلی کے بلوں اور دیگر دساویزات سے کی جاسکتی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حالیہ بحران کے دنوں میں یہ فلور ملز سرکاری کوٹے کے حصول کیلئے چالو ہیں تاہم ”سیزنل“ چلنے والی فلور ملز کے مالکان 355بوری یومیہ سرکاری گندم کے کوٹے کا بیشتر حصہ اوپن مارکیٹ میں بلیک پر فروخت کر دیتے ہیں اور اس کھیل میں محکمہ خوراک کے ذمہ داران بھی پوری طرح سے حصہ دار ہیں۔ ذرائع کے مطابق اوپن مارکیٹ میں سرکاری کوٹے کی گندم کی بلیک میں فروخت سے یومیہ کے حساب سے355بوری سرکاری گندم کی فروخت سے یہ مافیا 2لاکھ روپے تک کا منافع کماتا ہے جس میں محکمہ خوراک کے ذمہ داران حصہ ملنے کے باعث کسی کاروائی سے گریزاں اور اس گھناؤنے کھیل کا حصہ ہیں۔

آٹا بلیک

مزید : صفحہ اول