سانگھڑ سے منتخب ہو کر تھر میں سکول بنانے کا دعویٰ کررہے ہیں ،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اثاثہ جات کیس میں رکن سندھ اسمبلی پر برہم

سانگھڑ سے منتخب ہو کر تھر میں سکول بنانے کا دعویٰ کررہے ہیں ،چیف جسٹس سندھ ...
سانگھڑ سے منتخب ہو کر تھر میں سکول بنانے کا دعویٰ کررہے ہیں ،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اثاثہ جات کیس میں رکن سندھ اسمبلی پر برہم

  



کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ ہائیکورٹ غیرقانونی اثاثے سے متعلق کیس میں رکن سندھ اسمبلی علی غلام نظامانی پر برہم ہو گئی ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سانگھڑ سے منتخب ہوکر تھر میںسکول بنانے کا دعویٰ کر رہے ہیں،عدالت نے رکن سندھ اسمبلی علی غلام نظامانی کے غیر قانونی اثاثے بنانے سے متعلق نیب انکوائری رپورٹ طلب کرلی۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں جسٹس عمر سیال پر مشتمل بینچ کے روبرو رکن سندھ اسمبلی علی غلام نظامانی کے غیرقانونی اثاثے بنانے سے متعلق نیب انکوائری پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس ہائیکورٹ علی غلام نظامانی پر برہم ہوگئے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کتنی بار سندھ اسمبلی کے رکن بنے ہیں؟ رکن اسمبلی نے جواب دیا کہ تیسری بار رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوا ہوں، عدالت نے استفسار کیا کہ ایم پی اے فنڈ سے علاقے میں کتنے ترقیاتی کام کرائے؟ عدالت نے علی غلام نظامی سے استفسار کیا کہ کتنے سکول اور ہسپتال بنوائے ہیں؟ علی غلام نظامانی نے جواب دیاتھر میںسکول بنوائے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سانگھڑ سے منتخب ہوکر تھر میںسکول بنانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

سانگھڑ میں صرف دروازے بنوائے ہیں یہی کارکردگی ہے آپ کی، پراسیکیوٹر نیب نے موقف دیا کہ علی غلام نظامانی کی 386 ایکڑ زمین اور 25 بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا ہے، علی غلام نظامانی کیخلاف تحقیقات جاری ہیں،عدالت نے نیب سے علی غلام نظامانی کے خلاف جاری نیب تحقیقات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملزم کی عبوری ضمانت میں بھی 4 ہفتوں کی توسیع کر دی۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /سندھ /کراچی