جماعت اسلامی کی تقریب میں ن لیگی رہنما نے ایسا سوال پوچھ لیا کہ سن کر پی ٹی آئی لیڈر شوکت یوسفزئی ناراض ہو کر اٹھ کر چلے گئے لیکن پھر کیا ہوا؟ جانئے

جماعت اسلامی کی تقریب میں ن لیگی رہنما نے ایسا سوال پوچھ لیا کہ سن کر پی ٹی ...
جماعت اسلامی کی تقریب میں ن لیگی رہنما نے ایسا سوال پوچھ لیا کہ سن کر پی ٹی آئی لیڈر شوکت یوسفزئی ناراض ہو کر اٹھ کر چلے گئے لیکن پھر کیا ہوا؟ جانئے

  



پشاور (ویب ڈیسک)پشاور میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام منعقدہ ملٹی پارٹی کانفرنس میں خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے جب مہنگائی کا ذمہ دار مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت کو قرار دیا تو مسلم لیگ ن کے صوبائی ترجمان نے بھی جواب دیا، جس پر صوبائی وزیر برہم ہوگئے۔مرکز اسلامی پشاور میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ملٹی پارٹی کانفرنس منعقد ہوئی، کانفرنس میں تمام اپوزیشن جماعتوں سمیت حکومتی جماعت کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

تقریب کے دوران جب صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے جاری مہنگائی کا ذمہ دار مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت کو قرار دیا اور کہا کہ اگر 30 ارب روپے کے قرضے نہ لیے جاتے تو حالات آج بہتر ہوتے، جس پر ن لیگ کے صوبائی ترجمان اختیار ولی نے شوکت یوسفزئی سے کہا کہ اگر ہم نے 30 ارب روپے کا قرضہ لیا ہے تو آپ کی حکومت نے کتنا قرضہ لیا؟

وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے سوال کا جواب دینے کی بجائے ناراضی کا اظہار کیا اور اپنی نشست سے اٹھ کر چل پڑے۔ جس پر میزبان جماعت کے صوبائی امیر سینیٹر مشتاق احمد خان نے معذرت کرتے ہوئے انہیں واپس بیٹھنے کو کہا تو شوکت یوسفزئی دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھ گئے اور کہا کہ آپ ایسے لوگوں کو کیوں بلاتے ہیں جن کے آنے سے بدمزگی پیدا ہوتی ہے، اگر آپ نے ان لوگوں کو بلانا ہو تو مجھے نا بلایا کریں۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور