کرونا وائرس دراصل کیسے پھیلتا ہے؟ چمگادڑوں پر سائنسی ریسرچ میں انتہائی حیرت انگیز انکشاف

کرونا وائرس دراصل کیسے پھیلتا ہے؟ چمگادڑوں پر سائنسی ریسرچ میں انتہائی حیرت ...
کرونا وائرس دراصل کیسے پھیلتا ہے؟ چمگادڑوں پر سائنسی ریسرچ میں انتہائی حیرت انگیز انکشاف

  



بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چینی سائنسدانوں کی تحقیقات میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ووہان سے پھیلنے والا خوفناک کرونا وائرس چمگادڑ کے باعث پھیلا۔ اب سائنسدان مزید تجربات کر رہے ہیں جن میں یہ پتا چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ وائرس ارتقائی عمل سے کیسے گزرا اور کیسے موجودہ شکل پا کر انسانوں میں منتقل ہوا۔ میل آن لائن کے مطابق ان تحقیقات میں سائنسدان نہ صرف اس وائرس کا علاج دریافت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے اس وائرس کی تشخیص کا ایک آسان اور مو¿ثر طریقہ بھی دریافت کر لیا ہے۔ اس طریقے میں مریض کے پھیپھڑوں کے نمونے درکار ہوں گے۔

ان تجربات میں سائنسدانوں چمگادڑ کے ڈی این اے پر کام کر رہے ہیں اور اس کے ذریعے اس وائرس کے نمو پانے اور ارتقائی عمل سے گزر کر اس نئی شکل میں آنے کے مراحل کو جاننے کی سعی کر رہے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر اس تحقیق میں کامیابی ملتی ہے تو ان جگہوں کی نشاندہی کرنے میں بھی مدد مل سکے گی جہاں مستقبل میں اس وائرس کے پھوٹنے کا خدشہ ہو گا اور اس کا پیشگی تدارک ممکن ہو سکے گا۔ ان تجربات میں سائنسدانوں نے ایک بار پھر تصدیق کی ہے کہ یہ وائرس کسی درمیانی وسلے سے چمگادڑ کے ذریعے ہی ووہان میں پھیلا۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ درمیانی وسیلہ ممکنہ طور پر سانپ ہو سکتا ہے، جس کا گوشت ووہان کی گوشت مارکیٹ میں عام فروخت ہوتا ہے۔

مزید : بین الاقوامی