کرونا وائرس چین میں مسلمانوں کے لیے عذاب بن گیا، انتہائی پریشان کن خبر آگئی

کرونا وائرس چین میں مسلمانوں کے لیے عذاب بن گیا، انتہائی پریشان کن خبر آگئی
کرونا وائرس چین میں مسلمانوں کے لیے عذاب بن گیا، انتہائی پریشان کن خبر آگئی

  



بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والی کرونا وائرس کی آفت چینی صوبے ژن جیانگ بھی پہنچ گئی جہاں اکثریت یغور مسلمانوں کی ہے اور اس وقت 10لاکھ سے زائد یغور مسلمان ازسرنوتعلیم کے نام پر حراستی کیمپوں میں قید ہیں، جن پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ بزنس انسائیڈر کے مطابق ژن جیانگ میں گزشتہ روزدو افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

مقامی محکمہ صحت کے مطابق ایک 47سالہ مریض کا نام لی اور دوسرے 57سالہ مریض کا نام گو ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں افراد حال ہی میں ووہان گئے تھے جہاں سے انہیں یہ وائرس لاحق ہوا۔ ژن جیانگ میں اس وائرس کے پہنچنے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اورطبی ماہرین کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں حراستی کیمپوں میں قید مسلمانوں تک اگر یہ وائرس پہنچ گیا تو بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خطرہ ہو گا کیونکہ وہ انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں وہاں قید ہیں۔ ان جیلوں میں صفائی ستھرائی کا انتظام بہت ناقص ہے اور قیدیوں کو طبی سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ چنانچہ ان لوگوں کے اس انفیکشن کا شکار ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ژن جیانگ میں 465حراستی کیمپ موجود ہیں جن میں 10لاکھ سے زائد یغور مسلمان قید ہیں۔

مارچ 2018ءمیں ایک حراستی مرکز سے فرار ہونے والی سیراگل ساﺅتابے نامی لڑکی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ”اس کیمپ میں 16مربع میٹر کے ایک سیل میں 20سے زائد لوگوں کو رکھا جاتا ہے۔ ہر سیل میں پلاسٹک کی ایک بالٹی رکھی ہوتی ہے جسے تمام لوگ بطور ٹوائلٹ استعمال کرتے ہیں اور وہ بالٹی دن میں صرف ایک بار خالی کی جاتی ہے۔ وہاں کھانا انتہائی کم اور ناقص دیا جاتا ہے اور سونے بھی نہیں دیا جاتا۔ “ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان حالات میں اگر وائرس ان کیمپوں تک پہنچ گیا تو بڑے نقصان کا خطرہ ہے۔

مزید : بین الاقوامی